Daily Mashriq


بے زر کا بھی خدا

بے زر کا بھی خدا

رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا رشوت دے کر رہا ہوگیا۔ وہ جانتا تھا کہ ایک دن اس نے پکڑا جانا ہے اور پکڑے جانے یا گرفتار ہونے کے بعد اپنے آپ کورہا کرانا بھی ہے۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس دنیا میں نہ بہن کرے نہ بھیا جو کرے روپیہ۔ اسے علم تھا کہ روپوں پیسوں میں بڑی طاقت ہے۔ جبھی وہ ہر جائز اور ناجائز طریقے سے پیسہ پیدا کرکے اسے اپنے قابو میں رکھتا اور اس کی گنتی یا حجم میں اضافہ کرتا رہتا۔ کہتے ہیں اک سادھو نے نجانے کتنے رت جگے کاٹ کر کتنے جتن اور تپسیا کرکے دریا کے پانی پر چل کر اسے عبور کرنے کی شکتی حاصل کر لی لوگ اس کی اس صلاحیت کمال یا شکتی کو بڑی رشک کی نظر سے دیکھنے لگے اسے بھگوان کا اوتار مان کر اس کی پوجا پاٹ کرنے لگے۔ ایک بار اس نے دریا کے پانی پر چل کر دریا پار کیا تو اس نے دریا کے اس پار اپنے ایک چیلے کو کھڑے پایا۔ ارے تو۔ تو کیسے پہنچ گیا دریا کے اس پار۔ سادھو نے اپنے چیلے سے پوچھا۔ جس کے جواب میں چیلا رام رام کرتے بولا۔ میں نے پیسے جمع کئے مہاراج اور خرید لی اک نیا اور اس کا چپو اور بن گیا مانجھی۔ میں نے اپنی نیا کو دریا کے پانی میں اتارا ،اس پر بیٹھا، چپو چلایا اور پہنچ گیا میں گنگا کے اس پار۔ واہ رے!! سادھو مہاراج اپنے چیلے کی زبانی دریا پار کرنے کی بپتا سن کر تکتا رہ گیا اس کے منہ کو۔ گویا جو شکتی سادھو مہاراج نے رت جگے کاٹ کر اور برسوں کی تپسیا کرکے حاصل کی تھی اس کے چیلے نے پیسے خرچ کرکے یا پیسے کے زور سے حاصل کرلی۔ یہ ہے روپوں پیسوں کی طاقت۔ اگر وہ کشتی یا نیا نہ بھی خریدتا۔ تھوڑے سے سکے کسی کشتی والے کو دیتا تو وہ اسے دریا کے اس پار پہنچا دیتا۔ روپوں پیسوں اور دھن دولت کے اس کمال یا طاقت کو ہر کس و ناکس جانتا ہے جبھی تو وہ رات دن مایا جال میں پھنسا دھن دولت تلاش کرتا رہتا ہے جس کے لئے اسے جان جوکھوں میں ڈال کر، محنت مزدوری کوشش اور مشقت کے مرحلے طے کرنے پڑتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ روپوں پیسوں یا دھن دولت کے آگے برسوں کی تپسیا بھی ٹمٹماتا چراغ بن جاتی ہے۔ ابتلاء کے ہر دور میں کام آتا ہے یہ دھن دولت اور روپے پیسہ۔ ہر مشکل کو حل کردیتی زر و دولت کی پونجی ، جبھی تو کسی پرانے اور سیانے نے کہا ہے

اے زر تو خدا نیست و لیکن

مشکل کشا و قاضی الحاجاتی

کہتے ہیں پیسے والے کے سر کا ہر بال بھی تار زریں ہوتا ہے اور اس کے بالوں میں رینگنے والی جوں بھی خانم جان کے لقب سے پکاری جاتی ہے۔ جب کہ کوئی کسی غریب ملا کی اذان بھی سننا گوارا نہیں کرتا۔ پیسہ کمانا بری یا معیوب بات نہیں۔ لیکن اسے ناجائز طریقوں سے کمانا کسی سے چھیننا یا ہتھیانا مناسب نہیں۔ لیکن وہ جو عقل و شعور کے اندھے اور حق راستی کو جھٹلاتے رہتے ہیں اکثر کہتے پائے گئے ہیں کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔ محبت کی بہت سی قسموں میں سے دھن دولت اور روپوں پیسوں سے محبت کرنا بھی شامل ہے۔ یہ الگ بات کہ اسے حرص و ہوس اور لالچ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ آپ اسے لاکھ حرص اور لالچ کہتے رہیں۔ روپوں پیسوں اور دھن دولت جائز یا ناجائز طریقوں سے پیدا کرنے والے آپ کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال باہر کریں گے اور مگن رہیں گے اپنی تجوریوں کو بھرنے میں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں ناجائز طریقوں سے حاصل کی گئی دھن دولت آنے والے برے وقتوں میں ان کا بھر پور ساتھ دے گی۔ وہ اگر رشوت لیتے ہوئے پکڑے گئے تو رشوت دے کر باہر نکل آئیں گے اور پھر بھول کر بھی مجھے کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا نہ کہیں گے۔ اللہ بہتر جانتا ہے نواز شریف پر منی لانڈرنگ کا الزام کس حد تک درست ہے۔ قوم کی لوٹی ہوئی دولت بیرون ملک منتقل کرکے ملک اور قوم کا دیوالیہ کردیا۔ بھرکس نکال دیا قوم والوں کا۔ لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں میں دھکیل دیا ان بے چاروں قسمت کے ماروں کو، بھاری بھرکم قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ساری قوم کے لوگوں کو، غربت لکھ دی ان کی قسمت میں اور خود قوم کی ساری دھن دولت لوٹ کر بیرون ملک منتقل کرتا رہا۔صرف نواز شریف ہی نہیں دولت کے سب ہی پجاری اس بات کو بھول جا تے ہیں کہ وہ اس دنیا میں محدود مدت کے لئے آئے ہیں ، ان کو احساس تک نہیں رہتاکہ قارون کے خزانے اس کو اور اس کے خزانوں کو زمین میں دھنسنے سے نہ بچا سکے، قارون موسیٰ علیہ السلام کا رشتہ دار تھا، لیکن وہ موسیٰ کلیم اللہ کی طرح خدا پرست نہیں تھا ، دولت پرست تھا، اور وہ اس کے حصول کے لئے ہر ناجائز ذریعے کو جائز سمجھتا تھا ، اپنے خزانوں کو بھرتے رہنا اس کی زندگی کا مقصد تھا، کم تولتا، دھوکہ دہی کرتا ، ذخیرہ اندوزی کا مرتکب ہوتا، ملاوٹ ، چور بازاری اور اس قسم کی بہت سی قباحتوں کو اپنے حرص اور لالچ بھرے دل میں پالتا رہتا ، سود خور تھا کمبخت، جس کے نتیجے میں اس کے ہاں دولت کے انبار لگ گئے ۔ بڑا گھمنڈ تھا اسے اپنی دولت کے انباروں پر خزانوں کی چابیاں لدھے اونٹوں کی قطاریں، سونے چاندی کے محلات، نوکر چاکر ، لونڈیاں باندیاں ، پروٹوکول ، کیا کچھ نہیں تھا اس کے پاس ، لیکن جب اللہ نے چاہا تو وہ سارا غرور ساری کرو فر، ساری آن بان مٹی میں مل کر مٹی ہوگئی۔ یقین جانئے جن لوگوں کے پاس کچھ نہیں ہوتا ، ان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے ، ایسے ہی تو کسی نے نہیں کہا

زر والوں کا سودا ہے بے زر کا بھی خدا

پر والے اڑ جائیں گے بے پر کا بھی خدا

متعلقہ خبریں