عدالت میں سیاست' سیاست میں عدالت

عدالت میں سیاست' سیاست میں عدالت

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کرنے کے لئے حکومتی بنچوں کی جانب سے خیبر پختونخوا اسمبلی میں قرار داد جمع کرادی گئی ہے۔ جواب میں مسلم لیگ (ن) نے مبینہ طو پر بد عنوانی اور نا جائز بھرتیوں پر سپیکر کے پی اسمبلی اسد قیصر اور خیبر بنک سکینڈل کے کردار جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ مظفر سید کے خلاف الزامات کی عدالتی تحقیقات کے مطالبہ پر قرار داد جمع کرالی ہے۔ مرکز میں حکمران جماعت (ن) لیگ نے واضح کیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کسی صورت استعفیٰ نہیں دیں گے اور حکومت کسی دبائو میں نہیں آئے گی۔ وزیراعظم نواز شریف اپوزیشن جماعتوں کے کسی بھی قسم کے دبائو میں آئے بغیر 2018 تک اپنے عہدے پر موجود رہیں گے۔ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے جن کا اعلان خود وزیراعظم نوازشریف کریں گے، لہذا کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ انتخابات 2018 سے پہلے ہوسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی 2018 قریب آئے گا، حکومت مخالف تحریکیں بڑھ چڑھ کر سامنے آئیں گی، لیکن ہم کسی بھی دبائو میں آئے بغیر اپنی مدت مکمل کریں گے ۔لیگی رہنما نے کہا کہ اس وقت صرف پاناما لیکس کو بنیاد بنا کر تمام جماعتیں ہمارے خلاف احتجاج کررہی ہیں، لیکن جس طرح 4 سال گزر گئے، اسی طرح یہ ایک سال بھی مکمل ہوجائے گا ۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے تاریخی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)کے اعلی افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی)بنانے کا حکم دیا جسے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)نے فتح قرار دیا، جبکہ تحریک انصاف بھی اس فیصلے کو اپنی جیت تصور کررہی ہے۔دوسری جانب پاناما لیکس کیس کا فیصلہ آنے کے بعد اپوزیشن کی تین بڑی جماعتوں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور جماعتِ اسلامی نے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان 28 اپریل کو اسلام آباد میں جلسے کا اعلان کرچکے ہیں۔گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں بھی وزیراعظم کے استعفیٰ کی باز گشت سنائی دی، جبکہ اس دوران ایوان میں اپوزیشن کی طرف سے گو نواز گو کے نعرے بھی لگائے گئے۔وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کرنے والے صرف سیاستدان ہی نہیں لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی وزیر اعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر وزیراعظم مستعفی نہ ہوئے تو وکلا ملک گیر تحریک چلائیں گے۔مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل سے قبل ہی مستردکی جا چکی ہے اور اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اس کو یک زبان ہو کر رد کر دیا ہے۔پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے پاناما کیس میں جے آئی ٹی کی تشکیل کو مشترکہ طور پر رد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جے آئی ٹی بنانی ہے تو سپریم کورٹ کے تین ججوں یا ہائی کورٹ کے چاروں ججوں کی جے آئی ٹی بنائی جائے ۔ سرکاری ادارے کیسے وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کریں گے۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا ہے۔ عمران خان کاکہنا ہے کہ ایک طرف سپریم کورٹ پہلے کہہ چکی ہے کہ پاکستان میں انصاف کے ادارے مفلوج ہو چکے ہیں، ان کو وزیر اعظم کنٹرول کرتا ہے اور یہ وزیراعظم کے خلاف کارروائی نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان اداروں نے کام کرنا ہوتا تو اب تک وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کر چکے ہوتے۔جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا ہے کہ ہمارا اور مشترکہ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ معاملے کی آزادانہ تحقیقات کے لیے نواز شریف استعفیٰ دیں کیونکہ اگر وہ اس بڑے عہدے پر رہتے ہیں تو تحقیقات کیسے ہوں گی؟ ملکی سیاسی جماعتوں نے عدالت میں سیاست اور سیاست میں عدالت کا جو رویہ اختیار کر رکھا ہے وہ ملکی صورتحال اور خود جمہوریت کے لئے کوئی نیک شگون نہیں اور نہ ہی یہ ملک و قوم کی کوئی خدمت اور نہ ہی سیاست ہے۔ کم از کم وہ جماعتیں جو اس معاملے کو لے کر عدالت گئی تھیں ان کو بالخصوص اور دیگر جماعتوں کو بالعموم جے آئی ٹی رپورٹ اور عدالت کے فیصلے کاانتظار کرلینا چاہئے۔ سیاسی فیصلے عدالت سے نہیں ہوتے عدالتوں سے قانون اور شواہد کے مطابق ہر کس و نا کس کی خواہشات کے نہیں عدالت کی صوابدید اور قانون کی روشنی میں ہوتے ہیں۔ خواہ اس فیصلے سے کسی کی سیاست متاثر ہوتی ہو یا کسی کی عزت دائو پر لگتی ہو۔ سیاسی جماعتوں نے اسمبلیوں کو بھی اکھاڑہ بنا لیا ہے جہاں زیادہ تر نورا کشتی لڑی جاتی ہے اور کبھی کبھار ہی معاملات پر سنجیدگی اختیار کی جاتی ہے۔ پانامہ پیپرز پر ایوان میں اور سڑکوں پر جتنی بھی سیاست کرنی ہے وہ سیاسی جماعتوں کی مرضی ہے مگر عدالت کی جانب سے تحقیقات کا جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اگر وہ منظور نہیں تو عدالت سے نظر ثانی کی درخواست کی جاسکتی ہے مگر اس معاملے پر سیاست کرنے کی گنجائش نہیں۔ اس ضمن میں اختلاف رکھنے والی سیاسی جماعتیں جس میں حزب اختلاف کی تقریباً ساری جماعتیں ہی شامل ہیں قانونی راستہ اختیار کریں اگر ان کا مقصد و مدعا پانامہ پیپرز کی روشنی میں تحقیقات کرنا ہے اور وزیر اعظم کو استعفیٰ دلانا مقصود ہے۔ اس ضمن میں مسلم لیگ کی قانونی اور سیاسی تیاری واضح ہے جو عدالت کے احترام کی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیا نظیر قائم کرنے جا رہی ہیں۔ اگر مسلم لیگ(ن) حزب اختلاف میں ہوتی تو اس کا بھی یہی رویہ ہونا تھا۔ اسمبلیوں میں اگر اس طرح سے کام ہوتا رہے اور عوام کے مسائل اسی طرح پس پشت پڑے رہیں تو آئندہ انتخابات میں کسی سیاسی جماعت کے پاس عوام کے لئے کچھ نہ ہوگا۔

اداریہ