چترال ، سختی کی بجائے نرمی سے کام لیا جائے

چترال ، سختی کی بجائے نرمی سے کام لیا جائے

چترال میں کشید گی کا خاتمہ اور معمول کی زندگی کی بحالی حوصلہ افزاء امر ہے ۔صورتحال کو مزید بہتر بنا نے کا تقاضا ہے کہ جذبات سے مغلوب ہو کر جن افراد سے خلاف قانون افعال سرزد ہوئے ہیں ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا جائے۔ اگر چہ تین سو افراد کے زیر حراست ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے لیکن اس امر کی گنجائش نظر نہیں آتی کہ انتظامیہ نے اتنے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی ہوں اس کے با وجود حالات معمول پر آگئے ہوں۔ تین سو افراد کے لواحقین ہی جمع ہوجائیں تو ہجوم کا بے قابو ہونا فطری امر ہوگا مستزاد افراد کی ایک حساس معاملے میں گرفتاری بھی اشتعال کا اپنی جگہ باعث ہوتا۔ ہمارے تئیں میڈیا پر آنے والی تعداد میں مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہے بہرحال اس امر سے قطع نظر اب جبکہ جذبات ٹھنڈے پڑ گئے ہیں انتظامیہ کو اولاً ان افراد کی رہائی میں نرمی کا مظاہرہ کرنا چاہئے دوم یہ کہ گرفتار ملزم سے تحقیقات اور اس کے نتائج سے عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ اس واقعے کے تناظر میں غیر محسوس جو کشیدگی پورے چترال میں پائی جاتی ہے اس کا بھی خاتمہ ہو ۔ چترال میں صورتحال میں بہتری آنے کے بعد اب یہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ واقعے کی پوری ذمہ داری اور احتیاط سے تحقیقات کر کے جلد سے جلد مقدمے کو عدالت سے نمٹا نے کی سعی کرے تاکہ اصل واقعات اور صورتحال کے سامنے آنے کے بعد اس حوالے سے صورتحال تسلی بخش طور پر معمول پر آجائے ۔ اس واقعے کے دوران جن لوگوں کا نقصان ہو چکا ہے حکومت اس کی تلافی اور معاوضہ کی ادائیگی میں تاخیر نہ کرے۔ انتظامیہ کو سابقہ تجربات کی روشنی میں اس امر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چترال میں حالا ت کو طاقت کے ذریعے کنٹرول کرنا کبھی سود مند نہیں رہا۔ انتظامیہ نرمی اختیار کرتے ہوئے اس معاملے کو آبادی کے درمیان منافرت اور پروپیگنڈے کیلئے استعمال کرنے کو روکنے کی سعی کرے عمائدین اور علمائے کرام سے ہر گائو ں کی سطح پر انتظامیہ کا رابطہ ہونا چاہیئے ۔ جب تک اس مقدمے کے حوالے سے کوئی واضح تصویر سامنے نہ آئے اس وقت تک چترال میں حالات کو معمول پر آنا سمجھنا غلطی ہوگی ۔
شہریوں کی غیر ذمہ داری بھی مسائل کا باعث ہے
ہربار بارشوں کے بعد صوبائی دارالحکومت پشاور میں عملہ صفائی کی ناقص کارکردگی اور شہر کا تالاب کا منظر پیش کرنے کی شکایات معمول کا حصہ ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے اس امر کا جائزہ لیا ہے کہ محولہ تنقید کو بجا قرار دینے کے ساتھ ساتھ کبھی شہر یوں کی جانب سے خود اپنے ہاتھوں اپنے لئے مسائل کھڑا کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ دیکھا جائے تو اس مشکل صورتحال میں شہری بھی بر ابر کے شریک ہیں جہاں بھی کوئی نالی بند ہوئی اورنالے ا بل پڑے ہیں وہاں پر عملہ صفائی جب نالہ کھولنے آتا ہے تو سب سے پہلے نالے کے اندر سے پلاسٹک کے شاپر گٹھڑیوں کی صورت میں باہم بندھے کیچڑ میں پھنسے ہوئے ملتے ہیں جو نالی کی بندش کا باعث بنتے ہیں ۔پانی کا بہائو رک جانے کے باعث باقی ملبہ اور بے دردی سے نالیوں میں پھینکی ہوئی اشیاء کہیں پھنس جاتی ہیں تو شہر کی گلیوں کا تالاب بننا فطری امر ہوتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں جہاں عملہ صفائی کو روزانہ کی بنیاد پر صفائی اور خاص طور پر نالیوں میں رکاوٹیں بننے کا باعث بننے والی اشیاء کو ہٹا نے اور نالی کے کنارے ڈالنے کی بجائے دور پھینکنے کی ضرورت ہے وہاں پر شہریوں کو بھی ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کیلئے شعور اجا گر کرنے کی ضرورت ہے اور اس امر پر اہالیان علاقہ کی سرزنش ہونی چاہیئے کہ وہ خود اپنے ہاتھوں نالیوں کی بندش کے اسباب اختیار کرتے ہیں ۔ اس طرح کی صورتحال حیات آباد سمیت ان تمام علاقوں میں بھی دیکھی گئی ہے جہاں نکاسی کا زمین دوز نظام موجود ہے وہاں پر بھی گٹر ابلنے کی بڑی وجہ پلاسٹک کی تھیلیاں بنتی ہیں ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے پلاسٹک کے تھیلوں کی تیاری پر پابندی اور شہرمیں پلاسٹک کے تھیلوں کے سٹاک کو تین ماہ کے اندر ختم کرنے کی جو ڈیڈ لائن دی گئی ہے وہ حتمی ہونی چاہیئے ۔ پلاسٹک کے تھیلوں کے خاتمے کے بعد امید کی جاسکتی ہے کہ شہر میں نکاسی آب کے نظام میں بہتری آئے گی ۔

اداریہ