Daily Mashriq

جواب آں ہزل کا موسم

جواب آں ہزل کا موسم

جواب آں ہزل کا موسم عروج پر ہے ۔ جسے دیکھو اُن کے منہ سے انگارے برس رہے ہیں ،سوچ رہاہوں بات کہاں سے شروع کروں ۔ آج کل میڈیا پر پانامہ کیس کے فیصلے کی تشریحات و تعبیر ات ہو رہی ہیں جیسے کہ ہم نے اپنی گزشتہ تحریر میںعرض کیا تھا کہ فریقین اس فیصلے پر اگر خوشیاں منارہے ہیںتو ساتھ ہی ایک دوسرے کے خلاف بیانات میں جو زبان استعمال کر رہے ہیں اور جس طرح پھر اُنہیں نجی چینلز پر نمایا ں کیا جا رہا ہے اس سے فضا ء میں ایک نئی قسم کی آلودگی جنم لے رہی ہے جسے ہم بد زبانی کی آلودگی کا نام ہی دے سکتے ہیں۔ ادب میں ہم لکھنو یت کے نام سے ایک اصطلاح پڑھتے آئے ہیں جس میں تہذیب و شائستگی کے وہ رنگ ہیں جس سے کسی قوم کے اخلاقی معیار کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ ہم نے تو یہاں تک سنا تھا کہ کسی زمانے میں لکھنو کے بڑے خاندانوں کے لوگ اپنی اولاد کو گفتگو کے آداب سیکھنے کے لئے ڈومنیوں کے کوٹھوں پر بھیجا کر تے تھے ۔ کوئی سخت لفظ منہ سے نکلنا تو دور کی بات ہے تو اور تم سے بات کرنا بھی حددرجہ بد تہذیبی سمجھی جاتی تھی۔ ایک دوسرے سے اخلاقی مسائل پر گفتگو کے دوران اخلاقیات سے گرا کوئی لفظ منہ سے نکالنا بھی بے حد معیوب سمجھا جاتا تھا ۔ ہمیں میڈیا کے رویئے پر بھی بڑی حیرت ہوتی ہے پرائیویٹ چینلز کے بلٹن کا آغاز سیاسی مخالفین کا ایک دوسرے کے خلاف اُن شہکارا لفاظ سے کیا جاتا ہے جو انہوں نے اپنی تقریروں اور تبصروں میں استعمال کیئے ہوتے ہیں ۔سچ پوچھئے تو آج کل میڈیا پر جواب آں ہزل کے کچھ ایسے مقابلے ہورہے ہیں جو کسی طور بھی تہذیب اخلاق کے معیار پر پورے نہیں اُترتے ۔ہمیں یاد پڑتا ہے کہ سکولوں میں ہمارے استاد ہمیں صحیح زبان بولنے اور تلفظ کی درستگی کے لئے ریڈ یو کی خبریں سننے کی ہدایت کرتے تھے اور ہم اُن کی ہدایات پرعمل کرتے ہوئے انوربہزاد ، شکیل احمد اور تابش دھلوی کی خبرو ں سے شائستہ زبان اور الفاظ کی صحیح ادائیگی سیکھنے کی کوشش کرتے ۔ آج کل اگر کوئی اپنے مخالفین کے خلاف بد زبانی کا ذخیرہ الفاظ جمع کرنا چاہے تو وہ پرائیویٹ ٹی وی چینلزکے ٹاک شوز اور خبر ناموں سے استفادہ کرسکتا ہے۔

ہم نے تو اپنے بچوں کو ٹی وی پر صرف کارٹون پروگرام دیکھنے کی اجازت دے رکھی ہے' کوئی بے ضرر سا ڈرامہ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم نے گھر میں بلٹن اور ٹاک شوز دیکھنے پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اگر وہ کل عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کے ذومعنی اور بے لاگ تبصرے سن کر ہم سے بھی ابے تبے میں گفتگو کرنے لگیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔ ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ اگر ٹی وی چینلز سے گالم گلوچ پر پابندی لگا دی جائے تو سیاسی محاذ پر مکمل خاموشی چھا جائے گی اور اس سے سیاسی محاذ آرائی کا بھی بہت حد تک خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ سیاسی لوگ وہ بزرگ ہیں جن کی گفتگو سے اگر گالیاں نکال دی جائیں تو باقی صرف خاموشی رہ جائے گی۔ حزب اختلاف کی جانب سے گورنمنٹ کی پالیسیوں پر تنقید ضرور ہونی چاہئے۔ حکومت کو بھی ان کاجواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن اس کے لئے شائستگی کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا ہر گز مناسب نہیں۔ وہ لوگ جو قوم کی راہنمائی کا دعویٰ کرتے ہیں ایک دوسرے کے خلاف بیانات میں تہذیب و اخلاق کی حدود پار کر جائیں تو وہ قوم کو تحمل و برداشت کا کیا درس دے سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سیاسی لیڈروں کو گفتگو کے لئے ایک ضابطہ اخلاق پر متفق ہونا ضروری ہے ورنہ معاشرے میں افراتفری ' عدم برداشت' محاذ آرائی جاری رہے گی اور بات بے بات پر خون کی ہولی کھیلنے سے کسی کو باز نہیں رکھا جاسکتا۔ جیسے کہ ہم نے ابتداء میں عرض کیا کہ پانامہ کیس پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور مخالفین کا ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا عمل بھی اس کا نتیجہ ہے۔ اس فیصلے کا ایک اہم پہلو جے آئی ٹی کا قیام ہے جو شریف فیملی کے مالی وسائل کی مزید تحقیق کرے گی۔ جے آئی ٹی کے تکنیکی پہلوئوں پر تو ہم کوئی ماہرانہ رائے نہیں دے سکتے لیکن یہ سادہ سی بات تو ہم بھی سمجھتے ہیں کہ ماتحت عملہ کس حد تک حکمرانوں سے Invistigations کی جرأت کرسکتا ہے۔ حکمران جماعت کے ایک رکن نے اپنے ایک بیان کے ذریعے اس ضمن میں شکوک و شبہات کا ازالہ کردیا ہے۔ یہ ایک سد ا بہار چہرہ ہے جو گزشتہ چالیس سالوں سے ہماری بصارتوں کو بصیرت اور سماعتوں میں رس گھول رہا ہے۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ موصوف کو ضیائی دور میں نظریاتی سرحدوں کی حفاظت پر مامور کیا گیا تھا۔ وہ ضیائی کابینہ کے اہم رکن تھے ۔ ہم اب معلوم نہیں کہ کس منصب پر فائز ہیں جب وہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وضاحت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ بالیقین ان کے پاس کوئی اہم عہدہ ہوگا۔ کل اپنے ایک بیان میں انہیں عدالت عظمیٰ کی مجوزہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے وزیر اعظم کی پیشی کے مسئلے کے بارے میں ایک واضح موقف دے دیا۔ اخبار نے ان کے بیان پر سرخی جمائی تھی کہ وزیراعظم کی پیشی ضروری نہیں۔ پارلیمنٹ ہائوس سے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ وزیر اعظم کے وکلاء بھی اس مشترکہ ٹیم کے سامنے پیش ہوسکتے ہیں۔ ہماری تو یہی دعا ہے کہ خدا اس تحقیقاتی ٹیم کا انجام بخیر کرے اور ساتھ یہ بھی کہ فریقین اپنا موقف ایسی زبان میں بیان نہ کریں جیسے کہ غالب نے لکھا تھا
گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر
کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی

اداریہ