تعلیمی اخراجات والدین پر بو جھ

تعلیمی اخراجات والدین پر بو جھ

خیبرپختونخوا حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے صوبے میں تعلیم کو ترقی دی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خیبر پختون خوا میں مخلوط حکومت نے تعلیم کو ترقی دی مگر جب تک متو سط اور اشرافیہ کے بچے سرکاری سکولز اور کالجز میں نہیں پڑھیں گے یا ان سکولوں اور کالجز کے اساتذہ کرام کے بچے ان سکولوں میں نہیں پڑھیں گے اُس وقت تک ہم اسکو خوش آئند تبدیلی نہیں کہہ سکتے۔ فی زمانہ ہر چیز خریدی اور فروخت کی جاتی ہے ۔تعلیم اور علاج کے شعبے با قاعدہ صنعت کا درجہ اختیار کر چکے ہیں۔ تعلیمی ادارے اور معا لجین من مانی فیسیں وصول کرتے ہیں اور بد قسمتی سے ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔کیونکہ سکول ، کالجز اور یو نیور سٹیاں ہمارے سیاست دانوں اور حکومتی اہل کاروں کے ہیں ۔تو کوئی انکے خلاف ایکشن بھی نہیں لیتا۔ کسی زمانے جب سکول اور کالج کے امتحان میں کامیاب ہو جاتے تو والدین اور بچے دونوں خوش ہو جاتے ، مگر بد قسمتی سے اب جب بچوں کے سکول اور کالج کے امتحان کا نتیجہ نکلتا ہے تو بچوں کی خو شی تو اپنی جگہ ہے مگر والدین بچوں کی فیسوں ، کتا بوں اور کاپیوں کے خریدنے کے چکر میں مزید پریشان ہو جاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب گو رنمنٹ سکول میں سالانہ ٥ روپے فیس ہوا کرتی تھی جب بچے ایف اے ایف ایس سی کرتے تو سرکاری کالجز ، انجینئرنگ یو نیو ر سٹیوں اور میڈ یکل کالجز میں مفت داخلہ دیا جاتا تھا اور جو بچہ تھوڑا بُہت ذہین ہو تا اُس کو کالج یو نیور سٹی کی طر ف سے وظیفہ بھی مل جاتا مگر آج کل والدین جو بھی کمالیتے ہیں بچوں کی تعلیم، علاج معالجے اور اشیاء خوردو نوش اور دوسری اشیائے صرف پر خرچ ہو جاتا ہے۔ بچہ بچی ، ایم بی بی ایس ، ایم اے ، ایم بی اے، انجینئرنگ اور دوسرے ما سٹر لیول کی کلاسوں میں اگر اچھے نمبر اور پو زیشن بھی لے تو اس نوکری اور ذریعہ معاش کی کوئی گا رنٹی نہیں۔نہ وہ اپنی تعلیم کو ملک اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ اور حکومت کے پاس ان تربیت یا فتہ افرادی قوت کو باہر لے جانے کا کوئی طریقہ ہے۔جب عمران خان اور پی ٹی آئی نے خیبر پختون خوا میں حکومت کی باگ ڈور سنبھا لی تو عام خیال یہ تھا کہ عمران اپنی بین الاقوامی شخصیت اور Statureکو استعمال کرکے تربیت و تعلیم یافتہ جوانوں کوان ممالک میں بھیجیں گے جہاں پر افرادی قوت کی ضرورت ہے مگر بد قسمتی سے خان صا حب نے چار سال میں اس بہترین مو قع سے فائدہ نہیں اٹھایا ۔ پاکستان میں اوسط خاندان کی تعداد 6 ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ جنکے 6یا اس سے زیادہ بچے ہوں وہ کیسے اپنے بچوں کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھا سکیں گے۔ کے پی کے کے مختلف کالجوں کی فیسیں بھی حد سے زیادہ ہیں۔ابتدائی معلومات کے مطابق مختلف تعلیمی اداروں کی فسٹ ائیر کی فیسیں لاکھوں میں ہیں۔ ہا سٹل کے چا رجز، بچوں کے کالج آنے جانے کا خرچہ، یو نیفارم اور دوسرے خر چے اسکے علاوہ ہیں۔ جب ہم نے میٹرک کیا تو اُس وقت کالج میں ہمارے ہا سٹل اور اسکے علاوہ دوسرے خر چے 200 روپے سے زیادہ نہیں تھے۔ اب تو ایجوکیشن ایک صنعت کا درجہ اختیار کر چکی ہے ۔ میڈیکل اور تعلیم کا شعبہ پیسے بٹورنے اور کمانے کا ایک اچھا ذریعہ بن گیاہے۔ 

کالج میںائیر کنڈیشن فیس،جینریٹر فیس، سپورٹس فیس اسکے علاوہ ہیں۔ ان سکولوں میں کتابیں بھی وہ تجویز کی جاتی ہیں جو من پسند پبلشرز کی تیار کی ہوئی ہوتی ہیں۔اگر کوئی پیسے والا ہے خواہ اس میں صلاحیت ہے یا نہیںتو وہ ٹیچرز یا ڈاکٹرز کی خدمات لے کر نرسنگ ہوم ، سکول کالج کھول کر اچھی کمائی کر سکتا ہے۔ ہر دور کے حکمران حکومتی اداروں کو مضبوط کر نے کے بجائے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو مضبوط کر تے رہے تاکہ ہماری اسمبلی، سینٹ جس میں سر مایہ دار اور جاگیر دار برا جمان ہیں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی کھال اُتار کر کمائی کر سکیں نتیجتاً حکومتی تعلیمی اداروں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اگر ہم دیکھیں تو وطن عزیز میں ہر پاکستانی اپنی آمدن کا 90 فی صد صحت، تعلیم اور خوراک جیسی بنیادی ضروریات پر خرچ کر رہا ہے۔کسی کے پاس دوسرے کاموں کے لئے پیسے ہوں یا نہ ہوں مگر بچے کی فیس اور انکے دیگر اخراجات کے لئے وہ ہر صورت پیسے رکھتے ہیں۔فی الوقت وطن عزیز میں کئی سرکاری اور غیر سر کاری میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ یو نیور سٹیاں اور انکے کیمپسز ہیںمگر بد قسمتی سے کسی بھی میڈیکل کالج اور انجینئررنگ یو نیور سٹی کی سالانہ فیس4اور 5لاکھ سے کم نہیں۔ اور بعض میڈیکل کالجوں کی فیس تو سالانہ 6 اور 7 لا کھ سے بھی زیادہ ہے،جو غریب مگر ذہین طالب علم بر داشت نہیں کر سکتے۔وطن عزیز میں کوئی بھی اُس وقت تک ڈا کٹر اورانجینئر نہیں بن سکتا جب تک پورے کو ر س کے لئے اس کی جیب میں 30 سے 40لاکھ روپے نہ ہوں۔ پہلے ان بچوں پر پہلی جماعت سے لیکر میٹرک اور ایف ایس سی تک پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں میںوالدین کے خون پسینے کی کمائی کے لاکھوں روپے خر چ ہو جاتے ہیں اور اسکے بعد بھی اُنکو سر کاری کالجوں میں داخلہ نہیں ملتا۔اس کالم کے تو سط سے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں سے استد عا ہے کہ وہ انجینئرنگ اور میڈیکل کالجوں میں طالب علموں کی سیٹیس بڑھادیں تاکہ زیادہ سے زیادہ طالب علم اس سے مستفید ہو سکیں۔ علاوہ ازیں ملک میں صنعتی زون قائم کر نے چاہئیں تاکہ ملک کی یو نیور سٹیوں اور کالجوں سے فا رغ التحصیل انجینئرز حضرات ا پنی پیشہ ورانہ تعلیم مکمل کر نے کے بعد ان انڈسٹریل زون میں فرائض انجام دیں سکیں۔ پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں طب اور صحت کی سہولیات دستیاب نہیں لہٰذا حکومت کی کو شش ہو نی چاہئے کہ وہ طبی گریجویٹس کے لئے طبی ادارے، ڈسپنسری اور ہسپتال قائم کریں تاکہ یہ لوگ اچھے طریقے سے اس میں ایڈجسٹ ہو سکیں۔

متعلقہ خبریں