Daily Mashriq


بیانیہ۔۔

بیانیہ۔۔

جس معاشرے میں جیب کترا پکڑا جائے تو لوگ اس کا قیمہ بنادیتے ہیں۔ ڈاکو کو زندہ جلادیتے ہیں۔ وہاں توہین رسالت کا کسی پر الزام لگ جائے تو کیا ہوگا؟ یہ سوچنے کی بھی اب ضرورت نہیں رہی۔ کوٹ رادھا کشن واقعہ۔۔ مسیحی جوڑے کو بھٹہ مالک کی ہوس پوری نہ ہونے پر بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ اور تاریخ خاموش ہوگئی۔ سینٹ جوزف کالونی میں لڑکوں کی مذاق پر شروع ہونے والی لڑائی توہین مذہب ٹھہری اور پوری بستی بھسم کردی گئی۔ کراچی کے رنچھوڑ لائن میں دو لڑکے زندہ جلادیے گئے۔ الزام ڈکیتی کا۔۔ تفتیش میں پتہ چلا کسی لڑکی کا معاملہ تھا۔ ہجوم آج تک آزاد ہے۔ سیالکوٹ کے دو بھائیوں کا واقعہ تو دلوں کو دہلانے کے لیے کافی ہے۔ روم۔۔ فرانس۔۔ برطانیہ۔۔ چین۔۔ کچھ حد تک امریکا۔۔ دنیا تہذیبوں کے تصادم روکنے پر کام کر رہی ہے۔ مگر یہاں نماز میں ہاتھ باندھنے کھلے رکھنے پر بحث ہورہی ہے۔ دھماکے کرنے والے انتہا پسند۔۔ مسجدوں پر دھاوا بولنے والے انتہا پسند۔ ڈرون گرانے والے انتہا پسند۔ بچوں کا ذہن بدلنے والے انتہا پسند۔ اغوا کرنے والے انتہا پسند۔ ٹارگٹ کلر انتہا پسند۔ مزارات کا تقدس تباہ کرنے والے بھی انتہا پسند۔ حد تو یہ ہے کہ خود کو لبرل کہلوانے والے بھی انتہا پسند ہیں۔ کہیں خیالات کا تسلط ہے تو کہیں آوارہ خیالات کا برملا اظہار۔۔ دنیا بھر میں متبادل بیانیہ ڈھونڈا جارہا ہے۔ میاں صاحب نے دارالعلوم نعیمیہ میں بھی یہی بحث چھیڑی جسے بدقسمتی سے ٹی وی چینل ریٹنگ کے سبب اہمیت نہ دے سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ ابلاغ کا سب سے موثر ذریعہ منبر و محراب ہے۔۔ یہیں سے امن کی وہ کونپل پھوٹی تھی جو آج چودہ سو برس بعد بھی سارے جہاں میں معطر ہے۔ لیکن افسوس اسی محراب و منبر سے ایسے نظریات کو پروان چڑھایا گیا جن کا نتیجہ آج پوری امت بھگت رہی ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ مشال پر الزام میں کتنی صداقت ہے۔ مگر جس وحشت کا عبدالولی خان یونیورسٹی میں مظاہرہ کیا گیا وہ کسی طور ہضم نہیں ہوتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے غازی علم دین تک۔۔ کے واقعات اٹھاکر دیکھ لیں۔۔ توہین رسالت یا گستاخی کے مرتکب افراد کو جہنم واصل کرنے کے لیے پورا ہجوم کبھی اکٹھا نہیں ہوا۔ کبھی کوئی اجلاس بلاکر منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ دو دو مہینے انتظار نہیں ہوا۔ ادھر گستاخی سامنے آئی ادھر شمع رسالت کے پروانے انجام کی پروا کیے بغیر نکل کھڑے ہوئے۔ اتنی پلاننگ سے مشال کا مارے جانا معاملے کو مشکوک بناتا ہے۔ یقینا انکوائری ہوگی ۔۔ بیٹھکیں لگیں گی۔ ہمدردی کے بول بولے جائیں گے ۔۔ نفرت کے بیج بوئے جائیں گے۔ اور پھر پوری قوم دو گروہوں میں بٹ جائے گی۔ ایسا ہی تو ہوتا آرہا ہے۔ دائیں اور بائیں بازو کی زور آزمائی نے دل چھلنی کردیا۔ ملک دو ٹکڑے کردیا۔ دہشت گردی کو پنپنے دیا۔ اور آج پورا ملک جل رہا ہے لیکن نہ دائیں والے اعتدال پر آئے نہ بائیں والے۔ اور وجہ اس کا وہی بیانیہ ہے جو ہمارے ساتھ برسوں سے چمٹا چلا آرہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کیا جائے۔ یقینا علماء اور دانشور طبقہ کو اس کا حل تو نکالنا ہوگا لیکن ان دونوں طبقات کو بھی اپنی حدوں سے باہر نکلنا ہوگا۔ یہ ماننا ہوگا کہ اجتہاد ہی واحد راستہ ہے جو اس انتہا پسندی ۔ شدت پسندی اور تشدد پسندی سے نکال سکتا ہے۔جمعہ کے خطبات بھی صرف اور صرف اخلاقیات پر مبنی ہوں گے۔ پہلے لوگوں کے باطن کے لیے برین واشنگ کرنا ہوگی۔ کپڑوں کی پاکیزگی سے شہر کی صفائی تک ۔۔ زبان کی سچائی سے کردار کی گہرائی تک ۔ نماز کی پابندی سے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد تک ۔ اور دانشور طبقہ کو قلم کاروں کو ۔ اور بالخصوص بائیں بازو والوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ ان کی زور زبردستی سے اسلام کا کچھ نہیں بگڑے گا البتہ معاشرے میں طبقاتی تقسیم ضرور بڑھے گی۔ بے سبب ہر بات میں مولوی کو رگیدنے کے بجائے اسلام کا مطالعہ کیجئے۔ ان تعلیمات کو مانیے جن کے بل پر آج یورپ ترقی یافتہ ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمیشہ ایسی شدت پسندی کو ہوا دی گئی کہ جس کی وجہ سے آج تک قوم ایک نہ ہو پائی۔ مسلک کی تفریق سے نکلے تو سیاست کی تقسیم نے گھیر لیا۔ لسانیت کی ضربوں سے جان چھڑا نہ پائے تھے کہ نظریات نے توڑ کر رکھ دیا۔ کہیں نورین اور سعد عزیز جیسے کردار جنم لے رہے ہیں تو کہیں ڈٹ کر اعلان ہورہا ہے کہ ویلنٹائن ڈے پر ریلی نکالیں گے دیکھتے ہیں کون روکتا ہے۔بات گھوم پھر کر وہیں آتی ہے کہ اتنی شدت پسندی۔ انتہا پسندی کا حل کیا؟ بظاہر تو نظر یہی آتا ہے کہ اسلاف کی تعلیمات کو سمجھنا ہوگا۔ علما کو اختلافات بھلانا ہوں گے۔ اور ہر مکتب فکر کے لوگوں کو ایک کرنا ہوگا۔ رہ گئی بات ریاست کی تو شاید رعایا کے بہتر طور طریقوں کے بعد حکمران بھی بہتر مل ہی جائیں۔ ویسے خبر تو دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک سے بھی آئی ہے۔ امریکا میں نئی حکومت کی انتہا پسندی رنگ دکھانے لگی ہے۔ اور گزشتہ دنوں پہلی مسلم خاتون جج کی دریائے ہڈسن سے لاش ملی۔ اب خبر یہ ملی ہے کہ پولیس واقعہ کو خودکشی ٹھہرارہی ہے۔ ایک کامیاب جج۔۔ پینسٹھ برس کی عمر اور دریا میں کود کر خودکشی۔۔ کمال کی انتہا پسندی ہے۔

متعلقہ خبریں