Daily Mashriq

میاں نواز شریف کے لیے چند تجاویز

میاں نواز شریف کے لیے چند تجاویز

سپریم کورٹ کی طرف سے پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد پاکستان کی سیاسی فضا میں عجیب سی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر مٹھائیاں بانٹتی نظر آ رہی ہے جب کہ پاکستان تحریک انصاف بھی کچھ اسی طرح کی خوشیاں منا رہی ہے۔ دونوں طرف سے ایسی باتیں سننے کو آ رہی ہیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ ان دونوں سیاسی جماعتوں میں سے کسی نے نہیں پڑھا یا پڑھا ہے لیکن ان کا عمل سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے میاں نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعہ کو جلسہ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے جب کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پانامہ کیس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ہمارے خیال میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اپنی سیاسی اور اخلاقی ساکھ بچانے کے لیے دیگر آپشنز کو بروئے کار لانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ ان آپشنز میں سے سرفہرست یہ ہے کہ وزیر اعظم بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے از خود استعفیٰ دے دیں۔ دوسرے یہ کہ نئے انتخابات کا اعلان کر دیں۔ تیسرے یہ کہ قیادت شہباز شریف یا مریم نواز کے حوالے کر دیں ۔ چوتھے یہ کہ سسٹم کو یونہی چلنے دیں اور وزارت عظمیٰ کے لیے چوہدری نثار علی خان یا جنوبی پنجاب سے وزیر اعظم لائیں ' جس طرح کہ پیپلز پارٹی نے ملتان سے یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمیٰ کے لیے منتخب کیا تھا۔ کیونکہ لاہور اور سنٹرل پنجاب کے برعکس جنوبی پنجاب کے لوگوں میں محرومیاں پائی جاتی ہیں ' ان محرومیوں کے ازالے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ وہاں کے منتخب نمائندگان میں سے کسی کو وزارت عظمیٰ کا قلمدان سونپ دیا جائے ۔

پاکستان مسلم لیگ ن میں چوہدری نثار علی خان کو خاس مقا م حاصل ہے،یہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے مسلسل سات بار کامیابی حاصل کی ہے،چوہدری نثار علی خان سیاسی و عسکری قیادت میں یکساں مقبول شخص مانے جاتے ہیں اپنے اختلاف رائے کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتے ہیں۔چوہدری نثار علی خان کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی وزیر اعظم کے معتمد خاص وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کی قدآور شخصیت ہیں۔ موجودہ حالات میں جنوبی پنجاب سے وزیر اعظم لانے کے دو فائدے ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ حالیہ بحران ٹل جائے گا دوسرے یہ کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں میں برسوں سے پائی جانے والی محرومیوں کا ازالہ ممکن ہو سکے گا۔ اس کے علاوہ میاں نواز شریف سردست یہ بھی کر سکتے ہیں کہ قوم سے خطاب کرتے ہوئے تاریخی اعلان کریں کہ مجھ سمیت جس سیاست دان کی دولت ملک سے باہر ہے اسے واپس لایا جائے ' کیونکہ پاکستانیوں کے اربوں ڈالرز بیرون ملک بینکوں میں موجود ہیں۔ اگر یہ پیسہ واپس آ جائے تو پاکستان کی معاشی تقدیر بدل سکتی ہے۔
مسلم لیگ نے اپنے دوسر ے دورحکومت میں 1997سے 1999ء کے دوران بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے سوئس بینکوں میں موجود رقوم کا سراغ لگا لیا تھا ۔ اس وقت احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمان تھے جنہیں احتساب الرحمان بھی کہا جاتا تھا' موصوف نے اس وقت کے وزیر قانون خالد انور اور سوئس سراغ رساں کمپنی کی مدد سے بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر لی تھی لیکن وہ یہ پیسہ پاکستان لانے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ پاکستانیوں کے 200ارب ڈالرز سوئس بینکوں میں جمع ہیں' کچھ باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سوئٹزرلینڈ ' دبئی اور بعض دوسری ملکوں میں پاکستانیوںکے 200ارب ڈالرز سے بھی زیادہ جمع ہیں جو انہوں نے پاکستان سے چوری کرکے وہاں منتقل کیے ہیں۔ بلوچستان کے ایک اعلیٰ افسر کے گھر سے چند ماہ قبل نیب کی جانب سے 70کروڑ سے زیادہ نقد رقم برآمد گی کو سارے پاکستان نے کھلی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ رقم آہستہ آہستہ پاکستان سے باہر منتقل کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ جو پیسہ چھپا کر بیرون ملکوں کے بینکوں میں رکھا گیا ہے وہ کس طرح واپس آ سکتا ہے؟ ایک لمحے کے لیے سوچیں 200ارب ڈالرز جو پاکستان سے لوٹ مار کرکے باہر بھیجے گئے ہیں اگر واپس آ جائیں تو اس سے پاکستان کے کتنے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ کروڑوں پاکستانی نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے ' زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ رہی یہ بات کہ پاکستان کا پیسہ واپس کیوں نہیں لایا جاتا تو اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ جو لوگ پاکستان سے لوٹ مار کر کے غیر قانونی طور پر بیرون ممالک پیسہ منتقل کرتے رہے ہیں آج اگر قانون کی گرفت میں آنے کے ڈر سے وہ پیسہ واپس نہیں لاتے۔سو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف تاریخی اعلان کرتے ہوئے عام معافی کا اعلان کریں کہ جن لوگوں کا پیسہ بیرون ممالک کے بینکوں میں پڑا ہوا ہے وہ وطن واپس لے آئیں 'ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا جائے گا۔ یہ چند تجاویز تھیں اگر ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل کر لیا جائے تو میاں نواز شریف کا سیاسی قد کاٹھ بڑھ جائے گا بصورت دیگر تنزلی ہی تنزلی نظر آ رہی ہے۔

اداریہ