مشرقیات

مشرقیات

سوار بن عبداللہ خلیفہ منصور کی جانب سے بصرہ کے قاضی تھے ، ایک دفعہ خلیفہ کا فرمان آیا کہ زمین کے فلاں ٹکڑے کی بابت جو فلاں تاجر اور فوجی افسر کا دعویٰ تمہارے ہاں دائر ہے ، اس میں افسر کے حق میں فیصلہ ہونا چاہیئے ۔ قاضی نے جواب دیا : میرے سامنے جو ثبوت پیش ہوا ہے ، وہ تاجر کے حق میں دعوے کو ثابت کرتا ہے ، جب تک اس سے زیادہ قوی ثبوت افسرکی طرف سے پیش نہ ہو ، میں تاجر کو جھوٹا نہیں کہہ سکتا ۔ خلیفہ نے دوبارہ حکم دیا کہ وہ زمین ضرور افسر کو دی جائے ، قاضی نے پھر جواب دیا ، خدا کی قسم ! میں زمین تاجر کے ہاتھ سے ناحق نہیں نکال سکتا ۔ قاضی کی اس ثابت قدمی اور جرأت و بہادری کو دیکھتے ہوئے خلیفہ منصور نے خاموشی اختیا ر کر لی اورفخریہ کہنے لگا کہ بخدا ! میں نے دنیا کو انصاف سے بھر دیا کہ میرے قاضی بھی حق کے مقابلے میں میرا حکم رد کر دیتے ہیں ۔ اس موقع پر قاضی نے کہا کہ انصاف کرنا میرا فرض بنتا ہے ، اگر میں انصاف نہ کروں تو خدا کے ہاں کیا جواب دوں گا ؟ مسلمان قاضیوں کا سلوک امیروں اور فقیروں کے ساتھ ایک جیسا ہوتا تھا ، وہ کسی حالت میں بھی بے انصافی نہیں کرتے تھے ۔ انصاف کے معاملات میں دنیاوی جاہ و حشمت کو خاطر میںنہیں لاتے اور کسی مصلحت کا شکار نہ ہوتے تھے ۔ اسی طرح اس زمانے کے خلیفہ بھی انصاف کرنے والوں کی قدر کرتے تھے ۔یہی وجہ تھی کہ اس دور کے معاشروں کے امن اور خوشحالی کی آج بھی مثالیں دی جاتی ہیں۔
(سچی اسلامی کہانیاں ، مئولف محبد عبداللہ )
زیاد بن حبان عرب کا مشہور بہادر آدمی تھا ، بنو امیہ کی سلطنت کے کئی معرکے اس نے جیتے تھے ، اس کی زندگی کے آخری دن عراق میں گزرے تھے ، جہاں کا گورنر زیاد بن امیہ تھا ، ابن حبان کی بیوی مر چکی تھی ، صرف ایک لڑکا تھا جو ابھی کم عمر ہی تھا ۔ ابن حبان اتفاق سے بیمار ہوا اور موت کی تمام علامتیں ظاہر ہو چکیں ، بیٹے کو بلایا ، کہا جان پدر ابھی تم بالکل ہی کم سن ہو ، میں تو مر رہا ہوں ، تمہاری خبر گیری کون کرے گا ؟ کہو تو گورنر کو تمہاری سفارش کا رقعہ لکھ دو ں کہ وہ تمہاری مدد کرے ؟ بیٹے نے جواب دیا ابا جان ! جینے والے کا اگر مرنے والے ہی کی سفارش سے کام نکل سکتا ہو تو وہ زندہ نہیں ، بلکہ مردہ ہے ، آپ میری سفارش نہ کریں ، میری محنت اور ہمت میری سفارش کرے گی ۔ باپ کے مرنے کے بعد لڑکے نے ہمت نہیں ہاری ، بلکہ جس کام میں ہاتھ ڈالا اسے پورا کر کے چھوڑا ، پھر وہ اسلامی فوج میں شامل ہوگیا اور اپنی بہادری سے اتنا نام پایا کہ بہت بڑے عہدے پر پہنچ گیا ۔ یہی ہمت اور حوصلہ تھا جس کی وجہ سے کم عمر مسلمان لڑکے قسطنطنیہ فتح کر لیا کرتے تھے ۔مسلمانوں کی دھاک پوری دنیا پر قائم تھی ۔ کیونکہ ان کا اللہ پر ایمان تھا اور اپنے زور بازو پر بھروسہ کرتے تھے ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ جو سہاروں کی تلاش میں ہوتے ہیں اور دوسروں پر انحصار کرتے ہیں کبھی سر اٹھا کر نہیں جی سکتے ۔ دوسروں کے محتاج ہی رہیں گے ۔
(سچی اسلامی کہانیاں ، صفحہ 38)

اداریہ