Daily Mashriq

خیبر پختونخوا کی مکدر سیاسی فضا

خیبر پختونخوا کی مکدر سیاسی فضا

تحریک انصاف نے سینیٹ انتخابات میں ووٹ بیچنے کا الزام لگا کر جن ایم پی ایز کو شوکاز نوٹسز جاری کرنے کا اعلان کیا تھا اب ان کی پارٹی رکنیت بھی ختم کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب پارٹی ایم پی ایز نے کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جس نے ان پر الزام لگایا اب وہی لوگ کمیٹی کے ممبرز ہیں اسلئے وہ کمیٹی کو تحریری وضاحت نہیں دیتے، کیونکہ کمیٹی میں شامل ممبران سے انصاف کی کوئی توقع نہیں۔ دوسری جانبپاکستان تحریک انصاف کے 17 ارکان اسمبلی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان، پرویز خٹک اور انضباطی کمیٹی کو خبردار کیا ہے کہ وہ پگڑیاں اُچھالنے پر معافی مانگیں ورنہ وہ تمام حقائق سے پردہ اُٹھائیںگے۔ اپنے اندرونی خلفشار کے باوجود پاکستان تحریک انصاف جس طرح مدت اقتدار کی تکمیل کرنیوالا ہے اس کا سہرا بنی گالہ کے نہیں بلکہ نوشہرہ کے سر جاتا ہے۔ بنی گالہ کے فیصلے سے نہ صرف اپنے ہی اراکین اسمبلی ایک ایسے وقت صف دشمناں میں شامل ہوا چاہتے ہیں جب انتخابات سر پر ہیں۔ اس فیصلے کو تو اصول کا جامہ پہنایا جاسکتا ہے باوجود اس کے کہ اس سے تحریک انصاف کی جماعتی نظم کو بہت دھچکہ لگا لیکن ووٹ فروخت کرنیوالوں کیخلاف کارروائی اس کے باوجود مستحسن فیصلہ ہی گردانا جائے گا لیکن دوسری جانب جس معاملے کی جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے نشاندہی کی ہے اس سے تحریک انصاف کے اس اقدام پر بھی پانی پھیر دیا ہے۔ دو عملی کے اس اظہار سے نظریاتی کارکنوں کا اعتماد متنرلزل ہونا فطری امر ہوگا۔ قطع نظر ان معاملات کے امیر جماعت اسلامی نے بم کو لات مارنے کے بعد اب شانتی کا کردار نبھا کر جماعت اسلامی کی اصول پسندی پر ایک مرتبہ پھر سوال اُٹھانے کا موقع دیا ہے۔ گوکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جماعت اسلامی (جے آئی) کے مابین سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا ہے مگر اس کے باوجود جے آئی کے امیر سراج الحق نے گزشتہ روز واضح کر دیا کہ وہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت میں پی ٹی آئی کیساتھ اپنے سیاسی کردار کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بجٹ کی تیاریوں تک کوئی فیصلہ نہیں کریں گے کیونکہ ان کی پارٹی کے اراکین صوبائی حکومت میں وزارت خزانہ میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی نے جے آئی کو بالواسطہ تجویز دی تھی کہ اگر وہ سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کا کردار منفی سمجھتی ہے تو خیبر پختونخوا کی اتحادی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ جس سیاسی کردار کا مظاہرہ ان دو اتحادی جماعتوں کی طرف سے دم رخصت آیا ہے یہ خود ان کیلئے اور ملکی سیاست کیلئے کوئی نیک شگون نہیں، یہ عوام میں ان کے حوالے سے کسی اچھے تاثرات کا باعث نہیں بنے گا۔ جماعت اسلامی کو ایم ایم اے کا لبادہ اوڑھ کر روٹ جانے کی سہولت حاصل ہوگئی ہے مگر پاکستان تحریک انصاف اپنے اتحادی جماعت کی قیادت کے بیان اور خود اپنے فیصلوں کے باعث ایک ایسا سوالیہ نشان بننے جا رہی ہے جو ان اٹھارہ بیس حلقوں میں یقیناً اور بعض دیگر حلقوں میں بھی ممکنہ طور پر اس کے اثرات سے متاثر ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے جو پنڈورہ بکس اپنے ہاتھوں کھولا ہے بہتر ہے کہ اسے بند کرنے کا بھی کوئی راستہ تلاش کرے ورنہ الزامات اور جوابی الزامات سے صرف تحریک انصاف خود ہی متاثر نہ ہوگی بلکہ صوبے کی سیاست پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ فی الوقت پی ٹی آئی کا جماعتی نظم قیادت کی جواب طلبی کے نوٹسز اور الزام سے زخم خوردہ ممبران اسمبلی کے درمیان مکالمہ بازی اور ردعمل کی جو صورتحال ہے وہ صوبے کی سیاست کیلئے کوئی نیک شگون نہیں۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے اس استفسار میں تو وزن ہے کہ سب نے قرآن اُٹھا لئے تو پھر ووٹ کس نے دیئے مگر ان کی جانب سے ان عناصر کو اپنے اردگرد تلاش کرنے کے مشورے میں بھی وزن نظر آتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی صورتحال خیبر پختونخوا کی سیاست کو بازیچہ اطفال بنانے اور بدعنوانی والزام تراشی میں سبقت کا حامل صوبہ ہونے اور من حیث المجموع اہالیان خیبر پختونخوا کیلئے باعث شرمندگی معاملہ ہے۔ یہاں الزام لگانے والے اپنا الزام ثابت کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتے اور جن پر الزام لگا ہے ان میں سے بعض نے قرآن اُٹھانے کی جرأت کی باقی کو الزام لگنے کی زیادہ پرواہ نہیں اور کچھ تو ایسے بھی نام ہیں جو علی الاعلان اپنی وفاداریوں کا بتا چکے ہیں۔ اس صورتحال سے صوبے کی سیاست اور سیاستدانوں کے حوالے سے برے تاثرات کا قیام ہونا فطری امر ہے۔ برعکس اس کے ماضی میں خیبر پختونخوا کی روایات اور کردار میں انگشت نمائی کا عنصر نسبتاً کم ہوا کرتا تھا۔ تحریک انصاف کی قیادت اس بھنور سے اس وقت ہی نکل سکتی ہے کہ یا تو الزامات ثابت کرے یا پھر الزامات واپس لئے جائیں۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے معاملات جو بھی ہوں ایک بات واضح ہے کہ نہ تو تحریک انصاف جماعت اسلامی کو علیحدہ کر کے ایک ماہ کے اقتدار کی قربانی دے سکتی ہے اور نہ ہی جماعت اسلامی اصول پسندی کی خاطر مدت اقتدار کے آخری چند دن کی قربانی دینے کو تیار ہے۔ دونوں ہی جماعتوں کا فیصلہ اپنی جگہ لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ صوبے کی جملہ سیاسی قیادت کو صوبے میں بدنام ہوتی سیاست کا احساس ہو اور اس کے ازالے پر غور کیا جائے۔

متعلقہ خبریں