Daily Mashriq

نواز شریف کو ایک مرتبہ پھر سوچنا چاہئے

نواز شریف کو ایک مرتبہ پھر سوچنا چاہئے

سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا عدلیہ اور خاص طور پر چیف جسٹس ثاقب نثار کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری بیانات ایک مقتدر قومی رہمنا کے شایان شان نہیں۔ جہاندیدہ نواز شریف جن مراحل سے گزر چکے ہیں ان مراحل کو طے کرنے کے بعد بردباری اور برداشت آنی چاہئے تھی۔ اس موقع پر ان کو احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیںچھوڑ نا چاہئے اور عدالت سے متعلق منفی خیالات کے اظہار سے گریز کرنا چاہئے۔ خود ان کی جماعت کے مخلص رہنماؤں کی جانب سے شدت خیالات میں اعتدال لانے کے جو مشورے دیئے جاتے رہے ہیں ان پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ نواز شریف کے جن خیالات سے خود ان کے اردگرد کے مخلص افراد اور بھائی تک متفق نہیں اور وہ اس طرح کے خیالات کو مناسب نہیںسمجھتے ان کی جانب سے اس طرح کے خیالات اور گفتگو کا اعادہ مناسب نہیں، بہتر ہوگا کہ نواز شریف حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اتنی برداشت کا مظاہرہ کریں کہ قوم ان کی ہمت وبرداشت کو سراہے اور ان کی عوامی حمایت میں اضافہ ہو۔

طلبہ کے مستقبل کو ڈھال نہ بنایا جائے

خیبر پختونخوا میں نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کی تنظیم پیما نے حکومت کی طرف سے پرائیوٹ سکولوں کی فیسوں میں مزید کمی کے فیصلے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے دو دن تک صوبے بھر میں تمام پرائیوٹ تعلیمی اداروں کو بند رکھا۔ واضح رہے کہ یہ احتجاج اس حکومتی اقدام کیخلاف کیا جا رہا ہے جس میں حکومت کی طرف سے ایک ایکٹ کی منظوری دی گئی جس کے مطابق نجی سکولوں کے فیسوں میں دس فیصد کمی لائی گئی جبکہ فیس سٹرکچر میں کچھ دیگر تبدیلیاں بھی کی گئیں۔ چند ماہ پہلے پشاور ہائی کورٹ کی طرف سے ایک فیصلے کے تحت نجی تعلیمی اداروں کو فیسوں میں کمی اور دوسرے بچے کو رعایت دینے کے احکامات جاری کئے گئے تھے تاہم نجی تعلیمی اداروں کی تنظیم نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بعض نجی تعلیمی اداروں کے مالکان صوبائی حکومت میں شامل ہیں جس کی وجہ سے اکثر اوقات حکومتی فیصلے تاخیر کا شکار نظر آتے ہیں۔ احتجاج اور دباؤ ڈال کر مطالبات منوانا تو معمول کا حصہ ہے، خیبر پختونخوا میں نجی سکولوں کے مالکان شامل اقتدار افراد اور بیوروکریسی کے عہدیداروں سے لیکر معاشرے کے بااثر طبقات کے افراد ہیں ان کے مفادات کیخلاف اور عوام کو قدرے انصاف کی فراہمی کیلئے اقدام بھڑوں کے چھتے کو ہاتھ ڈالنے کا مترادف گردانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اے این پی اپنے پورے دور حکومت میں ان کیخلاف کوشش کے باوجود قانون سازی نہ کر سکی۔ اس تناظر میں تحریک انصاف کی حکومت کی یہ سعی خاص طور پر قابل تحسین ہے کہ مدت اقتدار کے آخری دنوں میں کم ازکم وہ ایک ایسا ایکٹ لاسکی کہ جس سے طلبہ اور اس کے والدین کو انصاف کی کرن نظر آئی مگر اس کیخلاف بھی یہ بااثر عناصر اُٹھ کھڑے ہوئے۔ بعید نہیں کہ یہ اپنے مطالبات منوالیں گے کیونکہ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اور وزیر خزانہ سمیت دیگر وزراء اور اراکین اسمبلی براہ راست یا بالواسطہ اس گروہ سے منسلک ہیں۔ سپیکر خیبر پختونخوا کا سب کام چھوڑ کر بورڈ ملازمین کے مطالبات کی منظوری اور حکومت کو جھکانے میں حال ہی میں کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو حکومتی اقدام اس قدر بھی سنجیدہ اور سخت نہیں کہ اس کی تعمیل یکے بعد دیگرے تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھانے والوں کیلئے مشکل ہو جو سکول کرائے کی عمارتوں پر قائم ہیں یا پھر ان سکولوں کی مالی حیثیت کمزور ہے تو ریکارڈ کی روشنی میں ان کے معاملات ومسائل کاجائزہ لیکر ان کو رعایت دی جا سکتی ہے، علاوہ ازیں بھی مذاکرات اور گفت وشنید کی گنجائش ہے مگر نجی سکولوں کے مالکان کو سرے سے کوئی ضابطہ اور پابندی مطلوب ہی نہیں اور نہ ہی وہ عدالتی احکامات کو خاطر میں لاتے ہیں اس طرح کی صورتحال کا بہتر مقابلہ سرکاری سکولوں کا معیار بہتر بنا کر ہی کیا جا سکتا ہے مگر اس میں حکومت کو چنداں کامیابی نہیں ہوئی۔ حکومت تمام بورڈوں میں چیک ہونیوالے پرچہ جات کی دوبارہ چیکنگ کا بندوبست کرسکے تو نجی سکولوں کا بھانڈا پھوٹ سکتا ہے مگر اس کی بھی سکت نہیں چونکہ معاملہ حساس اور طلبہ کی تعلیم کا ہے اسلئے بہتر ہوگا کہ اس مسئلے کا جلد سے جلد کوئی حل تلاش کرکے طالب علموں کا مزید وقت ضائع ہونے نہ دیا جائے۔ سکول مالکان کو چاہئے کہ وہ سکولوں کو بند کر کے طالب علموں کے مستقبل کو ڈھال بنانے کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

متعلقہ خبریں