Daily Mashriq

نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ کو حکیم الامت کا خطاب بھی یونہی نہیں دیا گیا تھا۔ وہ اس ملت کے نباض تھے اور جو تفکر کرتے ہیں وہ آنے والی صدیوں کے بارے میں بھی درست درست پیشگوئی کر دیتے ہیں، یوں تو حضرت علامہ اقبالؒ کی شاعری برصغیر کے مسلمانوں ہی کے حالات کی صحیح تصویر کشی نہیں کرتی بلکہ انہوں نے امت مسلمہ کے جملہ عوارض کا اپنے افکار میں احاطہ کیا ہے تاہم اس وقت ان کے ایک شعر کو لیکر آج کے حالات کو دیکھتے ہیں تو صورتحال واضح ہو جاتی ہے، کہتے ہیں

اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں

نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

اب یہی دیکھ لیں کہ موجودہ حالات میں دو واقعات پر جو مختلف شعبوں میں رونما ہوئے ہیں، اس شعر کا بڑی آسانی کیساتھ اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ ایک تو سیاسی تناظر میں مولانا فضل الرحمن کے گزشتہ روز کے بیان کو پرکھا جاسکتا ہے جنہوں نے ایک سیاسی جماعت کے حوالے سے کہا ہے کہ صرف 20 نہیں، محولہ پارٹی میں سارے انڈے گندے ہیں اور ایسی بات تفنن طبع کے طور پر مولانا صاحب ہی نہ صرف کہہ سکتے ہیں بلکہ اسے بقول شاعر تری باتوں میں گلوں کی خوشبو سے تعبیر کرتے ہوئے بھی اس سے حظ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جن 20 انڈوں کو پارٹی نے گندہ کہہ کر ایک پنڈورہ باکس کھول دیا ہے ان میں سے کئی ایک اپنی صفائیاں بھی پیش کر رہے ہیں اور بعض نے تو اپنے اُجلے کپڑوں پر لگے ’’ضدی داغوں‘‘ کو دھونے کیلئے ’’عدالتی ڈٹرجنٹ‘‘ سے رجوع کرنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے، اب ان کا کیا بنے گا اس سے قطع نظر ان 20 ارکان پر داغ لگانے کے دوران جو چھینٹے اُڑ کر ان 20کے ووٹوں سے کماحقہ، بھرپور فائدہ اُٹھانے والوں کے چہروں پر پڑ رہے ہیں ان کے بارے میں بھی طرح طرح کے سوال اُٹھ رہے ہیں اور الیکشن کمیشن کیساتھ ساتھ سپریم کورٹ سے بھی اپیلیں کی جا رہی ہیں کہ خریداروں کو بلوا کر انہیں بھی حلف دے کر معلوم کیا جائے کہ انہوں نے کن کن ’’انڈوں‘‘ کو چمک دیتے دیتے ’’گندہ‘‘ کر دیا ہے، اور سینیٹ کے حالیہ انتخابات کو کالعدم قرار دیدیا جائے، مگر وہ جو پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ ہماری باری آئی تو اوپر سے۔۔ آگیا۔ چیف جسٹس صاحب نے گزشتہ روز ایک میڈیا چینل کے ملازمین کی رُکی ہوئی تنخواہوں کے کیس میں ایک صحافی کی اس معاملے پر ازخود نوٹس لینے کی استدعا پر کہا کہ اب ہم نے سووموٹو ایکشن لینا چھوڑ دیا، تو اب سینیٹ کے حالیہ انتخابات پر بھی ظاہر ہے کسی سووموٹو ایکشن کی توقع عبث ہی ہے اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہے گا اور ہماری سیاست پرانی ڈگر پر چلتی رہے گی۔ جس کے بارے میں محسن بھوپالی نے بہت پہلے کہا تھا

نیرنگی سیاستِ دوراں تو دیکھئے

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

اب دوسرے شعبے کے حوالے سے بات کی جائے جو شوبز کا شعبہ کہلاتا ہے، اس شعبے پر آج کل ’’می ٹو‘‘ کے سائے پڑ رہے ہیں اور چند روز سے بڑی لے دے کی کیفیت نے خوب گرما گرمی پیدا کردی ہے کیونکہ ایک خاتون فنکارہ اور گلوکارہ نے اپنے ہی ایک ساتھی اداکار وگلوکار پر ہراسگی کے الزامات لگا کر ماحول کو تپا دیا ہے، دیکھا جائے تو شوبز کی دنیا میں بھی ’’گندے انڈوں‘‘ کی کوئی کمی نہیں، الزامات سامنے آتے ہی نہ صرف متعلقہ فنکار نے اسے جھوٹ قرار دے کر فنکارہ کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا بیان داغا بلکہ تازہ ترین صورتحال کے مطابق موصوف نے الزام لگانے والی کو قانونی نوٹس ارسال بھی کر دیا ہے کہ وہ اس ’’غلط بیانی‘‘ پر دو ہفتے کے اندر اندر معافی مانگے بصورت دیگر دس کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کیلئے تیار ہو جائے، ادھر دوسری جانب دونوں فنکاروں کی حمایت اور مخالفت میں بھی نہ صرف کئی ساتھی اداکار اور اداکارائیں میدان میں آچکی ہیں اور بیانات دیتے جارہے ہیں، بلکہ کئی ٹی وی چینلوں پر مختلف ٹاک شوز میں بھی اس پر بحث کی گئی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان ٹاک شوز میں بھی اختلاف رائے بڑی واضح ہے، اور یہ سلسلہ کب تک چلے گا ابھی وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم لگتا ہے کہ اب اس واقعے کے حوالے سے دونوں فریق ’’گندے انڈو‘‘ کی زد میں ہیں، اور ان کی ذرا سی بے احتیاطی سے ان پر چاروں جانب سے گندے انڈوں کی بارش ہو رہی ہے جس سے فضا میں تعفن پھیل رہا ہے کیونکہ جب انڈے پھوٹتے ہیں تو بھی ایک عجیب طرح کی سڑاند محسوس ہوتی ہے اور خصوصاً جب گندے انڈے کسی کو لگتے ہیں تو اس سے اس قدر بدبو اُٹھتی ہے کہ انسان کیلئے سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے، مسئلہ مگر یہ ہے کہ جس خاتون گلوکارہ نے ساتھی اداکار و گلوکار پر الزام عاید کیا ہے اس حوالے سے موصوفہ نے اپنی ٹویٹ میں واضح کیا تھا کہ وہ اب تک خاموش تھی مگر اس کے ضمیر نے اسے مجبور کیا کہ وہ حقائق سامنے لائے اور بقول موصوفہ کے یہ بات سامنے لاکر اب وہ خود کو زیادہ مضبوط اور توانا محسوس کر رہی ہے، گویا بقول سعید دوشی

میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر

تاہم اب جو انہیں معافی مانگنے یا دس کروڑ ہرجانہ ادا کرنے کا نوٹس بھجوائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ عدالت کو کوئی ٹھوس ثبوت فراہم کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں یا پھر اوپر دیئے گئے مصرعہ اولیٰ کے بعد مصرعہ ثانی کہنے پر مجبور ہوتی ہیں کہ

گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا

چونکہ عام طور پر ایسے معاملات میں کوئی دستاویزی ثبوت کم کم ہی موجود ہوتا ہے یا پھر سرے سے ہوتا ہی نہیں، جیسے کہ سیاسی میدان میں ضمیر فروشی کے سودوں میں بھی رسید لینے یا دینے سے احتراز کیا جاتا ہے اسلئے وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ ان دونوں معاملات کا اختتام کیا ہوگا۔

ہم کوئے ملامت سے گزر آئے ہیں یارو

اب چاک رہا ہے نہ گریبان رہا ہے

متعلقہ خبریں