Daily Mashriq

معیار تدریس میں بہتری کی کوششیں

معیار تدریس میں بہتری کی کوششیں

پاکستان میں تعلیم کی بات کی جائے تو ماضی قریب اور حال میں تعلیم کی بحث معیارِ تعلیم کے گرد گھومنا شروع ہو گئی ہے جوکہ ایک خوش آئند بات ہے۔ یہ بات تو ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں اور تسلیم بھی کرتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو ملنے والی تعلیم کا معیار بالکل بھی اچھا نہیں۔ اس بیان کی تصدیق کیلئے بہت سے ٹیسٹوں کے نتائج کے اعداد وشمار پر نظر دوڑائی جاسکتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورے ملک میں جب اُمیدوار استاد کی اسامی کیلئے درخواست دیتے ہیں تو ہم ان امیدواروں میں ’اچھے استاد‘ منتخب نہیں کرسکتے جوکہ معیارِ تعلیم کی خرابی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ استاد کی اسامی کیلئے درخواست دینے والے تمام اُمیدوار اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہی ان اسامیوں کیلئے درخواست دیتے ہیں لیکن تعلیمی نظام پر دستیاب اعداد وشمار کے مطابق ان امیدواروں کے تعلیمی سرٹیفکیٹ یا دوسرے کوائف سے یہ معلوم نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی امیدوار آگے جا کر کتنا اچھا استاد ثابت ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ مطلوبہ تعلیمی درجے میں اضافہ یا ٹیسٹ کے نظام میں بہتری لانے سے بھی اچھے استاد کے انتخاب کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا لیکن استاد بننے کے بعد دو سے تین سال کے عرصے میں ہم کسی خراب کارکردگی دکھانے والے استاد کو تعلیمی نظام سے باہر ضرور نکال سکتے ہیں۔ تعلیمی اعداد وشمار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ عرصے میں مختلف پیمانے استعمال کر کے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کون سا استاد ایک اچھا استاد ہے اور اگر ہم دو سے تین سال کے عرصے کو آزمائشی عرصے کے طور پر ملازمت کے معاہدے کا حصہ بنائیں تو ہم خراب کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کو تعلیمی نظام سے باہر نکال سکتے ہیں۔ اگر ہم نئے بھرتی ہونے والے تمام اساتذہ کیساتھ آزمائشی معاہدے کے عمل کو یقینی بنائیں تو چند سالوں میں ہم معیار تعلیم کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ہمارے سرکاری تعلیمی نظام کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم خراب کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کو بھی تین سال کے بعد نظام سے باہر نہیں کرتے اور تین سال کا آزمائشی وقت بھی صرف کاغذوں تک محدود ہے جبکہ حقیقت میں ایک دفعہ جو شخص تعینات ہو جاتا ہے وہ مستقل استاد ہوتا ہے چاہے وہ پہلے تین سال یا اس کے بعد جیسی بھی کارکردگی دکھائے۔ اگر اساتذہ کی بھرتی کے عمل اور آزمائشی وقت کے دوران خراب کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کو نہیں نکالا جاسکتا تو ہم امید کر سکتے ہیں کہ اساتذہ کی تربیت کے دوران ا ن کو بہترین استاد بنایا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے سرکاری شعبے میں تقریباً8 لاکھ افراد بطور استاد کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ کی اتنی بڑی تعداد کیلئے ہم ایک اچھے معیار کا تربیتی پروگرام کیسے تشکیل دے سکتے ہیں اور اس پروگرام میں ہر استاد کی انفرادی شخصیت کے مطابق تبدیلی کیسے لاسکتے ہیں؟ پاکستان میں اساتذہ کی تربیت کے پروگرام روایتی طور پر عمومی نوعیت کے ہی رہے ہیں اور ان میں زیادہ تبدیلیاں نہیں کی جاتی رہیں۔ ہر مضمون کیلئے دی جانیوالی مخصوص تربیت میں بھی تدریس کے عمومی اصولوں کے علاوہ اس مضمون سے متعلقہ علم کی تربیت دی جاتی ہے اور بعد میں تربیت میں سامنے آنیوالی خامیوں پر قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تربیت کے یہ عمومی پروگرام کئی سالوں سے ایسے ہی چلتے آرہے ہیں اور بہت سی اعداد وشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایسی تربیت کمرہ جماعت میں اساتذہ کے پڑھانے کے طریقہ کار میں موجود خامیوں پر قابو پانے میں معاون ثابت نہیں ہوتی۔ اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے پنجاب نے ’سپیشلسٹ‘ اساتذہ کی بھرتی اور تربیت کا تجربہ کیا ہے۔ اس حوالے سے تقریباً20 ہزارسبجیکٹ سپیشلسٹ کو کلسٹر کی سطح پر تعینات کیا گیا ہے تاکہ یہ سپیشلسٹ اساتذہ کیلئے قابلِ رسائی ہوں۔ مضامین کے سپیشلسٹ کو بھی انہیں امیدواروں میں سے منتخب کیا گیا ہے جن میں سے عام اساتذہ کا انتخاب کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ سپیشلسٹ بھی انہی مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں جن سے عام اساتذہ دوچار ہیں۔ پنجاب میں اساتذہ کی تربیت کا ذمہ دار ادارہ قائدِاعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ ایسے تربیتی پروگرام تشکیل دینے کی کوششوں میں مصروف ہے جن سے ان سبجیکٹ سپشلسٹ کی بہتر تربیت کی جاسکے۔ پنجاب کی جانب سے شروع کئے جانیوالے اس پروگرام کا غور سے معائنہ کیا جانا چاہئے اور باریک بینی سے تجزیہ کیا جانا چاہئے۔ یہاں پر سب سے زیادہ ضروری یہ دیکھنا ہوگا کہ سبجیکٹ سپیشلسٹ کیلئے ترتیب دیئے جانیوالے مخصوص پروگراموں اور معیارِ تعلیم کے درمیان کوئی تعلق پایا جاتا ہے یا نہیں۔ پنجاب کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی معیارِ تعلیم میں بہتری کی کوششیں کی گئی ہے اور اس حوالے سے سکولوں میں کمپیوٹرز کے علاوہ ٹیبلٹس بھی متعارف کروائے گئے ہیں جن کی بدولت اب اساتذہ انٹرنیٹ سے براہِ راست بھی اعلیٰ درجے کی تربیت حاصل کرسکتے ہیں اور طریقہ ِ تدریس سے متعلق کی جانیوالی تازہ ترین تحقیق کا مطالعہ کرکے اپنے طریقہِ تدریس میں بہتری لاسکتے ہیں۔ معیارِ تعلیم پر کی جانیوالے بے شمار تحقیقات کے مطابق اچھے اساتذہ اور معیار تعلیم کے درمیان براہِ راست تعلق پایا جاتا ہے اسلئے اگر ہم بھرتی کے دوران اچھے اساتذہ کا انتخاب نہیں کرسکتے تو ہم ایک اعلیٰ معیار کی تربیت کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پا سکتے ہیں۔

(بشکریہ: ڈان، ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں