Daily Mashriq

کس سے فریاد کریں کس سے منصفی چاہیں

کس سے فریاد کریں کس سے منصفی چاہیں

قارئین کے مسائل ومعاملات سے اس ہفتہ وار کالم کی وساطت سے آگاہی کیساتھ ساتھ معاشرے کے افراد کے مسائل کی نوعیت اور ان کی کیفیت سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔ کئی میسج ایسے ملتے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی دانست میں اخبار میں کسی مسئلے کی نشاندہی اور اپیل سے ان کا مسئلہ حل ہوگا۔ ایسا نہیں ایسا اس وقت ہی ممکن ہوتا جب لوگوں کے مسائل سے حکومت کو آگاہی نہ ہو۔ یہاں سب کچھ معلوم اور کوئی مسئلہ پوشیدہ نہیں، یہاں مسئلہ حکومتی بے حسی اور سرکاری اداروں کی لوگوں کے مسائل کے حل کی بجائے ان کو اُلجھانے اور پیچیدہ کرنے کا ہے، عوام کو مسائل میں اُلجھا کر ان کو گھیرنے کے طریقے نکالنے کا ہے، اصلاح کی وابستہ توقعات اب معدوم ہوتے جا رہے ہیں اور عوام کی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔ باربار کی نشاندہی کے باوجود سرکاری حکام ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ کس سیفریاد کریں کس سے منصفی چاہیں۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کے نوجوان قسم کھا کھا کر این ٹی ایس میں ناانصافیوں اور پرچہ آؤٹ ہونے کی دہائیاں دے رہے ہیں، ان کا اصرار ہوتا ہے کہ ان کی فریاد شامل کالم کی جائے۔ این ٹی ایس کے حوالے سے اعلیٰ حکومتی سطح پر بھی معاملات زیرغور ہیں اور پارلیمانی کمیٹی نے بھی اُمیدواروں کی شکایات سے اتفاق کیا ہے، چند ایک افراد پکڑ ے بھی گئے ہیں بعض محکموں نے این ٹی ایس کے ذریعے ٹیسٹ لینے کا عمل روک بھی دیا ہے لیکن اس مسئلے کا حل نظر نہیں آتا کیونکہ پبلک سروس کمیشن خیبر پختونخوا پر بھی اُمیدواروں کا مکمل اعتماد نہیں، خودمختار اداروں میں تو دکھاوے کی کمیٹی بنتی ہے جبکہ سرکاری محکموں میں اگر محکمانہ طور پر ٹیسٹ انٹرویو لئے جائیں تو جو کچھ ہوتا ہے مجھے اس کا عملی تجربہ ہے میں ان تلخ یادوں کو دہرانا نہیں چاہوں گی۔ اس ملک میں میرٹ کا صرف نام لیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ میرٹ کا نام بری طرح بدنام کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں یا تو آن لائن ٹیسٹ کا نظام لاگو کیا جائے یا پھر اس پورے نظام کو کسی غیرملکی ادارے کے حوالے کیا جائے۔ اس حساس شعبے کیساتھ ایسا کیا تو نہیں جا سکتا لیکن چارہ بس اب یہی باقی نظر آتا ہے۔ این ٹی ایس ہو یا پبلک سروس کمیشن، نظام میں کوئی برائی نہیں، لیکن اگر نظام کو چلنے ہی نہ دیا جائے تو نظام کا کیا قصور۔ میرے نوجوان قارئین کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ ظلم وتعدی کے یہ اندھیرے بھی بالآخر چھٹ جائیں گے۔ ظلمت شب کو صبح کے اُجالے کا چیرنا ہی قانون فطرت اور ہمارے روز کا مشاہدہ ہے۔ایک دلچسپ ایس ایم ایس تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے آبائی حلقہ سے ایک قاری نے بھیجا ہے۔ اس حلقے کے ممبر قومی وصوبائی اسمبلی دونوں کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے اور بقول ان کے دونوں ممبران اسمبلی بھائی بھی ہیں۔ وہ فریاد کرتے ہیں کہ ان کے علاقے کے مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی، ان کو واپڈا والوں کی کرپشن سے خاص طور پر شکایت ہے۔ کالاباغ ہسپتال میں سر درد کی گولی کے سوا کوئی دوا نہیں ملتی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، شہباز شریف سے علاقے کا دورہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ میرا تو خیال تھا کہ میرے قارئین خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات تک محدود ہیں مگر اس ایس ایم ایس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرق کے قارئین محدود نہیں بلکہ ان کا حلقہ کافی وسیع ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف خیبر پختونخوا اور سندھ کیساتھ ساتھ اگر میانوالی کا دورہ کریں تو ان کو دوہرا فائدہ ہوگا۔ عوامی مسائل سے آگاہی کیساتھ ساتھ وہ تحریک انصاف کے قائد کو چڑا بھی سکیں گے۔

سرائے نورنگ لکی مروت سے خالد نواز نے صحت کارڈ کو غریب عوام کیساتھ مذاق اور سرکاری وسائل سے انشورنس کمپنیوں کو چلانے کا حربہ قرار دیا ہے۔ ان کو شکایت یہ ہے کہ صحت کارڈ سے او پی ڈی کے مریضوں کو علاج کی کوئی سہولت نہیں دی جاتی جبکہ آپریشن اور ہسپتال میں داخلے کی نوبت شاید ہی کبھی آئے۔ یوں غریب مریضوں کے علاج کے نام پر ساری رقم انشورنس کمپنیوں کی تجوریوں میں چلی جاتی ہے۔ اگر اس رقم سے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈی مریضوں کو مفت ادویات ملیں تو اس سے مریضوں کی مشکلات کا ازالہ ہوگا، بصورت دیگر پیسے سرکار کی اور مزے انشورنس کمپنیوں کے۔ انشورنس کمپنیوں نے اب نیا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے کہ صحت کارڈ پر اعتراضات لگا دیتے ہیں کبھی شناختی کارڈ نمبر کے غلط درج ہونے کے اور کبھی کچھ کبھی کچھ، یہ تجربہ بری طرح ناکام اور عوام کی ناراضگی کا سبب بن رہا ہے جس کے پیش نظر آنیوالی حکومت شاید ہی اسے جاری رکھے۔

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج نمبر ون ڈیرہ اسماعیل خان کے محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والی طالبات نے شکوہ کیا ہے کہ وظیفہ کیلئے درخواست دینے کی بروقت اطلاع نہ ملنے کے باعث وہ وظیفے کے حصول سے محروم رہیں۔ ان کی درخواست ہے کہ ان کے معاملے پر ہمدردانہ غور کیا جائے۔ واقعی وقت گزرنے کے بعد آسان کام بھی پیچیدہ اور ناممکن بن جایا کرتا ہے۔ ان کو اطلاع نہ ملنے میں خود ان کا اپنا بھی قصور ہے اور کالج انتظامیہ تو پوری طرح قصوروار اور ذمہ دار ہے۔ محکمہ تعلیم کے حکام اگر ان قبائلی بچیوں کو تاخیر کے باوجود ان کا حق دینے میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں تو یہ ناممکن نہیں۔ گزشتہ روز کالم کی اشاعت کے بعد کئی بہن بھائیوں کی طرف سے امداد‘ علاج اور روزگار کیلئے اپیلیں ہو رہی ہیں اور ان کے مسائل کے حل اور ان کی مدد سرکاری ادارے اور حکومت ہی کے بس میں ہے اور ان کی ذمہ داری بھی ہے۔ محکمہ سماجی بہبود سے گزارش ہے کہ وہ خصوصی افراد کو یوں بے یار ومددگار چھوڑنے کی پالیسی ترک کرے اور ان کی جو ممکن ہو مدد کی جائے۔

متعلقہ خبریں