Daily Mashriq

عالمی یوم ملیریا

عالمی یوم ملیریا

دماغ، ذہن، سوچ ایک ہی زنجیر کی تین کڑیاں ہیں۔ یوں سمجھ لیجئے کہ دماغ ایک کیاری ہے۔ ذہن اس کی مٹی میں اُگنے والا پودا جبکہ سوچ یا فکر اس پودے کے تنے پر اُگنے والی ٹہنیوں یا شاخوں کی کونپلیں، کلیاں پھول اور پتے ہیں۔ یہ بات میں نے کہیں پڑھی نہیں اختراع ہے میرے اپنے ذہن کی، سوچ ہے میری اپنی جس سے آپ اتفاق کریں یا نہ کریں، آپ کی مرضی آپ میں سے بہت سارے لوگ ماہر نفسیات بھی ہوں گے، ہو سکتا ہے وہ میرے خیال کو حرف غلط سمجھ کر کسی قیمت بھی قبول نہ کریں اور یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ میری اس منطق پر ہنس دیں اور یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ میری ان باتوں کو لایعنیوں سے تعبیر کرنے لگیں، مجھے ذہنی مریض کا سرٹیفکیٹ تھما دیں یا غصے سے لال پیلے ہوکر اول فول ارشاد فرمانے لگیں۔ جس کی جو مرضی سوچے میں نے اپنی سوچ اور فکر کے بل بوتے پر دماغ کو تفکرات اور سوچوں کی عمارت کی بنیاد کہہ دیا۔ سوچ فکر اور غور وخوض کی کیاری کا نام دے دیا۔ یہ بات میں نے اسلئے عرض کی کہ آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں ملیریا کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کے متعلق میں جو کچھ جانتا ہوں وہ اتنا ہی ہوگا جتنا میری سوچ فکر اور مطالعے کی ذیل یا اس کے دائرے میں آسکتا ہے۔ ملیریا ایک موذی اور جان لیوا مرض ہے۔ یہ مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے اس سے محفوظ رہنے کیلئے ہمیں ان ہی احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنا چاہئے جن کی ڈینگی بخار سے بچنے کیلئے ضرورت پڑتی ہے۔ میرے یہ سارے مشورے ساری تدبیریں کتنی ہی صائب، سعد یا کارگر کیوں نہ ہوں کچھ سیانے لوگ میری ان باتوں کو نیم حکیم خطرہ جان کی لاابالیاں سمجھ کر خاطر ہی میں نہ لائیں، اسلئے میں عالمی یوم ملیریا کو طاق پر رکھتے ہوئے آپ سے جو بات شیئر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ یا یونیسکو کی جانب سی منائے جانیوالے آئے روز نت نئے عالمی دن منانے کی روش نے ہمیں الجھا کر رکھ دیا ہے۔ سال بھر میں تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ اقوام عالم کا ترجمان ادارہ یونیسکو سال بھر میں تین سو پینسٹھ سے کچھ زیادہ ہی عالمی دن منانے کی گرہ ڈال چکا ہے۔ آج کل ملک کے طول وعرض میں پہلوانان سیاست لنگوٹ کس کر میدان میں اُترے ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی کوشش میں مگن ہیں اور ملک کے تقریباً سارے کے سارے ہی دانشور، دانش مند، سوچکار اور قلم کار بس اس ہی ایک مسئلے کو اپنا موضوع سخن بنائے ہوئے ہیں اور میرے ذہن وشعور کی کیاری پر ہر کھلنے والی سوچ کونپل غنچہ بن کر کہہ رہی ہے کہ یا خدا یہی ایک موضوع رہ گیا ہے قلم گھسیٹنے کیلئے

کیا فراق وفیض سے لینا تھا مجھ کو اے نعیم

میرے آگے فکر وفن کے کچھ نئے آداب تھے

نعیم حسن کا یہ شعر پڑھتے ہی اک بات ذہن نارسا کی ٹہنیوں پر خیال بن کر پھوٹنے لگی کہ کیوں نہ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق مہینوں کے منتخب دنوں پر لکھنا شروع کردوں۔ سو میں نے اس خیال سے اتفاق کیا اور چہکنے لگا بلبل شوریدہ بن کر، پر اسے حسن اتفاق کہئے یا شومئی قسمت کہ ذہن نارسا کی سماعتوں سے شاعر مشرق کی بانگ درا کی دھنک ٹکرا ٹکرا کر مجھے ا پنی لکھت پر پشیمان کرنے لگی

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی

اپنے سینے میں اور اسے تھام ابھی

کیوں کیا ہوا، میں نے اپنے آپ سے پوچھا۔ ارے جس دن تو نے شاعر مشرق کے 80ویں یوم وفات پر لکھنا تھا۔ اس دن تو عالمی یوم الارض پر لکھنے بیٹھ گیا۔ یہ ستم کیسے روا ہوگیا؟۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ میرے دل کے کانوں نے ایک اور آواز سنی، اس آواز میں گولیوں کی بوچھاڑ بھی تھی، تکبیر کے نعرے بھی شور اور چغار بھی تھا اور دلدوز چیخیں بھی۔ اور پھر میری سماعتوں میں بھونچال برپا کرنیوالی ان آوازوں کا دل خراش شور مجھے نظر آنیوالے دلدوز مناظر کا روپ دھارنے لگا، میں نے قصہ خوانی بازار پشاور میں فرنگی راج کی برپا کی ہوئی نہتے اور بیگناہ پشاوریوں کی خون کی ہولی دیکھی۔ آہ کہ کتنی ماؤں کی گودیں خالی ہوتی رہیں۔ کتنی سہاگنوں کے سہاگ لٹتے رہے،23 اپریل 2018 کو مجھے 23 اپریل 1930 کے اس خون آشام دن کی یاد کو تازہ کرناتھا مگر بھول گیا پشاور کی تاریخ کے اس اہم دن کو جب پشاور کے قصہ خوانی بازار میں یزیدیوں نے دشت کرب وبلا برپا کیا تھا۔ آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں عالمی یوم ملیریا منایا جا رہا ہے، جانے آج کے دن کتنے مذہبی، قومی اور علاقائی موضوعات پر مبنی دن ہم سے اپنی یاد منانے کا تقاضا کر رہے ہونگے، لیکن ہم تو دنیا کی چکاچوند میں گم ہوکر اپنا آپ گما چکے ہیں، اپنی ساری قدریں ساری تاریخ قربان کر چکے ہیں۔ اس گلوبل ویلج یا کروی گاؤں کے جغرافیہ پر اور لنگوٹ کس لیا ہے اپنے سیاسی حریفوں کو چاروں شانے چت کرنے کیلئے۔ ہماری دماغ کی کیاری میں ڈالی ڈالی پر سوچوں کے جو پھول پتے اور کانٹے کھل رہے ہیں ان میں کوئی بھی تو ایسا نہیں جنہیں ہم اپنا کہہ سکیں۔ کتنا بدل چکے ہیں ہم اپنا پیراڈائم اس کی خبر تک نہیں، آج عالمی یوم ملیریا، کہتے ہیں یہ موذی مرض موذی مچھروں کے کاٹنے سے لاحق ہوتا ہے، لیکن ہم سب جس مرض میں مبتلا ہیں وہ نئی تہذیب کے پروردہ مچھروں کے کاٹنے سے لاحق ہوا ہے، جی ہاں وہی مچھر جنہوں نے ہماری رگوں سے خون کی ایک ایک بوند چوس کر ہمیں ایسا مرض لاحق کر دیا کہ ہم اپنا آپ تک گنوا بیٹھے۔

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

متعلقہ خبریں