Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ایک روز ایک شخص سلطان محمود ؒ کے دربار میںا نصاف حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوا جب محمود ؒ ا سکی طرف متوجہ ہوئے تو اس شخص نے عرض کیا : میری شکایت ایسی نہیں کہ میں اسے سردر بار سب لوگوں کے سامنے بیان کروں۔ محمود فوراً اٹھے اور اسے اکیلے میں لے جا کر اس کا حال پوچھا ، اس شخص نے کہا ، آپ کے بھانجے نے ایک عرصے سے یہ روش اختیار کر رکھی ہے کہ وہ ہر رات کو مسلح ہو کر میرے گھر پر آتا ہے اور اندر داخل ہو کر مجھے کوڑے ما ر مار کر باہر نکال دیتا ہے اور پھر خود تمام رات میری بیوی کے ساتھ گزارتا ہے۔ میں نے ہر امیر کو اپنا حال سنایا لیکن کسی کو میری حالت پر رحم نہ آیا اورکسی کو بھی اتنی جرات نہ ہوئی کہ وہ آپ سے یہ بات بیان کرتا۔ میں اس موقع کے انتظار میں رہا کہ آپ سے اپنا حال بیان کر سکوں ۔ خدواند تعالیٰ نے آپ کو ملک کا حاکم اعلیٰ بنایا ہے اس لیے رعایا اورکمزور بندوں کی نگہداشت آپ کا فرض ہے ۔ اگر آپ مجھ پر رحم فرما کر میرے معاملے میں انصاف کریں توزہے نصیب ، ورنہ میں اس معاملے کو خدا کے سپرد کردوں گا ۔ سلطان محمود عزنوی ؒ پر اس واقعہ کا بہت اثر ہو اور وہ یہ سب کچھ سن کر رو نے لگے اور اس شخص سے یوں مخاطب ہوئے ۔ اے مظلوم ! تو اس سے پہلے میرے پا س کیوں نہ آیا اور اتنے دنوں تک یہ ظلم کیوں برداشت کرتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد سلطان محمود اس شخص کے ساتھ اس کے گھر پہنچے وہاں جا کر محمود نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا سلطان محمود نے اسی وقت شمع کو بجھادیا اور اپنا خنجر نکال کراپنے بھانجے کا سر تن سے جدا کر دیا۔

٭امام احمد ؒ کے گھر میںا ٓٹا گوندھتے وقت خمیرے آٹے کی ضرورت پیش آئی ، تو ان کے بیٹے حضر ت عبداللہ ؒ کے گھر سے خمیرہ آٹا لایا گیا۔ جب روٹی پک گئی تو امام احمد ؒ کو بذریعہ کشف معلوم ہو اکہ روٹی مشتبہ ہے۔چنانچہ آپ نے گھر والوں سے دریافت فرمایا تو گھر والوں نے سارا قصہ سنادیا۔امام احمد ؒ نے روٹی کھانے سے انکار کر دیا اور نہ کھانے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ میرا بیٹا قاضی ہے جسے بیت المال سے وظیفہ ملتا ہے، امام احمد ؒ کی رائے میں سرکاری خزانے کا مال مشکو ک تھا، یعنی اس کا حلال ہونا یقینی نہیں تھا اور ایسے مال کا کھانا اور استعمال کرنا اگر چہ عام لوگوں کے لئے جائز ہے لیکن امام احمد ؒ جیسے عظیم المرتبہ محدث ایسے مال سے پرہیز کرتے تھے۔ حالانکہ ان کے بیٹے حضرت عبداللہ ؒ نہایت متقی اور صالح انسان تھے۔ بہرحال امام احمد ؒ نے جب روٹی میں شبہ ظاہر کیا تو گھر والوں نے پوچھا کہ یہ روٹی مساکین کو دے دیں؟ فرمایا ہاں دے دو، مگر دیتے وقت یہ عیب ضرور بیان کرنا، چنانچہ گھر والوں نے جب وہ روٹی مساکین کو دینا چاہی تو انہوںنے بھی روٹی کھانے سے انکار کر دیا، گھر والے پریشان ہوگئے، انہوںنے امام احمدؒ سے مشورہ کیے بغیر وہ روٹی دریا میں ڈال دی ۔ امام احمد ؒ کو جب اس بات کا علم ہوا تو آپ ؒ نے زندگی بھر مچھلی کھانا چھوڑ دی (کہ مچھلیوں نے وہ مشتبہ روٹی کھائی ہوگی )

متعلقہ خبریں