Daily Mashriq

سعودی جیلوں سے پاکستانیوں کی رہائی میں تاخیر پر اپوزیشن کو تشویش

سعودی جیلوں سے پاکستانیوں کی رہائی میں تاخیر پر اپوزیشن کو تشویش

اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے دوران سعودی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے اعلان کے باوجود انہیں چھوڑنے میں ہونے والی تاخیر پر تشویش کا اظہار کردیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی میاں ریاض حسین پیرزادہ کا کہنا تھا کہ میں ایسے پاکستانیوں کی مثال دے سکتا ہوں جو اپنی سزا پوری کرنے کے باوجود سعودی جیلوں میں قید ہیں۔

گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں پاکستانی سفیر راجہ علی اعجاز کا کہنا تھا کہ سعودی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کا عمل جاری ہے اور قوم رمضان المبارک کے مہینے میں ’اچھی خبر‘ سنے گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی قیدیوں کی رہائی سلسلہ مئی کے پہلے ہفتے میں شروع ہوجائے گا۔

خیال رہے کہ سعودی ولی عہد نے دورہ پاکستان کے بعد وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر سعودی جیلوں میں قید 2 ہزار ایک سو 7 کی رہائی کا پروانہ جاری کیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سعودی ولی عہد سے درخواست کی گئی تھی وہاں کام کرنے والے پاکستانی مزدوروں کی مشکلات کو دیکھیں اور انہیں اپنا ہی تصور کریں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکریٹری برائے سمندر پار پاکستانی جویریہ ظفر اہیر نے ایوان کو بتایا کہ وہ اور دفتر خارجہ پاکستانیوں کی رہائی کے لیے مل کر کوششیں کر رہے ہیں۔

اپوزیشن اراکین کے سوال کے جواب میں جویریہ ظفر اہیر نے بتایا کہ اب تک انہیں وقفے وقفے سے معلومات موصول ہورہی ہیں، تاہم رہائی پانے والے قیدیوں کی ٹھیک تعداد جلد معلوم ہوجائے گی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں اس وقت 3 ہزار 4 سو پاکستانی قید ہیں۔

بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تعداد کے بارے میں سید آغا رافیع اللہ کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا کہ بھارتی جیلوں میں مجموعی طور پر 5 سو 85 پاکستانی قید ہیں جن میں 3 سو 75 عام شہری جبکہ 2 سو 10 ماہی گیر شامل ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ وزارت خارجہ متعلقہ بھارتی حکام کے سامنے قیدیوں کی جلد وطن واپسی کے معاملے کو وقتاً فوقتاً اٹھارہا ہے جس میں پاکستانیوں تک قونصلر رہائی اور ان کی قانونی مدد شامل ہے۔

متعلقہ خبریں