Daily Mashriq


غلط انجیکشن سے نشوا کے انتقال پر دارالصحت ہسپتال سیل

غلط انجیکشن سے نشوا کے انتقال پر دارالصحت ہسپتال سیل

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن (ایس ایچ سی سی) نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے غلط انجیکشن کے باعث انتقال کرنے والی نو ماہ کی بچی نشوا اور 24 سالہ خاتون کے لواحقین کو کارروائی کی یقین دہانی کے بعد دارالصحت ہسپتال کا شعبہ او پی ڈی سیل کر دیا۔

ایس ایچ سی سی کے چیئرمین ڈاکٹر ٹیپو سلطان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے تمام اوپی ڈی کو بند کردیا ہے اور مریضوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی ہے تاہم جو مریض داخل ہیں وہ بدستور وہی زیر علاج رہیں گے'۔

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نشوا کے لواحقین سے تعزیت کی تھی اور ان کے والد کو یقین دلاتے ہوئے کہا تھا کہ 'ہم اپنی بھرپور کوششوں کے باوجود نشوا کو نہ بچا سکے جس پر افسوس ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم سب جانتے ہیں کہ اب وہ واپس نہیں آسکتی ہیں لیکن ہم اس بات کو یقینی بناسکتے ہیں کہ آئندہ اس طرح کے واقعات پیش نہ آئیں'۔

بعد ازاں دارالصحت ہسپتال کو سیل کردیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے ایس ایس سی سی کی جانب سے نشوا کے انتقال کے حوالے سے تیار کی گئی ایک رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ 'وزیرصحت کو بھی اس پر تحفظات ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'رپورٹ کے مطابق ہسپتال کو 50 فیصد عملہ غیر تربیت یافتہ ہے اور یہ نہایت سنجیدہ معاملہ ہے جس کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے'۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کمشنر کراچی کو ہدایات دی گئی ہیں کہ تمام نجی ہسپتالوں کا آڈٹ کیا جائے اور ان کے عملے کے تربیت کے حوالے سے نشان دہی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ بااثر یا امیر لوگوں کا سوال نہیں ہے بلکہ قانون اپنا راستہ خود لے گا'۔

نشوا کے لواحقین نے ایف آئی آر میں نامزد ڈاکٹروں کی تاحال عدم گرفتاری کی شکایت کی اور کہا کہ ایک مبینہ ملزم ٹی وی چینلوں میں آیا تھا اور متاثرہ بچی اور خاندان پر الزامات عائد کرتے ہوئے خود کو بچا رہا تھا جس پر وزیراعلیٰ نے چینلوں میں متنازع افراد کو بلانے پر افسوس کا اظہار کیا۔

خیال ہے کہ ایس ایچ سی سی کی رپورٹ میں مبینہ طور پر کہا گیا تھا کہ دارالصحت ہسپتال کا نرسنگ اسسٹنٹ نے غلط انجیکشن لگایا تھااور ہسپتال کے 165 میں سے 70 کے قریب نرسز غیرتربیت یافتہ ہیں اور اس کے ساتھ ہی نرسنگ اسسٹنٹ معیز اور خاتون ڈاکٹر ثوبیہ کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی سفارش کی گئی تھی تاہم دونوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ایس ایچ سی سی نے اپنی رپورٹ میں نشوا کے انتقال کو ' ڈیوٹی پر موجود نرسنگ اسٹاف کی غفلت کا شاخسانہ قرار دیا تھا اور قواعد کے مطابق ہسپتال پر 5 لاکھ جرمانہ عائد کرنے کی سفارش کی تھی'۔

یاد رہے کہ 9 ماہ کی بچی نشوا دو روز قبل دوران علاج چل بسی تھیں جنہیں دارالصحت ہسپتال میں غلط انجیکشن کے باعث دماغ کو نقصان پہنچا تھا اور کئی روز تک زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کر گئی تھیں۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کورنگی نمبر 5 میں ایک ہسپتال میں غلط انجیکشن کے باعث انتقال کرجانے والی 24 سالہ خاتون کے گھر کا بھی دورہ کیا اور لواحقین سے تعزیت کی۔

جاں بحق خاتون کے لواحقین نے ہسپتال کے عملے پر جنسی زیادتی کے بعد غلط انجیکشن دے کر قتل کرنے کا الزام عائد کیا تھا لیکن تاحال ایف آئی آر میں متعلقہ سیکشن شامل نہیں کیا گیا۔

ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں لواحقین کے الزامات کی تصدیق کا انکشاف ہوا تھا تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ حتمی رپورٹ کے بعد ہی اس کی مکمل تصدیق ہوگی۔

ہسپتال کے ڈاکٹر ایاز عباسی نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی جو ملزمان میں شامل ہیں تاہم انہیں ابراہیم حیدری پولیس نے قانونی کارروائی کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) لایا۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ دوسرے ملزم ڈاکٹر شکیل کے خون کے نمونے بھی لیے گئے ہیں اور مجموعی طور پر 5 افراد کے خون کے نمونے حاصل کرلی گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں