Daily Mashriq

 پاکستان ایف اے ٹی ایف میں اپنا کیس پیش کرنے کیلئے تیار

پاکستان ایف اے ٹی ایف میں اپنا کیس پیش کرنے کیلئے تیار

اسلام آباد: منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے عالمی معیار کی تعمیل کرتے ہوئے اور کارکردگی کی بنیاد پر جائزے کی سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ پاکستان 15مئی کو سری لنکا میں فنانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے سامنے اپنا کیس پیش کرے گا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس اور ریونیو کا ان کیمرہ اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری خزانہ محمد یونس ڈھاگا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین، سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے کمشنرز، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعلیٰ ترین افسران، وزارت خارجہ اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نمائندے شریک ہوئے اور ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے آگاہ کیا۔

باخبر ذرائع کا کہنا تھا کہ اجلاس میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان نے اب تک ایف اے ٹی ایف کے 28-29 نکات میں سے 19 پر عملدرآمد کروادیا ہے جبکہ انتظامی اور قانون سازی کے حوالے سے 5 نکات پر ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کو امید ہے کہ بقیہ نکات پر مالی بل 20-2019 کے ذریعے رواں برس جون تک عمل کرلیا جائے گا۔

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ وزارت خارجہ ایف اے ٹی ایف میں جغرافیائی صورتحال کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر جائزہ لینے کے لیے امریکا سمیت بااثر ممالک اور یورپی یونین سے رابطہ کرے گی اور اس کے لیے ایف اے ٹی ایف کے صدر مارشل بلنگسلیا کے سامنے بھی موقف پیش کیا جاچکا ہے۔

خیال رہے کہ مارشل بلنگسلیا، امریکی محکمہ خزانہ میں نائب سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز ہیں اور دہشت گردوں کی مالی معاونت اور مالی جرائم کی روک تھام کی تنظیم کی سربراہی بھی انجام دے رہے ہیں۔

اجلاس کے بعد کمیٹی کے چیئرمین فیض اللہ نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ ایف اے ٹی ایف پر دی گئی حکومتی بریفنگ سے مطمئن ہیں، ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر تیزی سے عمل کررہی ہے اور اُمید ہے کہ معاملات جلد حل ہوجائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان شرائط پر عملدرآمد کرنے کے سلسلے میں کسی کو بھی ہراساں نہیں کیا جانا چاہیے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی ہے کہ کوئی عہدیدار ایف اے ٹی ایف کی شرائط کا غلط استعمال یا کسی کو ہراساں کرنے کا مرتکب پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری خزانہ محمد یونس ڈھاگا نے بتایا کہ بیل آؤٹ پیکج پر بات چیت کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد کی آمد 27 سے 29 اپریل تک متوقع ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جیسا کے تصور کیا جارہا ہے کہ 24 مئی کو بجٹ پیش کیا جائے گا یہ درست نہیں بلکہ وزارت خزانہ مئی کے آخری ہفتے میں بجٹ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

متعلقہ خبریں