Daily Mashriq

وزیراعظم خودایوان کو اعتماد میں لیں

وزیراعظم خودایوان کو اعتماد میں لیں

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان کے دورۂ ایران کے دوران دئیے جانے والے دہشتگردی سے متعلق بیان پر اپوزیشن کی جانب سے شدید ہنگامہ آرائی اور ایوان کی کارروائی کو معطل کرنے کی نوبت نہیں آنی چاہئے تھی۔دریں اثناء وزیراعظم کی پاکستانی سرزمین استعمال ہونے کے بیان کے معاملے پر وزیراعظم آفس سے وضاحت کی گئی ہے کہ وزیراعظم کا یہ بیان سیاق وسباق سے ہٹ کر لیا گیا، وزیراعظم نے نان اسٹیٹ ایکٹرز کی بات کی تھی، وزیراعظم کا اشارہ کلبھوشن یادیو جیسوں کی طرف تھا، اسی طرح پاکستان میں ایران اور افغانستان سے حملے ہوتے رہے ہیں، وزیراعظم نے دورہ ایران میں بلوچستان واقعے کا ذکر کیا تھاوزیراعظم آفس کے ترجمان کی وضاحت اپنی جگہ لیکن وزیراعظم کے بیان پر جو صورتحال گزشتہ روز ایوان میں سامنے آئی اُسے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جب تک وزیراعظم آفس سے وضاحت اور موقف سامنے آیا اُس وقت تک بات کوٹھوں چڑھ چکی تھی جس کا حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے فائدہ اٹھانا فطری امر تھا اس لیئے کہ ہر حزب اختلاف کو موقع چاہیئے ہوتا ہے۔ بنا بریں زیادہ بہتر یہی ہوگا کہ وزیراعظم آفس کے بیان پر اکتفا کرنے کی بجائے وزیراعظم خود ایوان میں آکر ایوان کو اعتماد میں لیں۔ عوام اس سوال میں یقینا حق بجانب ہیں کہ حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین ایک دوسرے کا موقف تحمل سے سننے اور الزام تراشی پر اترنے کی بجائے دلیل کیساتھ بحث کرنے کا رویہ کب اپنائیں گے۔ اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایران میں جو بیان دیا وہ انتہائی تشویش ناک ہے اور یہ پاکستان کو بیک فٹ پر لے جانے کے مترادف ہے۔ وزیراعظم نے اس سے قبل بھی اسی طرح کا بیان نیویارک ٹائمز کو دیا تھا ۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپنی تقریر کے دوران وزیراعظم عمران خان کے بیان کی وضاحت پیش کی اورکہا کہ وزیراعظم کے بیان کا صرف ایک حصہ دیکھا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حنا ربانی کھر نے وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورۂ ایران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وزیراعظم اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ ماضی میں ہماری سرزمین پڑوسی ملک کیخلاف استعمال ہوئی۔حنا ربانی کھر کی تقریر کے جواب میں وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کی تقریر اپوزیشن کے شور شرابے میں ہوئی جس میں انہوں نے پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں اور قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قومی اور بین الاقوامی معاملات سیاست بازی اور الزام تراشی کیلئے نہیں ہوتے بلکہ یہ نہایت سنجیدہ معاملات ہوتے ہیں جس سے دنیا کے ممالک کیساتھ تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔ وزیراعظم کے بیان کے جس حصے پر حزب اختلاف سیخ پا ہے اس حوالے سے مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے وضاحت کی ہے کہ یہ بیان سیاسی وعسکری قیادت کی مشاورت سے ملکی مفاد میں دیا گیا ہے۔ اس حد تک تو یہ درست ہے لیکن اس اعترافی نوعیت کے بیان کا ایف اے ٹی ایف کیا اثر لے گا اور آیا یہ ان کیلئے ایک جواز کا باعث تو نہیں بنے گا یہ پہلو قابل غور ہے۔ جہاں تک اس قسم کے بیانات کا تعلق ہے قبل ازیں کی حکومتوں میں اس نوعیت کے بیانات کی گنجائش نہیں ہوا کرتی تھی مگر اب سوچ میں واضح تبدیلی کے بعد بجائے اس کے کہ عملی طور پر شکوک وشبہات کا خاتمہ کرنے کی باالحکمت طریقۂ کار اختیار کیا جاتا ببانگ دہل اعتراف کا راستہ اپنایا گیا۔ چونکہ وزیراعظم کے دورے سے قبل وزیرخارجہ نے ایران کے حوالے سے بھی خاص سنجیدہ بیان دیا تھا ممکن ہے اسے متوازن کرنے کیلئے خوداعترافی کا سہارا لینا ضروری تھا۔ ملکی قیادت اس قسم کے بیان کی متحمل ہوسکتی ہے یا نہیں اس سے قطع نظر اگر سفارتی لحاظ سے دیکھا جائے اور ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے اس پر غور کیا جائے تو اس قسم کے واضح بیان اور اعتراف کی بالکل گنجائش نہیں نکلتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سفارتی لحاظ سے اس اعتراف کے مضمرات کیساتھ ساتھ اس امر کے اعتراف کو پاکستان کی پالیسی میں بہت واضح، بڑی اور قابل قبول تبدیلی اور ایسی سمت جس کی دنیا کو ہم سے توقع تھی اور اس کا بار بار مطالبہ کیا جا رہا تھا کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ اس بیان سے اگر وہ پالیسی قطع ہوتی ہے اور پالیسی میں واضح تبدیلی کا دنیا کو یقین آجاتا ہے تو پھر اعتراف کی تلخیوں کو امرت سمجھ کر پینا ملک وقوم کے مفاد میں ہے۔ حزب اختلاف کے متوازن بیان اور جواب طلبی کا مدلل جواب دے کر ان کو مطمئن کرنے کی ذمہ داری وزیرخارجہ کی تھی جس کی ملک میں عدم موجودگی کی بناء پر اس ذمہ داری کو نبھانے کی ذمہ داری اس کے ہم پلہ وزیر کو ادا کرنے کی ضرورت تھی۔ حنا ربانی کھر وزارت خارجہ اور بین الاقوامی تعلقات کا وسیع تجربہ اور علم رکھتی ہیں، ان کے اعتراضات کے جواب وہ نہیں تھے جو ایوان میں دیئے گئے۔ بہتر ہوگا کہ وزیراعظم اس معاملے پر ایوان میں پالیسی بیان دے کر ایوان کو مطمئن کرے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس معاملے کو سیاسی سکورنگ کے بجائے اہم قومی معاملہ سمجھ کر نمٹایا جائے۔

متعلقہ خبریں