Daily Mashriq

حکومت اور حزب اختلاف دونوں لچکدار رویہ اپنائیں

حکومت اور حزب اختلاف دونوں لچکدار رویہ اپنائیں

قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ حزب اختلاف کا خیبر پختونخوا اسمبلی کی 36قائمہ کمیٹیوں، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور تین ڈیڈک کمیٹیوں سے استعفیٰ صوبائی اسمبلی کی روایات کے برعکس معاملہ ہے جس پر حکومت اور حزب اختلاف دونوں اپنے کردار وعمل پر نظرثانی کرکے مفاہمت کا راستہ اپنائیں تو یہ ہر دو اور صوبے کے حق میں بہتر ہوگا۔ حزب اختلاف کی شکایات واحتجاج یہاں تک کہ استعفے ان کا جمہوری حق ہے لیکن سپیکر کی جانب سے اس معاملے پر وضاحت اور بات چیت کی کوشش پر حزب اختلاف کا منفی رویہ کسی طور مناسب نہ تھا جس سے اس امر کا تاثر ملتا ہے کہ حزب اختلاف کو اپنے تحفظات دور کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ وہ حکومت کو نیچا دکھانے کی دانستہ ونادانستہ طور پر کوشاں ہے اور ان کا مقصد وہ نہیں جو موقف اختیار کیا گیا ہے۔ حکومت اور خاص طور پر سپیکر صوبائی اسمبلی کا اس کے باوجود رویہ مثبت ہی رہنا چاہئے اور اگر حزب اختلاف ایوان کے پاسبان کی بات نہیں سننا چاہتی تو وزیراعلیٰ کو خود ان سے بات کرنی چاہئے تاکہ معاملہ رفع دفع ہو۔ حزب اختلاف کے جو اعتراضات وتحفظات ہیں، حزب اختلاف کے ارکان کی جماعتوں کی حکومتوں کے دوران یہی شکایتیں ان کے حوالے سے بھی رہی ہیں۔ اس قسم کے معاملات کا کسی نہ کسی جگہ اور کہیں نہ کہیں اختتام ہونا چاہئے تاکہ محاذآرائی کا موقع ہی باقی نہ رہے۔ ماضی میں جو ہوا اسے دہرانے کی بجائے موجودہ حکومت اگر مثبت رویہ اپناکر حزب اختلاف کو منا لے تو یہ ایک اچھی روایت ہوگی۔ حزب اختلاف کو بھی میں نہ مانوں کی پالیسی ترک کرکے لچکدار اور موافق رویہ اختیار کرنا چاہئے۔

ڈرامہ یا حقیقت کا تعین تحقیقات کے بعد ہونا چاہئے

خیبر پختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا پولیو کے قطروں پر عوامی ردعمل اور پروپیگنڈے سے پیدا ہونے والی صورتحال کی تحقیقات کیلئے فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ ایسا مطالبہ نہیں کہ اس کی مخالفت کی جاسکے۔ خود حکومت کے مفاد میں بھی یہ ہے کہ غلط فہمیوں کا جس قدر احسن طریقے سے ممکن ہو خاتمہ کیا جائے اور عوام کے ذہنوں میں کلبلاتے سوالوں اور غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے۔ متاثرہ علاقوں سے منتخب ایم پی ایز کی جانب سے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ تسلیم کرنے کیلئے کمیٹی میں اپنی شمولیت کی شرط ان کا حق ہے جن کی شمولیت اور اطمینان کیساتھ ہی سامنے آنے والی رپورٹ مستند اور قابل قبول ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گزشتہ روز کی افواہ طرازی کو ڈرامہ قرار دینے کا متعلقہ عہدیداروں کو پورا حق ہے لیکن جس بڑے پیمانے پر اور جس کامیابی سے یہ ڈرامہ رچایا گیا وہ بھی قابل غور ہے۔ خود وزیراطلاعات 25ہزار بچوں کے ہسپتال لانے کی تصدیق کرتے ہیں تو کیا 25ہزار بچوں میں ہزار یا پانچ سو بچے بھی ایسے نہ ہوں گے جن کی طبیعت خراب ہوئی ہے۔ ویکسین کے زائدالمیعاد اور خاص طور پر غیرمحفوظ طریقے سے رکھنے، لانے اور لے جانے کے عمل کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ وٹامن ڈی کے قطرے سے بعض بچوں کی حساسیت کے باعث طبیعت خراب ہونے کی ممکنہ وجہ کو سامنے لایا جا سکتا ہے۔ پولیو مہم کیخلاف ہموار رائے عامہ کا جب تک دلیل وبرہان اور ذہنوں کیلئے قابل قبول وجوہات سامنے نہ لائی جائیں پرنالہ وہیں کا وہیں رہے گا۔ اسمبلی کے فورم اور عوامی نمائندوں کے ذریعے سے اس کی تحقیقات سے زیادہ بہتر فورم کوئی نہیں۔

ایس ایچ اوز کے تبادلے مقررہ پالیسی کے تحت کرنے کی ضرورت

کیپٹل سٹی پولیس چیف نے جن تین ایس ایچ اوز کو لائن حاضر کیا ہے ان کے تبادلے کی وجہ واضح ہے، علاوہ ازیں جو انیس ایس ایچ اوز تبدیل کئے گئے ہیں ان کے تبادلے کی وجوہات کا علم نہیں۔ سرکاری ملازمین کے معمول کے تبادلے کیلئے تین سال کا وقت مقرر ہے لیکن کسی بھی تھانے میں کوئی ایس ایچ او شاید ہی تین سال گزار پاتا ہے۔ دیگر پولیس افسران کے تبادلے اتنے غیرمعمولی طور پر نہیں ہوتے جتنی جلدی ایس ایچ اوز کو ادھر ادھر کردیا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر ایس ایچ او کو مقررہ مدت پوری کرنے کا موقع دے کر ہی اس سے کارکردگی کی رپورٹ طلب کی جا سکتی ہے اور اس کی کامیابی ناکامی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جن پولیس افسران پر الزامات ہوں ان کا تبادلہ اس الزام کے ثابت ہونے پر بطور سزا کرنے کی مخالفت نہیں کی جاسکتی۔ سیاسی بنیادوں یا سفارش پر ہونے والے آئے روز تبادلے کرنے کی ریت ختم کی جائے تو بہتر ہوگا۔ سزا کے طور پر اگر کسی پولیس افسر کا تبادلہ ہو تو اسے پھر کسی تھانے کا سربراہ مقرر نہ کرنے کی پالیسی اختیار کی جانی چاہئے نہ کہ دو تین ماہ لائن حاضر کر کے پھر کسی پرکشش تھانے کا چارج تھما دیا جائے۔

متعلقہ خبریں