Daily Mashriq


پاک ایران تعلقات کی سردمہری کیسے ختم ہو؟

پاک ایران تعلقات کی سردمہری کیسے ختم ہو؟

فقیر راحموں اگلے روز کہہ رہے تھے ’’ضد سے بھرے انکار اور تکبر سے عبارت اقرار سے اللہ بچائے۔‘‘ بادشاہ آدمی ہے کسی وقت کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ سچ تو یہی ہے کہ ضد سے بھرے انکار نے ہماری وہ درگت بنائی ہے کہ رہے نام اللہ کا۔ بہت ساری مثالیں دی جاسکتی ہیں تاریخ سے۔ ماضی قریب سے اور لمحۂ موجود سے مگر فائدہ؟ ہمارے سماج کا بنیادی مسئلہ کچھ اور ہے‘ غیرجانبداری کی آڑ میں جانبداری‘ ترک تعلق کے بعد کردارکشی اور بدزبانی جیسے کھابے مرغوب ہیں لیکن چھوڑیں ان باتوں میں کیا رکھا ہے۔ جناب عمران خان کے وزیرخارجہ نے سانحۂ کوسٹل ہائی وے کے حوالے سے جو کچھ کہا اس کا ثبوت ابھی اگر دے دیتے تو مناسب تھا۔ وہ پیر اچھے ہوں گے مگر سیاست اور خارجہ امور تعویزوں پر نہیں زمینی حقائق کے محتاج ہوتے ہیں۔ ہمارے ملتانی پیر (مخدوم شاہ محمود قریشی) بھلے آدمی ہیں، اتنے بھلے کہ خود نہیں جانتے کہ وہ پڑوسی ممالک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی ایجنڈے کو فالو کر رہے ہوتے ہیں۔ بڑی طاقتوں سے ان کے خاندان کے دوصدیوں سے تعلقات ہیں۔ ان تعلقات اور اچھی انگریزی بول لینے کی وجہ سے انہیں یہ وہم ہے کہ وہ پیدا تو وزیراعظم بننے کیلئے ہوئے تھے لیکن قسمت ان سے ’’دھرو‘‘ فریب کرتی آرہی ہے۔ پچھلے کچھ دنوں بلکہ عرصے سے وہ پھر ہیروگیری کے چکر میں ہیں حالانکہ معمولی سی فراست والا شخص بھی یہ جانتا ہے کہ ’’منظوری‘‘ کس دربار سے ہوتی ہے۔ بجا کہ وہ جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے پیر ہیں مگر پیر تو ہمارے محبوب رہنما پیر پگاڑا مرحوم بھی تھے۔ صرف پیری ہی اگر وزارت عظمیٰ دلا سکتی تو 2008ء میں مخدوم امین فہیم وزیراعظم بن جاتے۔ ہم بھی نجانے کیا کیا قصے پھرولنے لگتے ہیں۔ بات شروع ہوئی تھی فقیر راحموں کے تازہ ارشاد سے اور قبلہ پیر دوراں مخدوم شاہ محمود قریشی تک چلی گئی۔ مخدوم صاحب اچھے آدمی ہیں بس یہ نہیں جانتے کب کیا کہنا اور کیا کرنا ہے۔ فقیر راحموں کہتے ہیں وہ جہانگیر ترین کو ایران سمجھ کر غصہ نکالتے رہتے ہیں۔ مسکرانے کی ضرورت نہیں کل کر ہنس لیں اس بات پر مہنگائی اور گرمی سے بنے ماحول میں اتنا بھی کافی ہے۔عمران خان کے دورۂ ایران کو لیکر سوشل میڈیا پر عجیب مارا ماری ہو رہی ہے۔ ممالک کے تعلقات کے تناظر میں کم اور عقیدوں کی روشنی میں زیادہ دیکھا جا رہا ہے اس دورے کو، حالانکہ اس کی ضرورت نہیں۔ سفارتی سردمہری ہے پاک ایران تعلقات میں کیا وہ اس دورے سے کم ہوگی؟ بظاہر ایسا نہیں لگتا۔ وجہ یہ ہے کہ پچھلے چند برسوں سے ایران اور بھارت کے تعلقات زیادہ مستحکم ہوئے۔ سیاسی اور تجارتی بنیادوں پر استوار ایران بھارت تعلقات کا ٹھنڈے دل سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ سے محبت بھرے تعلقات کے باوجود بھارت اپنی خارجہ پالیسی اپنے مفاد میں بناتا ہے۔ اس حوالے سے 71برسوں سے ہماری ترجیحات کیا ہیں اس پر بات کریں تو فتویٰ ٹھک سے ماتھے پر لگے گا۔ ہم واشنگٹن کی مرضی کے بغیر سانس لینا بھی گناہ سمجھتے ہیں، گناہ وثواب کے اس چکر میں خارجہ پالیسی اور ملکی مفادات گئے بھاڑ میں ورنہ ایران ہمارے لئے ایک اچھی اور زرخیز منڈی کا درجہ رکھتا ہے۔ گندم‘ چاول‘ کپاس‘ آم‘ مالٹا‘ ادویات‘ آلات جراحی‘ کھیلوں کا سامان‘ ریڈی میڈ گارمنٹس یہ وہ اشیاء ہیں جو ہم ایرانی منڈی میں فروخت کرتے رہے، اب یہ اشیاء بھارت فروخت کرتا ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے امریکی پابندیوں کو چوم کر سینے سے لگایا، بھارت نے ملکی مفاد کو ترجیح دی۔ لاریب دیگر مسائل بھی ہیں لیکن ان پر بات چیت ہوسکتی تھی مگر ہم قدم قدم پیچھے ہٹتے گئے بھارت آگے بڑھتا گیا۔ کاش ہماری وزارت تجارت نے صورتحال کی سنگینی کو وقت پر سمجھنے کی ضرورت محسوس کی ہوتی۔ ہمیں ایران سے سستا تیل مل سکتا ہے۔ زرداری دور میں گوادر میں آئل ریفائنری لگانے کا معاہدہ بھی ہوا تھا جس کے منافع میں بھی پاکستان حصہ دار ہوتا مگر جناب نواز شریف کے دور میں کس کے حکم پر گیس پائپ لائن اور آئل ریفائنری والے معاہدوں کو پس پشت ڈالا گیا یہ کوئی راز ہرگز نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خارجہ پالیسی اپنی ضرورتوں اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیں۔ امریکہ کی غلامی بہت ہو چکی، بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں ہم امریکہ کے تابعداروں کے ناز اُٹھانے میں بھی پیش پیش رہے ہیں، کسی بھی طور یہ درست نہیں۔ ہمیں ایک بار پھر ایرانی منڈیوں تک بھرپور رسائی کیلئے حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی۔ تیل کے بدلے اجناس واشیاء کی فروخت کا معاہدہ بھارت کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں؟ ایران ہو یا افغانستان دونوں ہمارے ایسے پڑوسی ہیں کہ اگر بہتر تعلقات کار ہوں تو دونوں کی منڈیوں سے ہمارے تاجر بھرپور فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ پالیسی ساز ان خطوط پر سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کرتے؟ جواب بالائی سطور میں موجود ہے۔ جناب عمران خان کا دورہ ایران بجاطور پر درست اور بروقت ہے۔ دوسروں کی خوشی وخوشنودی کیلئے ہم اپنے پڑوسی کو ناراض کیوں کریں۔ پڑوسی بھی ایسا جس نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا، اقوام متحدہ میں رکنیت دلوانے میں مدد کی، 1965 اور 1971ء کی جنگوں میں بھرپور ساتھ دیا۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ متحدہ ہندوستان اور خصوصاً انڈس ویلی کی اقوام کیساتھ ایرانیوں کے تعلقات صدیوں پر نہیں ہزاریوں پر محیط ہیں۔ کبھی متحدہ ہندوستان کی دفتری زبان فارسی ہوا کرتی تھی۔ بہرطور عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تجارتی امور میں درآئی سردمہری کو ختم کروانے کیلئے وزیراعظم کو ذاتی طور پر دلچسپی لینا چاہئے۔ دونوں ملکوں کے مراسم تعاون اور تجارت میں بہتری دونوں کے مفاد میں ہے۔ ہمیں کسی سے تعلقات کی قیمت پر کسی دوسرے ملک کیلئے خارجہ پالیسی تشکیل دینے کی بیماری سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ ہمارے اپنے مفادات ہیں پالیسی ساز اگر انہیں مقدم سمجھیں تو بہت سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں