Daily Mashriq


خدائی اہتمام خشک وتر ہے

خدائی اہتمام خشک وتر ہے

جنرل ضیاء الحق مرحوم نے پاکستان کے سیاستدانوں کے ہاتھوں ملک کے روزبروز بگڑتے حالات کے پیش نظر اقتدار سنھبالا تو90دن کے اندراندر غیرجانبدار، شفاف اور منصفانہ انتخابات کا اعلان کیا لیکن پھر حالات بدلتے رہے اور انتخابات ملتوی ہوتے ہوتے طویل عرصہ تک مارشل لاء اور پھر نیم جمہوری حکومت چلتی رہی۔ آج بھی یہ بات طے نہیں ہوسکی ہے کہ پاکستان میں مارشل لاء کیوں لاگو ہو جاتا ہے؟ سیاسی حکومتیں کیوں ناکام ہوتی رہی ہیں؟ مارشل لاء کی حکومتوں میں اچھے اچھے سیاستدان کیوں شامل ہو جاتے ہیں۔ مارشل لاء کو سیاستدانوں کی غیرذمہ دارانہ کردار دعوت دیتا ہے یا پاک افواج میں بعض طالع آزما جرنیل پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس بحث میں مارشل لاء والے سیاستدانوں پر اور سیاستدان جرنیلوں پر الزام اور تہمت دھرتے ہی رہے ہیں۔ آج کل پاکستان میں پھر وہی صورتحال ہے کہ

پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگی

پھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہوں گے

عمران خان نے اگرچہ انتخابات جیت کر اقتدار سنھبالا (بھلے یار لوگ اس کو الیکٹڈ کے بجائے سلیکٹڈ کہتے ہیں) تو انتخابات کے دوران ملک کے اندر کے معاملات اور حالات کی واضح اور جامع تصویر سے بے خبر ہونے کے سبب قوم کیساتھ وہ وعدے کئے جو اُس وقت بھی اعداد وشمار اور وسائل ومسائل کا علم رکھنے والے حضرات کیلئے سخت پریشان کن تھے، لیکن پاکستان کے نوجوانوں کے جنون میں عمران خان خود ایک حد تک ایسے جنون میں مبتلاہوئے کہ لاکھوں گھر، لاکھوں نوکریاں اور کرپشن کے اربوں روپے باہر کے ملکوں سے وطن عزیز لانے کا انتخابی جلسوں میں شد ومد کیساتھ تکرار کرتے رہے اور اُسی کیفیت سے دوچار ہیں جس کا ذکر کبھی مصحفی نے کیا تھا:

یوں تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار

اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں

عمران خان نے حکومت سنبھالنے کے بعد جب سرکاری خزانے، بیوروکریسی اور اپوزیشن کے تیور دیکھے، تو ہر روز اسے احساس ہوتا رہا کہ حالات بالخصوص معاشی حالات بہت گمبھیر ہیں اور یہ بات اب سب کے سامنے آچکی ہے کہ عمران خان کے عوام کیلئے بے لوث اور پُرخلوص محبت اور درد کے باوجود معاشیات میں آپ کا ترب کارڈ (اسد عمر) وہ کرشمہ نہ دکھا سکا جس کی عمران خان کو اُمید تھی۔ اس شریف آدمی نے چھ مہینے اس حیص بیص میں گزارے کہ آئی ایم ایف کے پاس جائیں کہ نہ جائیں۔ قوم بالخصوص غریب طبقہ آج نہ کل، کل نہ پرسوں، کسی ’’اچھی خبر‘‘ کے انتظار میں سولی پر لٹکی رہی۔ اس بات میں کوئی دوسری رائے بمشکل ہی سے ہوسکتی ہے کہ عمران خان کے دل میں پاکستان کے غریبوں کیلئے جو درد اور احساس ہے وہ شاید ہی اس سے پہلے پاکستان کے کسی حکمران کے دل میںرہا ہو۔ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عمران خان کی ٹیم (پوری جماعت) میں حالات کے تیور پڑھنے اور سمجھنے اور حالات کے نبض کو بروقت ہاتھ میں لینے والے افراد کی شدید قلت ہے۔ اسی قلت نے تحریک انصاف میں قحط الرجال کا سامان پیدا کیا ہے۔ یہ بات بھی اب طشت ازبام ہوچکی ہے کہ انصاف ٹیم میں تجربے کا سخت فقدان ہے اس لئے سارے اہم اقدامات کے دوران ایک مخمصے اور خلجان کی سی کیفیت رہتی ہے۔ بروقت اور دوٹوک فیصلے اور اقدامات بہت کم نظر آتے ہیں۔ پچھلے دنوں ڈالر کی اُڑان سے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ دوائیوں کی قیمتوں میں راتوں رات جو من مانی اضافے ہوئے اس نے تو بچہ سقہ والی کیفیت ہی پیدا کردی تھی۔ عمران خان نے اگرچہ قیمتوں میں اضافہ فی الفور واپس کرنے کے احکامات جاری کئے لیکن جو نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا۔ اس کے سبب پی ٹی آئی کے وزراء خزاں رسیدہ پتوں کی طرح بکھر گئے اور پوری ٹیم پر ایک انجانا خوف سا طاری ہوگیا ہے جو کپتان کا ایک اور کمال ہے۔ کپتان کے اخلاص اور عوام سے دردمندی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اُسے جہاں کہیں ایسا شخص بتایا جاتا ہے جو قوم کو مشکلات سے نکالنے کیلئے کوئی حوصلہ اور ہمت رکھنے کا اظہار کر رہا ہو، اسے موقع دینے میں ذرا دیر نہیں کرتا لیکن عجب طرفہ تماشا ہے کہ یارلوگ اس کو بھی کپتان کی کمزوری بنانے اور دکھانے پر مصر ہیں اور عجیب انداز میں طعنہ دیتے ہیں کہ فلاں تو ہمارا آدمی ہے۔ بھئی آپ کا تھا تو کپتان کے پاس کیوں چلا گیا اور جب گیا تو آپ کا رہا نہیں نا۔ ویسے ہم سب پاکستانی نہیں ہیں، کیا پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کیلئے ہر ایک اپنی مہارت کو استعمال میں لانے کا پابند نہیں۔ یہی تو ہماری سیاست کا وہ پہلو ہے جس نے ملک کو مشکلات سے دوچار کیا ہے اور کپتان نے جتنے بھی وعدے وعید کئے تھے سب مبنی برخلوص تھے۔ اب بھی اُس کا بس چلے تو تکمیل میں ایک لمحہ دیر نہ کرے لیکن بالکل جنرل ضیاء الحق کی طرح اسے معلوم نہ تھا کہ ملک کے اندر کے حالات اتنے گمبھیر بھی ہوسکتے ہیں لیکن پھر بھی اُن کا حوصلہ قابل داد ہے کہ گھبرایا ہوا نہیں ہے، قوم کو اب بھی اچھے دنوں کی نوید دیتا ہے، بس ایک ذرا سا صبر کہ ہماری فاقہ مستی کے قرضوں کی قسطیں اور سود کی ادائیگی ذرا تھم جائے اور سرکاری خزانے کا منہ عوام کی طرف ہوسکے۔ مجھے تو ظاہری طور پر شدید مشکلات کے باوجود یقین واثق ہے کہ کپتان قوم کو مایوسی اور مشکل سے نکال کر رہے گا۔

متعلقہ خبریں