Daily Mashriq


پاک ایران تعلقات کا چیلنج

پاک ایران تعلقات کا چیلنج

پاکستان زمینی اعتبار سے چار ہمسایوں چین، بھارت، ایران اور افغانستان میں گھرا ہوا ہے جبکہ ایک سمت میں سمندر ہے۔ چین اور پاکستان دوستانہ مراسم رکھتے ہیں اور یوں اس جانب سے پاکستان کو کبھی خطرات اور مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بھارت، ایران اور افغانستان کی سرحدات پر پاکستان کیلئے کبھی کم تو کبھی زیادہ خطرات رہے ہیں۔ بھارت کی طرح افغانستان کیساتھ پاکستان کے مسائل تاریخ کے ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ ایران کیساتھ مسائل نے وقت کیساتھ جنم لینا شروع کیا اور عالمی اور علاقائی حالات نے ان مسائل کو شکر رنجیوں اور تلخیوں میں ڈھالنا شروع کیا۔ اس وقت دنیا میں ایک عجیب، غیرنظریاتی اور بے سمت صف بندی دکھائی دیتی ہے۔ ہر صف بندی کا تعلق سرمائے اور تجارت کیساتھ ہے۔ دو دوست ملکوں کے باہمی تعلقات حد درجہ پائیدار بھی ہوتے ہیں اور دوست کے دشمن کیساتھ بھی تعلقات میں وہی گہرائی اور گرم جوشی دکھائی دیتی ہے۔ اس اُلجھے ہوئے منظرنامے میںکچھ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ کون کس کیساتھ ہے؟ یہ اندازہ شاید ہو بھی نہ پائے کیونکہ اس بدلی ہوئی دنیا میں ہر کوئی اپنے ساتھ ہے۔ ہر قوم اور ملک کو اپنا معاشی مفاد عزیز بھی ہے اور ساری پالیسیوں کا مرکز ومحور بھی یہی ہو کر رہ گیا ہے۔ پاکستان بھی دنیا کے اس رواج اور رجحان سے الگ نہیں رہ سکتا۔ ایسے میں یہ فرض کر لیا تھا کہ پاکستان ایران تعلقات پر پاک سعودی عرب تعلقات یا ایران بھارت تعلقات کے سائے مستقل طور پر منڈلاتے رہیں گے حالانکہ سعودی عرب پاکستان کا گہرا دوست اور مشکل وقت کا اتحادی ضرور ہے مگر سعودی عرب کے بھارت کیساتھ تعلقات بھی کم مثالی نہیں۔ اسی طرح سعودی عرب سے مثالی تعلقات کے باوجود پاکستان نے سعودی عرب کی اندرونی لڑائی اور استحکام میں اپنا حصہ تو ڈالا مگر سعودی حدود سے باہر کی کسی لڑائی میں اپنا کندھا پیش نہیں کیا۔ ا فواج پاکستان کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف جب اسلامی ملکوں کی افواج مشترکہ فوج کے نام پر سعودی عرب گئے تو یہ اعتراضات اور افواہوں کا ایک طوفان اُمڈ کر آیا۔ یوں لگ رہا تھا کہ راحیل شریف گھوڑے پر بیٹھ کر ایک فوج کی قیادت کرتے ہوئے یمن میں داخل ہوں گے یا ایران اور سعودی عرب کے اختلافات کا حصہ بن کر ایران پر یلغار کی قیادت کریں گے، ایسا کچھ نہیں ہوا۔ راحیل شریف کی سعودی عرب میں موجودگی سے ایران سعودی عرب تعلقات میں اگر نمایاں بہتری نہیں آئی تو عسکری اعتبار سے کوئی بڑی خرابی بھی پیدا نہیں ہوئی۔ ایسے میں وزیراعظم عمران خان نے ایران کا دو روزہ دورہ کیا۔ اس دورے سے پہلے دونوں ملکوں کے تعلقات کو تباہی اور تنزلی کی آخری حد تک پہنچانے والے کئی واقعات رونما ہو چکے تھے۔ جن کی ابتدا ایران کے پاسداران انقلاب پر ہونے والے خوفناک حملے سے ہوئی تھی جس میں سنتالیس افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے بعد بالاکوٹ حملہ ہوا اور یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ بھارت اور اسرائیل نے پاکستان پر حملے کی تیاری کی تھی اور انہیں ایک تیسرے ملک کی معاونت حاصل تھی۔ تیسرے ملک سے عمومی تاثر ایران کا ہی رہا۔ بلوچستان میں پاک بحریہ اور فضائیہ کے چودہ جوانوں کا قتل دونوں ملکوں کے تعلقات میں بگاڑ کا اشارہ دے رہا تھا۔ ان واقعات کی وجہ سے عمران خان کا دورۂ ایران خاصی اہمیت کا حامل تھا۔ ایرانی قیادت نے عمران خان کا پرتپاک استقبال کیا جس کے بعد ایران کے راہبر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر حسن روحانی کیساتھ ملاقاتوں میں جن خیالات کا اظہار ہوا یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ دونوں ملک اختلافات کی آگ کو بجھانے اور مشترکات کو اُبھارنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ دونوں قیادتوں نے پریس کانفرنس میں ایک دوسرے کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ماضی قریب کو بھول کر ماضی بعید کے مناظر کو زندہ کرنا چاہتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین ایران کیخلاف استعمال نہیں ہونے دے گا تو جواباً حسن روحانی کا کہنا تھا کہ کوئی تیسرا ملک پاک ایران تعلقات پر اثرانداز نہیں ہوسکتا۔ یہ تیسرا ملک بھارت کے سوا اور کون ہو سکتا ہے؟۔ تجارتی معاہدات کیساتھ ساتھ مشترکہ بارڈر فورس بنانے کا فیصلہ بھی کم نہیں۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات کے دشمن بہت ہیں یہ تاریخی جملہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے بیان کیا ہے۔ یہ دشمن آسانی سے ہار نہیں مانیں گے۔ ابھی پاک ایران تعلقات کی گاڑی محض پٹڑی پر چڑھی ہے جب یہ دوڑنے لگے گی تو انجن کے شور سے بہت سے ملکوں کے دل گھبرانے لگیں گے اور عالم گھبراہٹ میں وہ اُلٹی سیدھی کارروائیاں کرتے رہیں گے مگر دونوں طرف کی قیادت کو بلند حوصلے اور عزم کیساتھ تعلق اور تعاون کی راہ میں آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ سانحۂ اوماڑہ کا مقصد عمران خان کے دورۂ ایران کو سبوتاژ کرنا ہے تو اس میں خاصا وزن ہے۔

خطے میں ایک ملک ایسا ضرور ہے جو پاکستان کے ایران اور افغانستان کیساتھ اچھے یا نارمل تعلقات نہیں چاہتا۔ اس کا خیال ہے کہ پاکستان کو مخالفین کے سمندر میں ایک جزیرہ بناکر ہی وہ خطے میں اپنے مقاصد کی تکمیل کر سکتا ہے۔ یہ ملک بھارت کے سوا کوئی نہیں اور اب بھارت کیساتھ اسرائیل بھی اس منصوبہ بندی میں شامل ہوگیا ہے۔ اسرائیل کی منصوبہ بندی اور مفاد یہ ہے کہ اس کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری مسلمان ممالک آپس میں متحد نہ ہونے پائیں بلکہ وہ مسلمان دنیا کے انتشار میں ہی اپنی بقا اور استحکام تلاش کرتا ہے۔ مسلمان دنیا کی قیادتوں کو اس صورتحال کا ادراک کرنا چاہئے۔ ان کے باہمی انتشار اور نفاق نے بہترین وسائل اور جغرافیے کے باجود انہیں عالمی منظر پر بے توقیر کر چھوڑا ہے۔ چند دن قبل پاک فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا یہ چونکا دینے والا بیان سامنے آیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہونے تک حرمین شریفین کو خطرات لاحق رہیں گے۔ اسرائیل، بھارت اور امریکہ تین تزویراتی شراکت دار ہیں اور تینوں کے ہاتھوں مسلمان زخم کھا رہے ہیں۔ تینوں مسلمان دنیا کو گرم کیک کی طرح قسطوں اور ٹکڑوں میں بانٹ کر کھا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان خطے کی سیاست میں ایران اور افغانستان کو نیوٹرل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ ایک بڑی رفت ہوگی۔

متعلقہ خبریں