Daily Mashriq

حجاج کے مسائل اور حکومتی ذمہ داریاں

حجاج کے مسائل اور حکومتی ذمہ داریاں

حج ہر صاحب حیثیت مسلمان کیلئے ایک اہم مذہبی فریضہ ہے۔ ہر اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس فریضہ کی ادائیگی کیلئے تمام تر ضروری اور قانونی اقدامات کرے ورنہ یہ اسلامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہوگی چنانچہ تمام مسلمان ممالک میں اس فریضہ کی ادائیگی کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے جاتے ہیں اور اس کیلئے سعودی عرب کی حکومت کا تعاون بھی حاصل کیا جاتا ہے کیونکہ سعودی عرب کی حکومت مہمان نوازی کا فریضہ ادا کرتی ہے اور عازمین حج کے مسائل حل کرنے میں بھرپور تعاون کرتی ہے چنانچہ2019 میں وزارت مذہبی امور نے پاکستانی عازمین حج کی رہائش کیلئے عمارات اور ٹرانسپورٹ کے حصول کا عمل شروع کردیا ہے۔ سعودی عرب کی کمپنیوںسے 17 اور 19 دسمبر تک پیشکش طلب کر کے مڈل مین کو نااہل قرار دے کر اس سے مکمل اجتناب کرنے کے عمل کا آغا کر دیا ہے۔ وزارت مذہی امور کے مطابق مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں پاکستانی عازمین حج کیلئے رہائش گاہیں اور ٹرانسپورٹ کے حصول کو ممکن بنایا جائے گا۔ ان دونوں مقدس شہروں میں عمارات اور ٹرانسپورٹ کرائے پر حاصل کی جائیںگی۔ وزارت مذہبی امور نے عازمین حج کے کھانے کیلئے کیٹرنگ کمپنیوں سے بھی پیشکش طلب کرلی ہے۔ صرف سعودی عرب کی کمپنیوں کے مالکان ہی حجاز نمائندے پیشکش دے سکتے ہیں۔ رہائش اور ٹرانسپورٹ کیلئے کوئی مڈل مین پیشکش نہیں کر سکتا۔ وزارت مذہبی امور نے رہائش گاہوں میں تمام ضروری سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ جہاں تک فریضہ حج کی ادائیگی اور اس کے تقدس اور احترام کا تعلق ہے تو بلاشبہ ہر مذہبی حکومت ہر سال اس کیلئے جس پروگرام کا اعلان کرتی ہے اس میں وہ اپنی ذمہ داریوں کی تفصیلات بھی فراہم کرتی ہے تاکہ حجاج کرام ان پر اطمینان کا اظہار کرسکیں لیکن یہ امر انتہائی افسوسناک اور باعث تشویش ہے کہ ہر سال حکومت کی پیشکشوں کا کھلا مذاق اڑایا جاتا ہے اور وزارت مذہبی امور اس پر خاموشی اختیار کرلیتی ہے۔ مثال کے طور پر حجاج کرام جن طیاروں میں اپنی نشستیں بک کراتے ہیں ان میں سے بعض طیارے مقررہ تاریخ پر نہ پرواز کرتے ہیں اور نہ ہی شیڈول کے مطابق پرواز کو ممکن بناتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زائرین ہوائی اڈوں پر پڑے مایوسی کا اظہار کرتے اور حکومت اور فضائی کمپنیوں کو برا بھلا کہتے نظر آتے ہیں۔ پھر طیارے میں سوار ہوتے وقت ان کے ضروری سامان کی بھی دیکھ بھال کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور بعض حجاج کرام طیاروں کی موجودگی کے باوجود سوار ہونے سے محروم رہ جاتے ہیں اور پھر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں ان سے جو رہائشیں فراہم کرنے کے وعدے کئے جاتے ہیں وہ بھی نقش برآب بن کر رہ جاتے ہیں اور حجاج کرام متعلقہ اداروں اور حکومت کو بددعائیں دیتے نظر آتے ہیں۔ ان کیلئے مقررہ مقام کی بجائے کئی کئی میل دور ناقص رہائش گاہیں فراہم کی جاتی ہیں جہاں سے انہیں بیت المقدس نماز کی ادائیگی کیلئے آنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ مقامی مساجد میں نماز ادا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہی حال انہیں فراہم کرنے کے کھانے کا ہوتا ہے جو اکثر غیرمعیاری اور ناقص ہوتا ہے۔ پھر انہیں ٹرانسپورٹ کی مطلوبہ سہولت بھی فراہم نہیں ہو پاتی اور وہ ذاتی طور پر ٹیکسیوں میں بیت اللہ شریف تک پہنچتے ہیں جس کا انہیں بھاری کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہی صورتحال انہیں مدینہ منورہ میں بھی پیش آتی ہے اس طرح انہیں قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ ہر لمحہ حکومت اور متعلقہ محکموں کو کوستے نظر آتے ہیں۔ اس سال بھی حکومت جو وعدے کر رہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ان پر عملدرآمد کی نوبت بھی آتی ہے یا نہیں یا حجاج کرام کو ہر سال کی طرح مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک مقدس مذہبی فریضہ کی ادائیگی میں بھرپور تعاون کرکے حجاج کرام کی دعائیں لیں۔

متعلقہ خبریں