Daily Mashriq


غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

سیاسی موسم کی شدت نے سب کو بے چین کر رکھا ہے، ہر روز نت نئے انکشافات ہوتے چلے جارہے ہیں، باتیں اتنی بڑھ گئی ہیں، انکشافات اس تواتر سے ہو رہے ہیں کہ عام آدمی کیلئے سچ جھوٹ میں تمیز کرنا مشکل ہوچکا ہے۔ اس حوالے سے کوئی رائے دینے سے پہلے ایک ہزار بار سوچنا پڑتا ہے، ان مسائل اور پریشانیوں کو دیکھ کر کبھی کبھی تو امید کی ڈور ٹوٹنے لگتی ہے مگر پھر دل کو یہ کہہ کر تسلی دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں:

وقت اچھا بھی آئے گا ناصر

غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

اپنے گھر کی طرف نگاہ اُٹھتی ہے تو ایک اور دریا کا سامنا ہوتا ہے پشاور جسے اچھے وقتوں میں پھولوں کا شہر کہا جاتا تھا اس وقت بے شمار مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ ان تمام مسائل کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے بڑھتی ہوئی آبادی کیساتھ ہے۔ پشاور کی آبادی پچھلے چند سالوں میں بڑی تیز رفتاری سے بڑھی ہے اس کے علاوہ یہ صوبے کا صدر مقام اور تجارتی مرکز بھی ہے جس طرح کراچی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ غریب کا مائی باپ ہے اسی طرح پشاور نے بھی اپنے دامن میں اپنے ظرف سے بڑھ کر لوگوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ پشاور کے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ بے تحاشہ بڑھتی ہوئی آبادی، لوگوں کا عدم تعاون اور متعلقہ اداروں کا غیرذمہ دارنہ رویہ ہے۔ اب تجاوزات ہی کو لیجئے پشاور کا ہر بازار تجاوزات کی بھرمار کی وجہ سے اپنے اصل قد وقامت سے کئی گنا سمٹ کر رہ گیا ہے۔ دکاندار تھوڑے سے فائدے کیلئے اللہ کی مخلوق پر راستہ بند کئے بیٹھے ہیں۔ اس کے علاوہ بدانتظامی کی وجہ سے ٹریفک کا مسئلہ پشاور کے باسیوں کیلئے مسلسل دردسر بنا ہوا ہے۔ ڈبگری میں بڑے بڑے میڈیکل سنٹرز تو بنا دئیے گئے ہیں لیکن ان میں بہت سے پلازے ایسے ہیں جن میں کار پارکنگ کا کوئی معقول بندوبست نہیں ہے، اس لئے ان میڈیکل سنٹرز میں آنے والے غرض گو اپنی گاڑیاں سڑک کے کنارے پارک کرنے پر مجبور ہیں۔ ان گاڑیوں کی کثرت کی وجہ سے یہاں ہر وقت ٹریفک رکی رہتی ہے اور اگر پشاور میں ایک مرتبہ ٹریفک کے مسلسل بہاؤ میں رکاوٹ پڑ جائے تو رکشوں کی بھرمار کی وجہ سے پھر اس رکاوٹ کا دورانیہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ ٹریفک کا ایک آدھ سپاہی گلے کی رگیں پھلا کر چیختا چلاتا ہے لیکن رکشہ ڈرائیوروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ قانون کے ان رکھوالوں نے اپنے روئیے کی وجہ سے اپنی وقعت اتنی کم کردی ہے کہ رکشہ ڈرائیور ان کی بات اور شور شرابے کو قابل توجہ نہیں سمجھتے اور اس کی سب سے بڑی وجہ مک مکا ہی ہے۔ روپے پیسے کی ان آندھیوں میں ٹریفک پولیس اپنا وقار کھو چکی ہے، ٹریفک کے مسائل میں ٹوٹ پھوٹ کے شکار سڑکوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ بات چلی تھی تجاوزات کی بھرمار سے اور ٹریفک کی بھول بھلیوں میں کھوگئی۔ اب پشاور میں ٹریفک کا مسئلہ چند سڑکوں تک محدود نہیں رہا، آپ جس طرف نکل جائیے گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی کی فوج ظفر موج کا سیلاب رواں دواں نظر آتا ہے۔ بہت سے بازار تو ایسے ہیں جہاںکسی شریف آدمی کیلئے پیدل چلنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یہی حال مینا بازار کا بھی ہے یہ تو خواتین کا بازار ہے لیکن یہاں مرد حضرات بھی بہ کثرت پائے جاتے ہیں اس لئے خواتین کو تجاوزات کے علاوہ دوسرے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے! تجاوزات کی بیخ کنی میونسپل کارپوریشن کی ذمہ داری ہے لیکن ہمارے ایک مہربان کا کہنا ہے کہ ان تجاوزات کی وجہ ہی میونسپل کارپوریشن ہے جب تک میونسپل کارپوریشن دائمی ہوش وحواس کیساتھ قائم ودائم ہے یہ تجاوزات بھی پھلتی پھولتی رہیں گی۔ ان تجاوزات کی کثرت اس بات کی متقاضی ہے کہ ان کیخلاف پہلے کی طرح ایک بھرپور آپریشن کیا جائے! لیکن اصل صورتحال کچھ اور ہے۔ مہینے میں ایک آدھ بار کارپوریشن کی ایک عدد بڑی گاڑی قصہ خوانی بازار کا دورہ کرتی ہے، گاڑی کیساتھ پولیس کے علاوہ کارپوریشن کا عملہ بھی ہوتا ہے، اس قافلے سے تیس چالیس گز آگے چند پراسرار خدائی خدمتگار دکانداروں کو خبردار کرتے رہتے ہیں کہ کارپوریشن کا قافلہ آرہا ہے، جب کارپوریشن کا عملہ وہاں پہنچتا ہے تو دکانداروں نے تجاوزات کو ٹھکانے لگا دیا ہوتا ہے۔ اس قافلے کے وہاں سے گزر جانے کے بعد ان تجاوزات کو وہاں دوبارہ سجا دیا جاتا ہے۔ اس طرح میونسپل کارپوریشن پشاور اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہورہی ہے، نہ ہینگ لگتی ہے اور نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آتا ہے! یوں کہئے پشاور آندھیوں کی زد میں ہے۔ ابھی کالم یہاں تک پہنچا تھا کہ ایک مہربان نے واٹس ایپ پر ایک پیغام بھجوایا، ساتھ تصویر بھی ہے اور یہ ہدایت بھی کہ اس خبر کو اپنے کالم کا حصہ ضرور بنائیں۔ ہم نے سوچا نیکی اور پوچھ پوچھ! ’’پشاور کی تاریخی فصیل شہر بھی قبضہ مافیا سے محفوظ نہ رہ سکی، سیاسی اثر ورسوخ کے باعث رات کے اندھیرے میں فصیل شہر کا ایک حصہ کوہاٹی گیٹ کے قریب سے گرا دیا گیا۔ پشاور کے باسیو! اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کرو‘‘۔ یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا جب بھی کسی کو موقع ملتا ہے وہ فصیل شہر پر ایک حملہ ضرور کرتا ہے۔بہت سی غیرقانونی دکانیں فصیل میں سوراخ ڈال کر بنائی جاچکی ہیں، کوئی اتنا بھی پوچھنے والا نہیں ہے کہ پشاور جیسے تاریخی شہر اور تاریخی فصیل کیساتھ اس قسم کا کھلواڑ کرنے کی ان لوگوں کو جرأت کیسے ہوتی ہے۔ کچھ دن میڈیا پر یہ خبریں گردش کرتی ہیں پھر اس قسم کے معاملات سردخانے کی نذر ہوجاتے ہیں!۔

متعلقہ خبریں