Daily Mashriq


’میرے والدین کی طلاق کا ذمہ دار میں خود کو ٹھہراتا تھا‘

’میرے والدین کی طلاق کا ذمہ دار میں خود کو ٹھہراتا تھا‘

پاکستانی گلوکار نے اپنا نیا گانا ریلیز کردیا جس میں ان تمام بچوں کے لیے ایک پیغام دیا گیا ہے جنہوں نے اپنے والدین کو علیحدہ ہوتے ہوئے دیکھا۔

اس گانے کا نام ’سوری آئی واز ناٹ انف‘ رکھا گیا، جس میں دکھایا گیا کہ والدین کا ایک دوسرے سے طلاق لینے کا بچوں پر کیا اثر پڑتا ہے خاص طور پر تب جب والدین گھر میں آنے والی تبدیلی کے حوالے سے بات نہ کریں، ایسے وقت میں بہت سے بچے ان مسائل کا ذمہ دار خود کو ٹھہرانے لگتے ہیں۔

علی گل پیر نے بتایا کہ پہلے وہ اس گانے کو ریلیز نہ کرنے کا ارادہ کررہے تھے۔

گلوکار نے مزید کہا کہ ’میں نے اس گانے کو ایک ماہ قبل تحریر کیا اور اس وقت میں نے ارادہ کیا تھا کہ اسے کسی کے ساتھ شیئر نہ کروں صرف کچھ قریبی دوست یا فیملی کے افراد، اس ہی لیے یہ میرے لیے کوئی گانا نہیں بلکہ میرے دل کی بات ہے‘۔

علی گل پیر کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے جب بھی لوگوں کے سامنے اسے پڑھا، انہیں پسند آیا، میری بیوی نے میرا حوصلہ بڑھایا کہ میں اس پر کام کروں اور ریلیز کروں، اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ یہ گانا ہر اس شخص کے ساتھ شیئر کروں جو اس مسئلے سے گزر رہا ہو‘۔

گلوکار نے بتایا کہ انہیں نے یہ گانا تحریر کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب انہیں اس بات کا اندازہ ہوا کہ ان کے والدین کی طلاق ان پر اب تک اثر انداز ہوتے ہے۔

علی گل پیر کے مطابق ’5 سے 6 سال قبل مجھے پینک اٹیکس کا سامنا ہوا، مجھے لگا کہ ایسا اس لیے ہورہا ہے کہ میں کام نہیں کررہا اور ٹھیک سے کھا پی نہیں رہا، میں نے اپنی صحت کو بہتر کرنے کی کوشش کی اور اس وقت مجھے یہ بھی اندازہ ہوا کہ اس کی ایک وجہ میرا بچپن بھی ہے‘۔

اپنی ماضی کی یادوں کو شیئر کرتے ہوئے گلوکار نے کہا کہ ’میرے والدین کی طلاق کے بعد سب کچھ تبدیل ہوگیا، میرے بچپن کی اس تلخ یاد کا اثر میری جوانی پر بھی پڑا، مجھے اس اثر سے باہر آنے میں کافی وقت لگا، میں نے اس نفرت کو اپنے ذہن سے نکالا اور مجھے احساس ہوا کہ ہمارے والدین بھی انسان ہیں‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’مجھے احساس ہوا کہ بچپن میں، میں خود کو بہت سی باتوں کا ذمہ دار ٹھہراتا تھا، مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا، مجھے کسی نے کچھ بتایا بھی نہیں، میرا خیال ہے کہ پاکستان میں موجود بہت سے افراد کو اس ڈپریشن کا سامنا ہے، لیکن کوئی اس حوالے سے بات نہیں کرتا‘۔

علی گل پیر کا کہنا تھا کہ ’طلاق ایک ایسی چیز ہے جس کا ذمہ دار بچوں کو خود کو نہیں ٹھہرانا چاہیے، بلکہ والدین کو بچوں سے اس حوالے سے بات کرنی چاہیے، یہ گانا اس ہی پیغام پر مبنی ہے‘۔

متعلقہ خبریں