Daily Mashriq


میرے فالوورز کیوں کم ہورہے ہیں؟ ٹرمپ کا ٹوئٹر کے سربراہ سے شکوہ

میرے فالوورز کیوں کم ہورہے ہیں؟ ٹرمپ کا ٹوئٹر کے سربراہ سے شکوہ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو (سی ای) سے طویل دورانیہ کی ملاقات کی ہے۔

تاہم سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ادارے کے حکام سے اس اہم ملاقات میں امریکی صدر کی دلچسپی اپنے فالوورز تک ہی محدود رہی۔

ڈونلڈ ٹرمپ ٹوئٹر کے سی او سے جیک ڈارسی سے ملاقات کے دوران صرف یہ سوال کرتے رہے کہ ’ٹوئٹر پر میرے فالوورز کی تعداد کیوں کم ہو رہی ہے؟‘

الجزیرہ میں شائع رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا کمپنی پر الزام عائد کیا تھا کہ ٹوئٹر قدامت پسندوں کے خلاف جانبدار ہے۔

بعدازاں گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹوئٹر کے سی ای او کے درمیان ملاقات ہوئی۔

برطانوی خبررساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی تشویش کے جواب میں ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو نے امریکی صدر کو بتایا کہ جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹس کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے باعث متعدد مشہور شخصیات کے فالورز کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے۔

تاہم امریکی صدر نے جیک ڈارسی کی وضاحت پر کان نہیں دھرے اور بعد ازاں انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ریپبلکن پارٹی کے رکن ہونے کی وجہ سے ٹوئٹر ان سے تعصب رکھتی ہے۔

ملاقات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ملاقات کی تصویر شیئر کرتے ہوئے قدرے مثبت رویہ اختیار کیا اور کہا کہ ’وائٹ ہاؤس میں جیک ڈارسی (سی ای ) سے شاندار ملاقات رہی جس میں ان کے پلٹ فارم سے جوڑے متعدد مسائل اور عمومی طور پر سوشل میڈیا کے موضوعات زیربحث آئے۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ سوشل میڈیا پر اپنے صارفین کی تعداد میں کمی پر افسردگی کا اظہار کرچکے ہیں۔

سوشل میڈیا کا تنقیدی جائزہ لینے والی کمپنی کیوہول کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس جولائی میں امریکی صدر کے 2 لاکھ 4 ہزار فالوورز کم ہو گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر پر ڈونلڈ ٹرمپ کے فالوورز کی تعداد 5 کروڑ 34 لاکھ ہو چکی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے فالوورز کی تعداد میں کمی اس وقت نوٹ کی گئی جب ٹوئٹر نے 2016 کے صدراتی انتخابات میں ووٹرز کو ہم خیال کرنے کے لیے جعلی خبریں پھیلانے والوں کے اکاؤنٹس کو غیر فعال کردیا تھا۔

گزشتہ برس اکتوبر میں ٹرمپ نے احتجاج کیا کہ ٹوئٹر نے میرے اکاؤنٹ سے ہزاروں فالوورز کو غیر فعال کردیا، کیا یہ مکمل غیر جانبداری نہیں؟۔

متعلقہ خبریں