Daily Mashriq


امریکہ کو مسکت جواب

امریکہ کو مسکت جواب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان آنے تک وطن عزیز میں سیاسی کشمکش اپنے عروج پر تھی اور نئی حکومت کا ابھی پہلا ماہ بھی پورا نہیں ہوا تھا ملکی سطح پر رنجش اور کھچائو کی کیفیت تھی اس فضا ء میںاچانک پاکستان کے حوالے سے امریکی صدر کے بیان پر وہ ساری باتیں پس منظر میں جا چکی ہیں اور پوری قوم اور ملکی وقومی ادارے خیالات اور جذبات کی حد تک یکسانیت اور یک رنگی کی عملی نظیر نظر آنے لگے ہیں۔ لاکھ خرابیوں کے باوجود یہ ایک صفت ہماری قومی سوچ کی یکسا نیت اور ملکی استحکام کا ضامن ہیں اور ہماری اس ''دیوانگی ''ہی کے سبب اغیار ہمیں فرقوں اور گروہوں میں بانٹنے کی مسلسل سعی میں رہتے ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجودہ نے پاکستان میں امریکی سفیر پر واضح کیا ہے کہ پاکستان کو امریکہ سے کسی مالی اور عسکری امداد کی کوئی ضرورت نہیں ہمیں اعتماد چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے قیام کیلئے بہت کچھ کیا ۔ امن کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کوششوں کے بغیر یہ جنگ منطقی انجام کو نہیں پہنچ سکتی ۔ آرمی چیف کے امریکی سفیر سے گفتگو میں امریکہ کیلئے پیغام اپنی جگہ یہ امریکی رویہ ہی ہے جس کے باعث دانشور چیئرمین سینیٹ رضا ربانی تقریباً وہی الفاظ دہرانے پر مجبور ہوئے جس لب ولہجے اور الفاظ میںافغان طالبان کے ترجمان نے اپنے ردعمل پر مبنی بیان دیا تھا ۔ چیئر مین سینیٹ جیسے دھیمے مزاج کے قانون دان اور دانشور یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ امریکا نے غلطی کی تو پاکستان ان کے فوجیوں کا قبرستان بنے گا ۔ اس بیان کی کاٹھ اور ایک معتدل شخصیت کے عہدیدار کی جانب سے سینیٹ کے اجلاج سے خطاب میں اس قسم کے ردعمل کا اظہار امریکی قیادت کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیئے امریکی عہدیداروں کو اس امر پر ضرور غور کرنے کی ضرورت ہے کہ انتہا پسندانہ حد تک لب ولہجہ اختیار کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی اور کیا واقعی امریکی صدر پاکستان سے جنگ چھیڑ نے کا متمنی ہیں، ہمارے خیال میں ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا بلکہ اب تو پاکستانی سرحد کے اندر کسی ڈرون حملے کی سعی کی گئی تو اس کی بھی گنجائش باقی نہیں رہی اور امریکہ کو اب پاکستان کے سرحدوں کے اندر کسی ہدف کو نشانہ بنانے کی غلطی کا اعادہ نہیں کرنا چاہیئے ۔ امریکی امداد بصورت اقتصادی وفوجی اعانت پاکستان میں وہ ناپسند یدہ تر ین امر تھا جس پر اکثر و بیشتر تنقید ہوتی رہی یہاں تک کہ عوامی سطح پر امریکہ سے تعلقات کو بھی معیوب سمجھا جاتا رہا ہے۔ امریکی امداد کی بندش سے قبل ہی اس کی مقدار اتنی تھوڑی رہ گئی ہے کہ اگر باقی ماندہ بھی روک لی جائے تو ایسا نہیں کہ پاکستان خدا نخواستہ مفلوج ہو کر رہ جائے ۔ پاکستان کو اس کا بہتر متبادل ڈھونڈنے کاحق حاصل ہے اور اگر دیکھا جائے تو خطے میں تبدیل شدہ حالات میں پاکستان کو امریکہ کے مقابلے میں زیادہ پر اعتماد معاونین اور دوست میسر آگئے ہیں۔ امریکہ کو یہ امر بھی سمجھنا ہوگا کہ اس کے پاکستان سے تعلقات کی تبدیل شدہ صورت صرف ایک ملک کی حد تک ہی نہیں رہے گا بلکہ دنیا میں دیگر ممالک کے ساتھ اس عمل کے باعث ان کے تعلقات متاثر ہوں گے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بدلتے صورتحال میں عالمی طور پر امریکی اقدامات کا مقابلہ کرنے کیلئے دوست ملک سعودی عرب کا دورہ کر کے آئے ہیں چین کا امریکی بیان پر رد عمل سب کے سامنے ہے، روس اور ترکی کے خیالات کا بھی اندازہ ہے۔ امریکہ ایک ایسے وقت میں جبکہ پاکستان ان کی ممکنہ پابند یوں اور دیگر اقدامات سے کم سے کم متاثر ہو کر نکلنے کی حالت میں ہے تو اسے ایسی غلطی نہیں کرنی چاہیئے کہ ان کو افغانستان میں جب ایک مرتبہ پھر پاکستان کی حمایت و اعانت کے کردار کی ضرورت پڑے تو اسے سردمہری کا سامنا کرنا پڑے ۔پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مزید فوجی کارروائیوں کا عندیہ اور امریکہ کا پاکستان کی جانب دھمکی آمیز رویہ خطے میں امن کی راہ میں خلل ڈال سکتا ہے۔کیونکہ پاکستان پر غیر ضروری سختی کی جا رہی ہے۔ امریکہ افغانستان میں اپنی سولہ سالہ جنگ کی ناکامی پاکستان کے سر پر نہیں ڈال سکتا۔ صرف پاکستان کو قصوروار ٹھہرانا ناجائز ہے۔امریکہ کو اس سے صرف نظر کیوں ہے کہ سرحد کے اس پار بھی انتہا پسند متحرک ہیں اور جب پاکستان ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے تو وہاں وسائل کی کمی کا جواب آتا ہے جبکہ اربوں ڈالر وہاں خرچ ہو رہے ہیں۔امریکی صدر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ افغانستان میں انڈیا کا کردار بڑھانا چاہتے ہیں جو کہ پاکستان کو قبول نہیں ہو گا اس تناظر میں پاکستان ممکنہ طور پر اپنا وہی موقف دہرائے گا کہ افغانستان میں امن کے لیے فوجی حل نہیں بلکہ مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔ جبکہ امریکہ افغانستان میں اپنی موجودگی بڑھانے اور مزید فوجی کارروائیوں کی جانب بڑھتا نظر آرہا ہے۔ ہمارے تئیں اس وقت گو کہ ملک کیلئے پریشان کن صورتحال ضرور پیدا ہوئی ہے مگر اس موقع کو اگرپورے اعتماد کے ساتھ امریکہ سے اپنے تعلقات کی نوعیت کو تبدیل کرنے ، عدم اعتماد کی فضا اور اس کی وجوہات پر کھل کر بات کرنے کے ساتھ پرعزم فیصلہ کرنے کی ٹھان لی جائے تو امریکی قیادت ازخود اپنے فیصلے و عمل پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوگی ۔ امریکہ کے ساتھ خارجہ تعلقات اور ڈپلو میسی کی ضروریات اپنی جگہ لیکن چیئرمین سینیٹ نے طالبان کے لہجے میں امریکہ کو جو مسکت جواب دیا ہے یہ پوری قوم کی آواز ہے اور قوم کو اس کیلئے تیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ امریکہ کے رویہ سے خطے میں شدت پسندی کی ایک نئی اور امریکہ سے نفرت کی سخت لہر کے خطرات دکھائی دے رہے ہیں جس سے خطے کا امن خطرے میں پڑسکتا ہے ۔ بہتر ہوگا کہ امریکہ اس قسم کے حالات پیدا کرنے کی بجائے پاکستان کی مشکلات و معروضات کو سمجھے اور اپنی سمجھائے ۔

متعلقہ خبریں