Daily Mashriq


الزامات کی نوبت نہ آنے دی جائے

الزامات کی نوبت نہ آنے دی جائے

خیبر پختونخوا اکنامک زون ڈیویلپمنٹ کمپنی کے سابق چیف فنانشل آفیسر کی مخصوص عناصر کا خیال رکھنے پر اچانک برطرفی اور زمونگ کور منصوبہ کے مستعفیٰ ہوتے ہوئے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی پریس کانفرنس میں منصوبے میں بے قاعدگیوں کا الزام اور ایک خاص شخصیت کا خاص دوست کے حوالے سے بار بار تحفظات کا سامنے آنا ایسے معاملات ہیں جن کی تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اس لئے متحمل نہیں ہوسکتی کہ خود حکومتی صفوں اور سرکاری عہدوں سے ہٹنے یا ہٹائے جانے والے افراد کی طرف سے عدم شفافیت کا واویلا کیا جاتا ہے جن سے پوری طرح سے اتفاق تو بہر حال ضروری نہیں لیکن اگر ان الزامات کو آدھا سچ بھی مانا جائے تو بھی صوبے میںشفاف حکمرانی کے دعوے کے دامن پر ایسا داغ ہوگا جو نمایا ں طور پر دکھائی دے گا اور اس کے ان دعوئوں کی نفی ہوگی جو حکمران صبح شام دہراتے رہتے ہیں۔ تحریک انصاف کا دوسری جماعتوں کی حکومتوں کے حوالے سے جو رویہ اور کردار ہے اور دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت کو وہ جس درجے کے سمجھتے ہیں اور اس کا وہ بر ملا اظہا ر کرتے ہیں ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ خود وہ پھونک پھونک کر قدم رکھیں اور کوئی ایسی صورت سامنے آنے نہ دیں کہ مخالفین کو موقع ملے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ تمام تر مساعی کے باوجود اس قسم کی صورتحال سامنے آتی ہے اور ایسے الزامات لگتے ہیں جس سے اس حکومت کو بھی اپنے پیشروں ہی کا تسلسل گردانا جائے اور جو امیدیں اس سے وابستہ کی گئی ہیں وہ امید یں مایوسی میں بدل جائیں ۔ حکومت کی اپنی مجبوریاں ہوںگی اور الزامات لگانے والوں کے بھی اپنے مقاصد کا ہونا عجب نہیں لیکن اس فضا سے عوام کی مایوسی اور تبدیلی و بہتری کی امید اور شدید خواہش رکھنے والوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچنا تکلف دہ امر ہے جس کا سب سے متاثرہ فریق وہ عوامی نمائندے ٹھہریں گے جن سے عوام نے توقعات وابستہ کر رکھی ہیں ، حکومت کے آخری سال تک تحریک انصاف نے مخالفین پر نکتہ چینی اور شدید تنقید کا جو سلسلہ جاری رکھا ان حالات میں اپنے صفوں پر نظر اور سرکاری محکموں پر کڑی نظر رکھنے کا شاید وہ موقع نہ مل سکا جس کی ضرورت تھی یا پھر یہاں بھی مصلحتیں دوستیوں اور اقرباء پروری سے احتراز نہ کیا جا سکا۔ اس ساری صورتحال میں ان اٹھتی آوازوں کو خاموش کرنے کا بہترطریقہ ان الزامات کو مدلل اور باثبوت رد کرنا ہے اگر ایسا ممکن نہیں تو غلطی کا اعتراف وقتی طور پر تکلیف دہ عمل ضرور ہے مگر سچ کو آنچ نہیں ۔ توجہ اس امر کی ہے کہ خود اپنی صفوں اور اپنے ہی مقرر کردہ عمال کے تو کم از کم الزامات کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنے کی نوبت تو نہ آئے تاکہ حکومت کو خجا لت کا سامنا نہ ہو۔

ڈینگی سے تحفظ ،شہری بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں

ڈینگی کے پھیلائو او رہسپتالوں میں علاج معالجے اور تشخیص کی سہولتوں کے حوالے سے حکومت اور محکمہ صحت کو تو ہم بخشنے کو تیا رنہیں لیکن اگر ہم عوام پر نظر ڈالیں تو حکومت کی تمام تر مساعی کے باوجود شاید ہی کوئی شخص خود اپنے تحفظ اور بچوں کی حفاظت کیلئے ان اقدامات اوراحتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے پر تیار رہے جس کی صورتحال متقاضی اور حکومت اس کیلئے کوشاں ہے ۔ تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ کسی حکومت کے پاس مچھروں کی یلغار کی مکمل روک تھام اور ہر شخص کو محفوظ رکھنے کا کوئی طریقہ کار موجود ہے اور نہ ہی اس کیلئے وسائل موجود ہے حکومتی اداروں کی جانب سے علاج معالجے اور سپرے و دوائی چھڑ کا ئو گھٹروں کو بھر دینے جیسے ممکنہ اقدامات تو ہورہے ہیں کیا ہم بطور شہری خود اتنی زحمت گوارا کرتے ہیں کہ ان ہدایات اور احتیاطی تدابیر کو اختیار کریں جس کی ہمیں ہدایات ملتی ہیں ۔ ہمارے تئیں اس کا جواب نفی میں ہے اس طرح کی صورتحال میں حکومتی مساعی اگر رائیگا ں نہ بھی گئیں تو یہ معاملہ خدا نخواستہ طو ل ضرور پکڑ سکتا ہے ۔ بہتر ہوگا کہ ہم بھی ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں اور اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی نہ برتیں ۔توقع کی جانی چاہیئے کہ حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ شہری بھی پوری ذمہ داری کا ثبوت دیں گے اور وباء کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرنے میں تامل کا مظاہرہ نہیں کریں گے ۔

متعلقہ خبریں