Daily Mashriq


حقیقت کیا ہے ؟؟

حقیقت کیا ہے ؟؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانیہ نے پاکستان میںتجزیہ نگاروں میں ایک عجب سی ہلچل پیدا کر دی ہے ۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کوئی انہونی ہے جو ہو گئی ہے اسی لیے لہجوں میں ایسی پریشانی پائی جارہی ہے حالانکہ جن باتوں کا اعلان کیا گیا ہے اس میں سے کچھ بھی نیا نہیں اور امریکی صدر کی شخصیت کو مد نظر رکھا جائے تو اس میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ کئی بار مجھے خود حیرت محسوس ہونے لگتی ہے جب موجودہ امریکی صدر کے حوالے سے کسی قسم کی بھی حیرت کا اظہار کیا جاتا ہے ان کی تو شخصیت ہی ایسی ہے کہ کسی بھی وقت ، کسی بھی بات اور ردعمل کی توقع رکھی جا سکتی ہے ۔ اور یقینا ان کی باتوں سے کسی قسم کے اثبات کا کوئی شائبہ بھی محسوس ہونے کی امید بھی کم ہی کی جا سکتی ہے ۔ بین الاقوامی میڈیا میں خاص طور پر جبکہ امریکی میڈیا میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی صحت کے حوالے سے خاصی تشویش پائی جاتی ہے اور کمال بات یہ ہے کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کبھی اس تاثر کو زاعمل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔ بلکہ کئی بار تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ امریکی صدر اپنے حوالے سے اس تاثر کو خاصاپسند کرتے ہیں اور اسے اگر بڑھا وا دینے کے خواہشمند نہیں تو کم از کم قائم ضرور رکھنا چاہتے ہیں ۔ کئی بار ان کی کئی باتوں سے اس خیال کی تصدیق بھی ہوتی محسوس ہوئی ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں جوباتیں کی ہیں اس میں پاکستان کے حوالے سے جتنی سختی برتنے کا تاثر ملتا ہے ، چند باتیں ایسی ہیں جو بظاہر اس پالیسی پر اثر انداز ہوتی محسوس نہیں ہوتیں لیکن ان سے نظر چرانا بھی ممکن نہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کو ایک ہی پلڑے میں رکھ دیا گیا ہے جبکہ بھارت کی اہمیت کو اس خطے میں اجا گر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یہ باتیں بہر حال پاکستان کے لیئے تشویش کا باعث ہیں ۔ اس تشویش کا اظہار بھی بھر پور انداز میں کیا جارہا ہے ۔ کوئی اسے سی پیک سے وابستہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ کسی کے نزدیک یہ امریکہ کی جانب سے غرور کا اظہار ہے ، امریکہ ''ڈومور'' کے لیے زمین ہموار کر رہا ہے ۔ بھارت اور امریکہ کے ہم پیالہ ہونے کی بات بھی کی جارہی ہے ۔ پاکستان کی دنیا میں سفارتی تنہائی بھی مسئلہ سمجھا جارہا ہے ۔ سب باتیں درست ہیں ، ساری باتیں اپنا اپنا وزن بھی رکھتی ہیں ۔ عمران خان کی بات بھی درست ہے کہ جس وقت پاکستان کی جانب سے ایک قومی بیانیہ سنائی دینا چاہیئے ،حکومت وقت نواز شریف کے سیاسی جنازے پر بین کرنے میں مصروف ہے ۔ ان سب باتوں کا جواب صرف فوج کی جانب سے دیا جارہا ہے جو ایک حد تک تو ٹھیک ہے لیکن سیاسی حکومت کو اس بیانیے کو اپنی آواز اور اپنے الفاظ دینے چاہیئے تھے ۔ سیاسی حکومت اس وقت لاہور میں ججوں کو دھمکیاں دینے میں مصروف ہے ۔ ساری باتیں اپنی جگہ درست بھی ہیں اور اہمیت کی حامل بھی لیکن میرے نزدیک بات کچھ اور بھی ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ آج جو باتیں کر رہے ہیں ان سب کی امید ہم ایک عرصے سے کر رہے تھے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارت کی جانب ایک خصوصی جھکا ئو ہے جب امریکہ عمومی طور پر بھارت کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہے ۔ اسکی وجہ بھارت کا محض ایک ارب انسانوں کی منڈی ہونا نہیں بلکہ بھارت کا حجم اور اس علاقے میں بھارتی موجودگی بھی ہے ۔ امریکہ کو محض چین ہی نہیں روس سے بھی خطرہ محسوس ہوتا ہے ۔ اگرچہ بظاہر صدر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں خاصی دوستی دکھائی دیتی ہے لیکن شخصی دوستیاں ملکوں کے درمیان مفادات کے پل نہیں بنا سکتیں ۔ روس میں امریکہ کے خلاف جو خفگی اور جو قلق پایا جاتا ہے اس نے روس کے لئے منزلوں کا تعین کر رکھا ہے ۔ اور ان منزلوں کا کوئی راستہ امریکی دوستی سے ہو کر نہیں گزرتا ۔ پاکستان میں سی پیک کے حوالے سے جو بھی بات چیت ہورہی ہو ۔ اس منصوبے کو پاکستان اپنے مفادمیں کس حدتک استعمال کر سکتا ہے اور یہ سب کرنے کی اہلیت یا منصوبہ بندی رکھتا ہے یانہیں ایک الگ بحث ہے ۔ سی پیک چین کا ایک ایسا منصوبہ ہے جس کا براہ راست اثر امریکہ کی دفاعی حکمت عملی پر ہونے والا ہے ۔ چین اگر بحیرہ عرب سے اپنے راستے تلاش کرے گا تو بحرالکاہل میں موجود امریکی بحری بیڑے کی گرفت سے آزاد ہو جائے گا ۔ امریکہ کا چین پر سے دبائو اس صورت میں کم ہوگا پھر مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک چین کی آسان رسائی بھی ممکن ہوگی جو کہ امریکہ کے لیے کسی طور بھی قابل قبول نہیں ۔ بحرالکاہل میںموجود امریکی بیڑے کے دو سکوارڈن جس میں ایشیائی سکوارڈن اور پسیفک سکوارڈ ن شامل ہیں ۔ یہ ایک بہت بڑا بیڑا ہے جس میں تقریباًڈھائی لاکھ فوجی ۔دو ہزار کا ہوائی بیڑہ اور 200جہازوں پر مشتمل سمندری بیڑہ شامل ہے ۔ اس بحری بیڑ ے کی موجود گی چین پر دبائو بر قرار رکھنے کے لیے ہی ہے ۔ ایسے میں اگر چین اپنے لئے نئے راستے تلاش کر لے گا تو امریکی حکمت عملی کو ایک نئی جہت اختیار کرنے کی ضرورت ہوگی جس کے لیے شاید امریکہ کے پالیسی ساز تیار نہیں ۔ چین کسی بھی اشتعال انگیزی کے بغیر اس صورتحال اور دبائو سے اتنی آسانی سے چھوٹ سکتا ہے ، یہ بات بھی امریکہ کے لیے پریشانی کا باعث ہوگی اس لیے آرلنگٹن کے فوجی اڈے پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کو یہ سب باتیں کرنا پڑیں ۔ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ امریکی صدر کے لہجے کی سختی میں کہیں وہ امریکی خوف بھی پنہاں ہے جو اس ساری صورتحال کے ویکھتے ہوئے امریکہ کو محسوس ہو رہا ہوگا ۔ امریکہ اس وقت پاکستان کو کمزور سمجھتے ہوئے یا پاکستان کے حالات کو ایسے سمجھتے ہوئے کہ پاکستان کو دبائو میں لایا جا سکتا ہے یا معاملات میں اس طرح کا بگاڑ پیدا کیا جا سکتا ہے جس سے پاکستان کو امریکہ کی مرضی نبھانے پر مجبور کیا جا سکے ۔ ہم اپنے حجم اور امریکہ کے ساتھ اپنے گزشتہ تعلقات کے نتیجے میں امریکی صدر کے لہجے میں دھمکی محسوس کر رہے ہیں لیکن اس سب کو حالات کے اصل تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے اور جب تک ہم یہ نہ سمجھیں گے ہمارے لیے درست فیصلے کرنے ممکن نہ ہونگے ۔

متعلقہ خبریں