Daily Mashriq


ڈینگی وباء یا غفلت

ڈینگی وباء یا غفلت

ڈینگی کے عفریت نے پشاور واسیوں کو ایک بار پھر خوف کے بے سائباں آسمان تلے لا کھڑا کردیا ہے ۔ پشاور کی بدقسمتی ہی تو ہے کہ دہائیوں سے اس شہر میں موت کی ارزانی رہی ہے ۔ بدامنی میں کتنی لاشیں اس شہر نے اٹھائیں، پوری دنیا اس کی گواہ ہے ۔ بدامنی کی موت کا بس نوحہ ہی کیا جاسکا کہ نہتے شہریوںکا اپنا قاتل معلوم ہی نہ تھا لیکن اب کے تو دشمن بالکل سامنے ہے ۔ اور دشمن بھی بظاہر اتناحقیر کہ جسے ہم اپنے ہاتھ سے مسل دیں۔مچھر۔۔مچھر توکسی بھی زمانے میں انسان کا دوست نہیں رہا۔ماضی میں تو اس کیڑے نے طاعون اور ملیریا پھیلا کر بستیوں کی بستیاں اجاڑ دی تھیں ۔اب یہ کیڑا نئے ہتھیار ڈینگی کے ساتھ میدان میں اترا ہے ۔ ڈینگی مچھر، مچھروں کی نئی جنریشن ہے ۔جس کا ایک ڈنک بندے کو موت کی وادی میں دھکیل دیتا ہے ۔کتنے گھر اجڑے اس ننھے سے کیڑے کی وجہ سے ۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ انسان اپنی ترقی کی ارفع دور میں ایک کیڑے سے جان کی بازی ہار جاتا ہے ۔ پاکستان میںڈینگی نے ماضی میں سوات اور پنجاب کو متاثر کیا تھا ۔پنجاب میں تو اس کے خلاف بہت بڑامعرکہ سر کیا گیا ہے ۔ پشاور میں اس نے پشتخرہ اور تہکال کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے ۔ بعض دوسرے علاقوں سے بھی کیسز نوٹ کیے گئے ہیں ۔اگرچہ اس کے پھیلاؤ میں وہ شدت باقی نہیں رہی کہ جسے الارمنگ کہا جاسکے ۔مگر یہ وباء کسی بھی صورت نظراندا ز کرنے والی نہیں ہے کہ ہم نے ابھی اپنی شہری زندگی کے بہت سے اصولوں کو سیکھنا ہے ۔ابھی تو ڈینگی کا مسئلہ سامنے آیا ہے ۔آگے بڑی عید آنے والی ہے ۔کانگو وائرس کا خدشہ بھی درپیش ہوسکتا ہے ۔جبکہ اس نئی قسم کی بیماریوں کو نہ ہی ہم نے قبول کیا ہے اور نہ ہی ہم نے ان کے خلاف کوئی مدافعتی سسٹم تیار کیا ہے بس اللہ کے توکل پر جی رہے ہیں جبکہ توکل کے لیے بھی کوشش لازمی ہوتی ہے ۔جہاں تک ڈینگی کا تعلق ہے تو میں صاف صاف کہتا ہوں کہ اس مچھر کو ہم نے خود دعوت دی ہے کہ وہ ہمارے شہر میں آبسے ۔ہماری مسجدیں شاندار طور پر آباد ہیں لیکن ہم نے نصف ایمان کو کبھی پورا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔جب اسلام دین حیات ہے تو پھر صفائی کہ جسے نصف ایمان کہا گیا ہے بھلا وہ صفائی انفرادی صفائی کیسے ہوسکتی ہے ۔بھلے سے ہم پانچ وقت وضو کرتے ہیں اپنے گھروں کو صاف رکھتے ہیں لیکن اللہ کی تمام عبادات کے مقابلے میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے تو ضرور اس نصف ایمان کے کچھ بہت بنیادی اور اہم تقاضے بھی ہوں گے ۔اس میں ہر فرد کی کوئی اجتماعی یا سماجی ذمہ داری بھی ہوگی ۔اور اگر ایسا ہے تو کیا ہم اس سماجی اور اجتماعی ذمہ داری کو نبھاتے بھی ہیں ۔اگر اس کا جواب اثبات میں آتا ہے تو بھئی آپ نے نصف ایمان تو کمالیا بصورت دیگر کلام الہٰی کی زبان میں انسان خسارے میں ہے ۔اسی تناظر میں سوچئے کہ ہمارا شہرپشاور دنیا کے گندے ترین شہروں میں اولین پوزیشن حاصل کرچکا ہے ۔تو کیا اس کی ساری کی ساری ذمہ داری موجودہ یا گزشتہ حکومتوںپر ڈال کر ہم سب شہری مبرا ہوجاتے ہیں ۔میرے خیال میں اس میںبہت بڑا قصور ہم سب کا بھی ہے ۔ ہر سڑک پر مجھے نارنجی جیکٹوں والے میونسپلٹی والے صفائی کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن شہر میں وہ صفائی نہیں دکھائی دیتی کہ جو میٹروپولیٹن شہر میں ہونی چاہیے ۔سوچنے والی بات ہے کہ لندن ،پیرس ، نیویارک ، ملبورن جیسے شہروں میں ڈینگی کیوں نہیں پھیلتا تو اس کا جواب یقینا یہی ہے کہ وہاں کا ماحول صاف ہے ۔ اب ان کے ماحول کی صفائی کی وجہ وہاںکا سسٹم تو ہوگا لیکن وہاں کے لوگ بھی ہوں گے ۔ کیا ہم اپنی گلیاں اور بازار اور سڑکیں اور دفتر اور سکول اور کالج اور یونیورسٹیاں صاف رکھتے ہیں ۔نہیں ہم نے کبھی اس طرف توجہ ہی نہیں دی ۔ نیچر ایک زندہ وجود ہے اور اس کا برتاؤ بھی زندہ لوگوں جیسا ہی ہے ۔نیچر کے ساتھ جیسا سلوک کیا جائے نیچر ویسا ہی بدلہ دیتی ہے ۔ ہم نے درخت کاٹ دیے اوراب گلوبل وارمنگ کی زد میں آکر موسموںکی شدتوں کو برداشت کررہے ہیں ۔ہم نے نیچر کو ناراض کردیا ہے سو اس کی ناراضی کی ایک صورت یہ وبائیں ہیں جو ادھر کا ہی رخ کررہی ہیں ۔ اس کرئہ ارض پر قائم زندگی اسی نیچر یا فطرت کے نظام کے تابع ہے ۔انسان بھی اسی فطرت کا حصہ ہے لیکن انسان نے فطرت میں رہ کر اسی فطرت کے خلاف روز ازل سے بغاوت کی ہے ۔اسی بغاوت کی سزا انسان کو فطرت مختلف صورتوں میں دیتی رہتی ہے ۔ہم تیسری دنیا کے لوگ جو وسائل کی کمی اور انتظامی بدنظمی کا شکار تو ہوتے ہی ہیں لیکن ساتھ ہی ہم اپنے ماحول سے محبت کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔خوشگوار ماحول کے اثرات انسان کے اعصاب اور نفسیات پر بھی اچھے مرتب ہوتے ہیں ساتھ ہی بیماریاں بھی دور رہتی ہیں ۔ بیشترحشرات الارض کی زندگی اور بقاء کے لیے گندگی کا ہونا لازمی ہوتا ہے ۔ہم انسان ہی مکھیوں اور مچھروں کو وہ مطلوبہ گندگی فراہم کرتے ہیں ۔جس سے ان کی بقاء ممکن ہوتی ہے ۔ ہم اپنے گھر سے باہر کا بالکل نہیں سوچتے ۔ جہاں مرضی کوڑا کرکٹ پھینک دیا ۔جہاں مرضی گندگی پھیلادی ۔جب تک شہر کے لوگ شہر کو اپنا گھر تسلیم نہیں کریں گے ڈینگی قسم کی آفات ہم پرنازل ہوتی رہیں گی ۔ اس ضمن میں ہم اتنے لاپروا ہوچکے ہیں کہ موت سے بھی ہمیں ڈر نہیں لگتا ۔ہم صرف حکومتوں کو برا بھلا کہنے کے لیے تیار بیٹھے رہتے ہیں ۔صاف ستھرا ماحول اللہ کی ایک نعمت ہے ۔ اس کے لیے آگاہی بہت ضروری ہے ۔

متعلقہ خبریں