Daily Mashriq


انتخابی اصلاحات یا اشرافیہ کا دائمی حق حکمرانی ؟

انتخابی اصلاحات یا اشرافیہ کا دائمی حق حکمرانی ؟

انتخابی اصلاحات کے قومی اسمبلی سے منظور شدہ بل میں انتخابی اخراجات کی حد 5کروڑ مقرر کی گئی ہے ۔ کیا ہماری سیاسی اشرافیہ حتمیٰ فیصلہ کر چکی ہے کہ اس ملک کی 90فیصد آبادی پر سیاسی عمل میں شرکت کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند کر دیئے جائیں ؟ ۔ انتخابی مہم میں مذہب و فرقہ وارانہ تعصبات کو بنیاد بنا نے پر پابندی کا فیصلہ بجا طور پر درست اور وقت کی ضرورت ہے کیا ہی اچھا ہوتا اگر فرقہ وارانہ اور مذہبی جماعتوں کے سیاسی عمل میں شرکت کے حوالے سے بھی موثر قانون سازی کر لی جاتی ۔ گو مذہبی و فرقہ وارانہ تعصبات کو انتخابی سیاست کے لئے استعمال کرنے پر 3 سال کی سزا تجویز کی گئی ہے ۔ جبکہ 5فیصد ٹیکس خواتین کو دینا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ شق وار منظور کئے گئے انتخابی اصلاحات کے بل پر یقینا تحفظات بھی سامنے آئیں گے اور ہونے بھی چاہئیں ۔ بنیادی سوال وہی ہے جو بالائی سطور میں عرض کیا کہ آخر انتخابی اخراجات کی حد 5 کروڑ ہی کیوں ؟ ۔ شرح غربت لگ بھگ ساٹھ (60) فیصدہے مجموعی طور پر 90فیصد آبادی عام اور قدرے بہتر طبقات پر مشتمل ہے ۔ قدرے بہتر طبقات کی تعریف میں وہ سفید پوش آتے ہیں جو دال دلیہ کا بھرم رکھے ہوئے ہیں ۔ اس طور اگر 90فیصد آبادی پر اجتماعی طور پر انتخابی عمل میں شرکت کے دروازے بند کر دیئے جائیں ( جو کہ کر دیئے گئے ہیں ) تو کیا محض 10فیصد آبادی کو جو اشرافیہ کے طبقات پر مشتمل ہے دائمی حق حاکمیت کا لائسنس نہیں مل جائے گا ؟ ۔ بہت ادب کے ساتھ عرض کرو ں کہ عوام کے منتخب نمائندوں کے نزدیک رائے دہند گان کی حیثیت غلاموں او ربھیڑ بکریوں سے زیادہ نہیں ہے ۔ تلخ مگر کڑوی حقیقت یہ ہے کہ قومی اسمبلی نے انتخابی اصلاحات کے نام پر طبقاتی جمہوریت کے دوام کا راستہ ہموار کیا ہے ۔ افسوس صد افسوس کہ اے این پی اور پیپلز پارٹی نے اس بل کے حق میں ووٹ دیئے ۔ مسلم لیگ (ن) کا خمیر تو چلیں ضیاء الحق فہم سے گند ھا ہے یہ جماعت جمہوریت سے زیادہ کاروبار پر یقین رکھتی ہے ۔ مقر ر عرض کروں ۔ صاف سید ھے لفظوں میں یہ کہ سیاسی عمل میں کارکن کلچر تمام ہوا ۔ ہم سے طالب علم سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اندر خاندانی آمریتوں پر معترض تھے یہاں نیا کٹا کھول دیا گیا ۔ ہمیں توقع تھی کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں سفارش کی جائے گی کہ سیاسی جماعتوں کے مرکزی اور صوبائی انتخابات کے مواقع پر الیکشن کمیشن کے مبصرین موجود ہونے کی سفارش کی جائے گی تاکہ بلا مقابلہ انتخابات کی جماعتی ڈرامہ بازیوں کی گرفت ہو اور اس بات کی بھی کہ کوئی جماعت محض 7منٹ میں مرکز اور چاروں صوبوں کے جماعتی انتخابات کر والے ۔ یہاں تو باواآدم ہی نرالا ہوا ، ایک سفید پوش اس سے قدرے بہتر مالی حیثیت کا سیاسی کارکن صرف اس لئے انتخابی عمل میں امیدوار نہیں بن سکے گا کہ اس کے پاس پانچ کروڑ نہیں ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص بھی 5کروڑ روپے کے انتخابی اخراجات کرے گا ۔ اس قبل ٹکٹ کے حصول کے لئے وہ پارٹی فنڈ اور فیس کے نام پر 40-30لاکھ روپے دے اسے تقریباًساڑھے 5کروڑ میں پارلیمنٹ کی ممبری پڑے گی ۔ کیا اس کا دماغ خراب ہے کہ وہ گھر سے ساڑھے پانچ کروڑ خرچ کر کے اپنے حلقے کے رائے دہند گان کی خدمت کرے گا ؟ ۔ کم سے کم بلکہ نہ ہونے کے برابر انتخابی اخراجات کی حد مقرر ہونی چاہیئے تھی ۔ ارکان اسمبلی اگر سمجھتے تھے کہ 5کروڑ کی حد ضروری ہے تو پھر یہ شرط بھی رکھتے کہ ہر جماعت کم از کم 50فیصد ٹکٹیں درمیانے اور نچلے طبقوں کے اپنے کارکنوں کو دے اور ان کے انتخابی اخراجات ہر سیاسی جماعت اپنی اُس آمدنی سے پورے کرے جسکا اس ملک میں کبھی کسی نے حساب دینے کی زحمت نہیں کی ۔ کیا ووٹروں کا یہ حق نہیں کہ وہ اپنی پسند یدہ جماعت سے پوچھ سکیں کہ پارٹی ٹکٹ کے اجرا ء اور دیگر حدوں میں امیدواروں سے لی گئی رقوم آخر کہاں خرچ ہوتی ہیں ؟ ۔ بار دیگر اس امر کی طرف توجہ دلانا از حد ضروری ہے کہ انتخابی اصلاحات کے نام پر جمہوریت سے کھلواڑ ہوا ہے ۔ بالا دست طبقات کے حق حکمرانی کو انتخابی اخراجات کی مقرر کردہ حد کی آڑ میں قانونی حیثیت دے دی گئی ہے ۔ کم از کم مجھے تو ہر گز امید نہیں کہ سینیٹ آف پاکستان میں اس بل کی کسی شق کے خلاف مزاحمت ہو وجہ یہی ہے کہ مشکل سے 5فیصد سینیٹروں کا تعلق عام طبقات سے ہے اکثریت طبقہ امراء سے تعلق رکھتی ہے ، سینیٹ کی ٹکٹیں کیسے عطاء ہوتی ہیں یہ کوئی راز نہیں ۔ ان کالموں میں پچھلے طویل عرصہ سے تکرارکے ساتھ اس بات کو دہرا رہا ہوں کہ عوام کے حق حکمرانی سے کوئی بھی سنجیدہ نہیں دوسروں سے کیا شکوہ خود عوام بھی خاندانی غلامیوں میں خوش ہیں ۔ انتخابی اصلاحات کا یہ بل کسی مذہب جمہوری معاشرے کی پارلیمان نے منظور کیا ہوتا تو اب تک باشعور سیاسی کارکن اور عوام سڑکوں پر آچکے ہوتے ۔ ہمارے یہاں ایک سازش کے تحت سیاسی ورکرز کا کلچر ختم کر کے ٹھیکیداری نظام لایا گیا ۔ ستم بالا ئے ستم وہ انو سٹرز ہیں جو سیاسی و مذہبی جماعتوں کے امیدواروں پر انتخابی عمل میں انوسٹمنٹ کرتے ہیں اور ان کی کامیابی کی صورت میں معہ سود وصولی بھی ۔ چند برس ہوئے ہیں ملک کے ایک صوبے کی اسمبلی کے ایک ضمنی انتخابات میںفی ووٹ 3ہزار روپے کے لگ بھگ خرچ کر کے ایک امیدوار 19ہزار ووٹ لے کر ہار گئے ۔ ان سے ان کی شکست پر افسوس کیا تو وہ بولے '' اللہ جانے تمہیں کب عقل آئے گی ۔ میں انہیں حیرانی سے دیکھنے لگا ۔ وہ بولے شکست کے باوجود مجھے 8کروڑ کی بچت ہوئی ہے ۔ وہ کیسے دریافت کیا ؟ ۔ کہنے لگے مرید ین نے جو رقم انتخابات کے اخراجات کے لئے دی تھی اس میں سے خرچے کے بعد بھی 8کروڑ بچ گئے ۔ 19ماہ کی ممبری میں اتنی رقم کیسے کما سکتا تھا ۔ یہ ایک مثال ہے اس سے زیادہ کیا عرض کیا جائے ۔

متعلقہ خبریں