Daily Mashriq

بہا نہ ، ٹھکانہ اور نشانہ

بہا نہ ، ٹھکانہ اور نشانہ

بڑا ہی چر چاتھا کہ جناب ٹرمپ نئی افغان پا لیسی لا ر ہے ہیں مگر کیا معلوم تھا کہ وہ ٹرپ کر جائیں گے ا ن کو مبارک ہو کہ وہ چھ ما ہ میں ہی امریکی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بن گئے ان کے پیش رو بارک اوباما بھی جنگ نہیں امن قائم کرنے آئے تھے مگر ان کی بھی امریکی ملٹری اسٹبلشمنٹ کے آگے ایک نہ چلی وہ بھی جنگ کو بڑھوتی دے کر چلتے بنے ، اگر کسی کا یہ خیا ل تھا کہ وہ افغانستان میں امن کی خاطرفوجوں میں کمی یا انخلا ء کی پالیسی دیں گے تو یہ ان سب کی خام خیالی تھی کیو ں کہ(ر) حمید گل نے برسو ں پہلے کہہ دیا تھا کہ نائن الیون بہانہ ، افغانستان ٹھکا نہ اور پاکستان نشانہ ہے ، تب سے ہی امریکا اس پر عمل پیر ا ہے ، چنانچہ امریکا کو یہ مشکل آن پڑی ہے کہ پاکستان میں جنرل (ر) مشرف جیسا آمر مسلط نہیں ہے جو اپنے اقتدار کے بچاؤ کی غر ض سے سب کچھ امریکا پر نچھا ور کردے امریکا کو ہمیشہ سے پاکستان میں منتخب حکومت سے چڑ رہی ہے چنا نچہ کئی ما ہ سے نئی افغان پالیسی کی جو شنید تھی اس کا اعلان امر یکا نے بر وقت کیا ہے ، کیو ںکہ پاکستان اس وقت سیا سی بحران سے دوچار ہے اور انتظامیہ اس کے نتیجے میں ڈھیلی پڑ گئی ہے یہ کا میا بی حاصل کر نے کے بعد ہاتھ آگے بڑھایا ہے۔کمزور سیا سی حکومت کے باوجو د اس وقت پاکستان میں ایک سیاسی ڈھانچہ موجو د ہے جو کا م کررہا ہے ، اور آٹھ دس ما ہ میں انتخابات بھی منعقد ہونے والے ہیں چنا نچہ مو قع تاک کر امریکا نے نئی افغانستان پا لیسی کے نا م سے پر انی بوتل میں پر انی شراب انڈیل دی ہے مگر سوڈے کی آمیزش کے ساتھ تاکہ اس میں سے غبار نکلتے رہیں اور ایساہو نا بھی شروع ہو گیا ہے ، نئی افغان پا لیسی کیا ہے ٹرمپ کی تقریر سے یہ ہی اندازہ ہو تا کہ انہو ں نے امریکا کی پالیسی کی پرانی باتوں کو دہر ایا ہے ماسوائے دو نکا ت کے جو امریکا کے مستقبل کے عزائم کو آشکا رہ کر تے ہیں ایک تو ان کا لہجہ پاکستان کے بارے کرخت تھا ، دوسرے انہوں نے دھمکی میں نئی پالیسی یہ دی ہے کہ امریکا اب اپنی مرضی سے آپریشن کر ے گا ، کب کر ے گا ، کہا ں کر ے گا اور کیسے کر ے گا اس بارے میں کوئی اطلا ع نہیں دی جائے گی ۔ دوسرے بھارت کو جو پہلے سے افغانستان میں گھس بیٹھا ہے اس کو مزید شہ دی گئی ہے ، یہ ہی دو نکا ت ہیں جو پاکستان کے لیے توجہ کا مرکز ہیں۔ بہر حال ٹرمپ کی افغان پا لیسی کا سرسری جا ئزہ لینے سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ان کا بھی اپنی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی وجہ سے پا ؤں پھسل گیا ہے ۔ چنانچہ اسی بنا پر پاکستان میں امریکا کے سفیر نے پا لیسی کے اعلا ن ہونے کے بعد پاکستان کے آرمی چیف سے ملا قات کی اور تعاون کی خواہش کی ، حیرت ہے کہ جو ملا قات امریکی سفیر کو وزارت خارجہ پاکستان کے حکام سے کرنا چاہیے تھی کہ وہ اس قدر حواس باختہ تھے کہ سیدھے پاکستان کے کما نڈر انچیف کے پا س چلے گئے جس کا ان کو دو ٹو ک جو اب بھی مل گیا کہ امریکا جو ہر مر تبہ پا کستان کی مد د سے سکو ن پا تا ہے لیکن ہر مرتبہ پا کستان ہی کو ڈھس جا تا ہے پاک فوج کے کما نڈر چیف نے بے کھٹکے کہہ دیا کہ پاکستان کو امریکی اسلحہ اور امدا د کی ضرورت نہیں ہے ، پاکستان کی دہشت گردی کی جنگ میں قربانیو ں کو تسلیم کیا جا ئے ۔ پاکستان نے ستر ہزار سے زیا دہ قیمتی جانوں کی قربانی پیش کیں ہیں ، کیا امریکا کے پا س اپنی شروع کر دہ اس جنگ میں اتنی عظیم قربانی کی کوئی مثال ہے ؟۔ 

امریکی صدر کے پہلے نکتے کی طرف آتے ہیں کہ آپریشن کس طر ح کیا جا ئے گا اس سے ایک دھمکی کا اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا یا تو دوبارہ بلا اجازت ڈرون حملے شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ان حملو ں کا مقصد پاکستان کو بدنا م کرنا ہی ہو سکتا ہے ، لیکن بعض مبصرین کی رائے ہے کہ امریکا تو افغانستان میں امن کے لیے آیا ہی نہیں ہے جیسا کہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا افغانستان کی تعمیر نو کی غرض سے نہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آیا ہے اور ماضی میں امریکا کا کر دار واضح رہا ہے کہ اس نے امن کے قیا م کے لیے ہر سنجید ہ کو شش کو سبوتاژکیا ہے علا وہ ازیں پاکستان کو پھٹکا ر کر وہ یہ جنگ جیت ہی نہیں سکتا ، سترہ سال کا ریکا رڈ اس کا ثبوت ہے ہاں جس طرح گما ن ہے کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والی قوتو ں کی کوششوں کا شر یک ہے تو وہ یہ آگ پاکستان کے اندر لا نا چاہتا ہے ، اور اس میں وہ بھارت کا مدد گا ر بھی بننا چاہتا ہے مگر یہ پالیسی کا میا ب نہیں ہوسکتی کیو ں کہ پاکستان کے عوام سیا سی بحران کے باوجود امریکا کے معاملے میں یک سو ہیں ۔ جہا ں تک بھارت کو افغانستان امور میں حصہ دینے کا اعلا ن ہے تو یہ پالیسی بھی کامیاب نہ ہو نے والی ہے کہ گزشتہ ستر سال سے بھارت افغانستان میں کر دار ادا کر رہا ہے اور کردار ادا کرنے کے جتن بھی کرتا ہے مگر اس کو نتیجہ ہمیشہ صفر ہی ملتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت اور افغانستان کا اتحاد ہمیشہ مصنوعی یکجہتی پر مبنی رہا ہے جب کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام اسلامی ، اقتصادی ، معاشی ، خونی وخاندانی اور ثقافتی رشتے میں ایک دوسرے سے صدیوں سے وابستہ چلے آرہے ہیں۔

متعلقہ خبریں