Daily Mashriq

کشمیر کی داخلی مزاحمت پر امریکہ کا ایک اور وار

کشمیر کی داخلی مزاحمت پر امریکہ کا ایک اور وار

امریکہ نے کشمیریوں کی سب سے بڑی حریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے تنظیم کے اثاثے ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سال جون میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ سے ایک روز قبل حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا جس کا بڑے پیمانے پر ردعمل سامنے آیاتھا۔ امریکہ کے اس فیصلے کو نریندر مودی کو خوش کرنے کی بھونڈی کوشش قراردیا گیا تھا۔ اس فیصلے میں امریکہ نے یہ گنجائش رکھی تھی کہ پوری تنظیم کی بجائے سربراہ کو نشانہ بنایا گیا تھا اب امریکہ پوری طرح کھل کر سامنے آیا ہے اور رہی سہی کسر پوری کرتے ہوئے کشمیر کی داخلی مزاحمت اور کشمیریت کی علامت مسلح تنظیم کو مجموعی طور پر دہشت گرد قرار دے دیا جو امریکہ کے رویئے میں کشمیر کی مجموعی تحریک کے لئے ضد اور ردعمل کا پتا دے رہی ہے۔ امریکہ کا یہ رویہ کشمیر کی عسکری تحریک سے ہی نہیں بلکہ امریکہ نے کشمیر کی سیاسی تحریک کے ساتھ بھی اس سے بدتر سلوک روا رکھا ہے۔ برسوں پہلے سید علی گیلانی کو علاج کے لئے امریکہ کا ویزہ دینے سے یہ کہہ کر انکار کیا تھا کہ وہ کشمیر میں ہونے والے تشدد کی مذمت نہیں کرتے۔ میر واعظ عمر فاروق بھی ایک عرصے سے امریکہ کے سفر پر نہیں گئے حالانکہ ان کی اہلیہ امریکہ نژاد کشمیر ی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ چند برس پہلے واشنگٹن میں کشمیری امریکن کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر غلام نبی فائی کو جو امریکہ کے ذمہ دار اور پرامن شہری تھے اچانک گرفتار کر لیا گیا تھا۔ غلام نبی فائی کشمیر کے سفارتی محاذ پر خاصے سرگرم تھے اور اس حوالے سے سینیٹ اور کانگریس کے ارکان سے رابطے قائم رکھے ہوئے تھے۔ غلام نبی فائی کو ریمنڈ ڈیوس واقعے کے کچھ ہی عرصہ بعد گرفتار کیا گیا اور یوں غلام نبی فائی کی گرفتاری کو ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کا تُرکی بہ تُرکی جواب ہی تصور کیا گیا۔ یہ واقعہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان کشمیر کے موقف میں پیدا ہونے والے گہرے تضادکا پتا دے رہا تھا۔ اس سے پہلے لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیموں کو بھی دہشت گرد قرار دیا جاتا رہا مگر ان تنظیموں کی غیر کشمیری شناخت کی وجہ سے اس معاملے کو زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہوئی اور اسے دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی روایتی مہم اور نعرے بازی کا حصہ ہی سمجھا جاتا رہا۔ خود امریکہ بھی یہ تاثر دیتا رہا کہ وادی میں سرگرم کشمیری اور غیر کشمیری تنظیموں کے لئے اس کے پیمانے الگ ہیں۔ اب امریکہ نے حزب المجاہدین کو بطور تنظیم دہشت گرد قرار دیا تو یہ تاثر تقویت حاصل کر گیا کہ امریکہ اب کشمیر کی حریت پسند تنظیموں بلکہ کشمیریوں کی تحریک مزاحمت کو بھی ایک ہی لاٹھی سے ہانک رہا ہے اور اس کی وجہ بھارت کے ساتھ امریکہ کی تیزی سے ختم ہوتی ہوئی ''من وتو'' کی تمیز ہے۔ امریکہ کے اس فیصلے پر حکومت پاکستان نے مایوسی کا اظہار کیا ہے جبکہ خود حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین نے اسے نریندر مودی کو خوش کرنے کی ایک اور کوشش قرار دیا۔ سید صلاح الدین تین عشرے میں متعدد بار مسلح جدوجہد ترک کرنے کی مشروط پیشکش کر چکے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ یہ بات دہرائی ہے کہ اگر بھارت کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرکے سہہ فریقی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرے تو وہ بندوق چھوڑ دینے میں لمحوں کا تامل نہیں کریں گے۔ پاکستانی نژاد امریکی منظور اعجاز نے امریکی اداروں کی اشیرباد سے ہی سید صلاح الدین اور حزب المجاہدین کو سیز فائر پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ 

جس کے نتیجے میں تنظیم کے آپریشنل کمانڈر عبدالمجید ڈار نے سری نگر میں یک طرفہ سیز فائر کا اعلان کیا تھا اور تنظیم کے کمانڈروں پر مشتمل ایک کمیٹی نے بھارتی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تھا مگر بھارت کی طرف سے کوئی فوری اور بڑا اعلان نہ ہو نے کی بناء پرسیز فائر ختم کر دیا گیا تھا۔ امریکی ایماء پر ہی برطانوی حکام نے حزب المجاہدین کے سابق فعال کمانڈروں کی بحالی کے لئے سالوویشن موومنٹ کے نام سے ایک سیاسی تنظیم کے قیام میں معاونت کی تھی۔ حزب المجاہدین کی اگلی صفوں میں اور اس ننانوے فیصد نوجوانوں کا تعلق وادی کشمیر سے ہے۔ اس تنظیم نے کبھی کسی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ رابطے نہیں رکھے اور جب بھی القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں نے کشمیر کے حالات میں دخل اندازی کی کوشش کی حزب المجاہدین نے انہیں بری طرح جھڑک دیا ۔ گویا کہ حزب المجاہدین ایک خالص کشمیری آزادی پسند تنظیم ہے جس نے حالات کے جبر کے باعث بندوق تھامی ہے۔ امریکہ بھارت کی محبت اور پاکستان کی نفرت میں اب تمام بین الاقوامی قواعد اور آداب کو بھول رہا ہے۔ امریکہ کے لئے اب بھارت کی ہر خواہش حکم کا درجہ رکھتی ہے چونکہ بھارت کشمیر کی داخلی مزاحمت سے تنگ ہے اس لئے امریکہ بھی بھارت کی خوشنودی کی خاطر ہر اس شخص اور تنظیم کو سزا دینا چاہتا ہے جو بھارت کے لئے ناپسندیدہ ہے۔ سید صلاح الدین کو گلوبل دہشت گرد قرار دینے کے بعد اب حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دینا امریکہ کی بھارت سے محبت اور اندھی تقلید کا شاخسانہ ہے۔ امریکہ کشمیر یوں کی جائز اور قانونی جدوجہد، اس کی علامتوں کو دہشت گرد قرار دے کر خود کو بھارت کے ساتھ مکمل طور پر بریکٹ کر رہا ہے اور اس طرح وہ جنوبی ایشیا کے تنازعے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی اپنی صلاحیت تیزی سے کھو رہا ہے جو خود امریکہ کے لئے اچھا نہیں۔

متعلقہ خبریں