Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت ابو مسلم خولانی بہت مستجاب الدعوات تھے ۔ ان کے بارے میں یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی ہرن گزر رہا ہوتا ، بچے ان سے کہتے : اے ابو مسلم ! اللہ سے دعا کیجئے ، ہم آسانی سے اس ہرن کو پکڑ لیں تو حضرت ابو مسلم دعا کرتے اور بچے بڑی آسانی سے ہرن پکڑ لیتے ۔ عثمان بن عطا ء بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو مسلم اپنے گھر میں داخل ہوتے تو سب سے پہلے سلام کہتے ۔ جب گھر کے درمیان پہنچتے تو اللہ اکبر کہتے ۔ جواب میں ان کی بیوی بھی اللہ اکبر کہتی ۔ پھر وہ اپنے کمرے میں داخل ہو کر چادر اور جوتا اتارتے ، ان کی بیوی کھانا لگاتی اور وہ کھانا تناول فرماتے ۔ ایک رات وہ گھر آئے ، اللہ اکبر کہا ، لیکن بیوی کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا ۔پھر انہوں نے کمرے کے دروازے کے پاس آکر اللہ اکبر کہا ۔ بیوی نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا ۔ آج ان کی بیوی نے گھر میں کوئی چراغ بھی نہیں جلایا تھا ۔ حضرت ابو مسلم نے دیکھا کہ ان کی بیوی افسردہ حالت میں بیٹھی ایک چھوٹی سی لکڑی کے ساتھ زمین پر آ ڑی ترچھی لکیریں کھینچ رہی ہے ۔ حضرت ابو مسلم نے پوچھا : کیا ہوا ؟ بیوی نے جواب دیا : لوگوں کے ہاں وسائل کی فراوانی ہے ۔ آپ بھی سیدنا معاویہ کے پاس جائیں اور ان سے غلام اور دیگر اسباب زندگی کے متعلق سوال کریں ، تاکہ ہماری زندگی میں بھی کوئی راحت آئے ۔ حضرت ابو مسلم کو پتا چل گیا کہ میری بیوی کو کسی نے ورغلایا ہے ۔ وگرنہ وہ تو اللہ پر توکل کرنے والی تھی ۔ پھر وہ کہنے لگے : اے اللہ ! جس نے میری بیوی کو ورغلا یا ہے ، اسے اندھا کر دے ۔ ان کی بیوی کے پا س ایک خاتون بیٹھی ہوئی تھی ، جس نے اسے ورغلا یا تھا ۔ حضرت ابو مسلم کی دعا کے بعد کہنے لگی : اچانک آپ کے گھر میں اتنی تاریکی کیوں چھاگئی ہے ۔ مجھے کچھ سجھائی نہیں دے رہا ۔پھر جب ا س نے آہ وزار ی شروع کر دی تو حضرت ابو مسلم نے خاتون کے لیے بینائی کی واپسی کی دعا کردی اور اس خاتون کی بینائی لوٹ آئی ۔ وہ خاتون اپنے گھر چلی گئی اور ان کی بیوی پہلے کی طرح انتہائی صالحہ ، اللہ کا تقویٰ رکھنے والی اور اللہ پر بھروسہ کرنے والی بن گئی (مجا بو الدعوة ، ص:124)

سلطان صلاح الدین ایوبی کی فوج کا ایک سپاہی ایک دفعہ کسی دشمن (عیسائی ) کا دودھ پیتا بچہ اٹھا لایا ، اس کی ماں بے قرار ہوگئی اور اپنے گائوں کے سردار سے فریاد ہوئی ، اس نے کہا : سلطان صلاح الدین ایک سچا مسلمان ہے ، ا س کی خدمت میں جا کر عرض کرو ، وہ سلطان کی خدمت میں آئی اور ساری کہانی سنائی ، سلطان یہ باتیں سنتا جارہا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسوئو ں کی لڑی رواں تھی ، عورت اپنی کہانی سنا چکی تو سلطان غصے سے اٹھا اور فوج میں تلاش شروع کردی ، معلوم ہوا کہ بچہ بیچ دیا گیا ، اس کے دام ادا کرکے بچہ واپس منگوایا اور اس کی ماں کے حوالے کر دیا ، ماں کی خوشی کا کچھ ٹھکانہ نہ تھا ، اس نے سلطان کا شکریہ ادا کیا اور اٹھ کر اپنے گھر کو واپس چلی گئی ،سلطان نے اس موقع پر عورت سے کہا کہ تمہیں میرے ایک سپاہی کی وجہ سے تکلیف پہنچی ، میں اس کی تم سے معافی چاہتا ہوں ۔ (تاریخی واقعات)

متعلقہ خبریں