Daily Mashriq

امریکہ طالبان مذاکرات میں بڑی پیشرفت

امریکہ طالبان مذاکرات میں بڑی پیشرفت

افغانستان میں18برس سے جاری جنگ کے خاتمے اور قیامِ امن کے سلسلے میں افغان طالبان اور امریکا کے مابین ہونے والے مفاہمتی عمل میں غیر ملکی افواج کے انخلا کی مدت پر اتفاق ایک بڑی کامیابی ضرور ہے جس میں پیشرفت کا انحصار بڑی حد تک کابل میں بننے والی نئی حکومت پر بھی ہوگا جس کا ابھی وجود بھی نہیں اس وقت کابل حکومت طالبان اور امریکی مذاکرات میں فریق تک نہیں آمدہ صدارتی انتخابات میں کابل پر طالبان کی حکمرانی ہوگی یا پھر طالبان بزورقوت کابل پر قبضہ کر کے امریکی افواج انخلاء معاہدہ کے مطابق یقینی بنائیں گے اس طرح کے کئی پیچیدہ سوال اٹھتے ضرور ہیں تاہم امکان ہے کہ جب پردے اٹھتے جائیں گے تو حکمت عملی اور منصوبے کو سمجھنے میں چنداں مشکل نہ ہوگی۔ خیال رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان امریکی افواج کے انخلا، جنگ بندی، بین الافغان مذاکرات اور افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت کے حوالے سے بات چیت کے8ادوار مکمل ہو چکے ہیں۔تاہم اب بھی طالبان اشرف غنی کی حکومت کو ماننے سے انکاری ہیں البتہ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ افواج کے انخلا کے ٹائم فریم پر سمجھوتہ ہونے کی صورت میں وہ امن معاہدے کے لیے بین الافغان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔خیال رہے کہ واشنگٹن، طالبان کے ساتھ یکم ستمبر تک معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے کیونکہ اسی ماہ افغانستان میں صدارتی انتخاب بھی ہو گا، جبکہ امریکی صدارتی انتخاب 2020میں ہو گا۔دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ ان کی حکومت جامع مذاکرات کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے پر دستخط ہونے سے قبل اس دستاویز کا جائزہ لے گی۔قومی ٹیلی ویژن پر انٹریو دیتے ہوئے افغان صدر کا مزید کہنا تھا کہ اگر آئندہ 5ماہ کے عرصے میں5ہزار امریکی فوجی بھی افغانستان سے چلے جائیں تو افغانستان کو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔اگرچہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء اور طالبان سے امریکی معاملت سے پاک بھارت مقبوضہ کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کا دور دور سے بھی تعلق نہیں لیکن اس کے باوجود ماہرین نہ صرف اب اور اس موقع کو بلکہ بہت عرصہ قبل ہی طالبان امریکہ معاملات اور مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کے وقت حالات اور اس میں امریکی کرداروعمل کا تذکرہ کرتے آئے ہیں چونکہ اب ان کی پیشگوئی کا بڑا حصہ عملی طور پر درست ثابت ہوا ہے دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کشمیر کے سنگین تنازعے میں ثالثی اور دونوں وزرائے اعظم سے صورتحال کے بارے میں رابطہ میں ہے اس لئے ان دونوں تنازعات کے یکے بعد دیگرے یا بیک وقت حل کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کشمیر کے تنازعہ میں بھارت کا جو کردار وعمل اور اس کا کشمیری عوام کی طرف سے جو سخت ردعمل سامنے آیا ہے اس سے بھی لگتا ہے کہ اب یہ منحنی اونٹ کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ جائے گا یا بٹھا دیا جائے گا ایسا کرنا افغانستان کے مسئلے کے حل کے بعد جہادی عناصر کی افغانستان سے کشمیرمراجعت کی روک تھام کیلئے بھی ضروری ہوگا۔تمام پیشرفت اندازوں یہاں تک کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے باوجود اس امر پر یقین کرنا مشکل ہے کہ امریکہ افغانستان سے دامن بچا کر کامیابی سے نکلنے میں کامیاب ہوگا اورسال دوسال یا اٹھارہ ماہ انخلاء کی جس مدت پر اتفاق ہو جائے اس دوران ایسے واقعات پیش نہیں آئیں گے کہ دونوںایک دوسرے کو الزام نہ دینے لگیں معاہدے کی خلاف ورزی کی شکایات سامنے نہ آئیں اور سب کچھ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت مکمل ہو۔

آئینی طریقہ کار اختیار کیا جائے

وزیراعظم اور حزب اختلاف کے درمیان مشاورت کے بغیر الیکشن کمیشن کے دو ممبران کی تقرری کے نوٹیفیکیشن کا اجراء مجوزہ طریقہ کار سے انحراف اور غیر قانونی اقدام تھا جس سے حکومت گریز کرتی تو چیف الیکشن کمشنر کے حکومت کے یکطرفہ طور پر دو اراکین سے حلف لینے سے انکار کی نوبت ہی نہ آتی ۔حیرت انگیز امر یہ ہے کہ حکومت کو قانونی مشاورت دینے کے ذمہ داربجائے اس کے کہ وہ اس غیر قانونی اقدام کی نشاندہی کرتے الٹا نوٹیفیکیشن جاری کردیا جسے چیف الیکشن کمشنر نے غیر قانونی قرار دیا جن کے اقدام سے خود حکومت پر قانون کی عدم پابندی اور من مانی کرنے کا دھبہ لگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ جہاں حکومت کو اس طرح کے اقدامات سے گریز کرنا چاہیئے تھا وہاں حزب اختلاف کا بھی ایسا رویہ اختیار کرنے سے گریز کی ضرورت ہے کہ حکومت ان سے آئینی طور پر مشاورت میں تنگی محسوس کرے۔آئین کے آرٹیکل213اور214پر عملدر آمد تنہا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ حزب اختلاف کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے تعاون کا مظاہرہ کرے جبکہ حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ من مانی کی بجائے آئینی تقاضوں کو بنانے کی سعی کرے یہی جمہوریت اور جمہوری طریقہ کار ہے جسے اختیار کئے بغیر حکومتی معاملات چلانا اور قانون سازی ممکن نہ ہوگی ادارے مفلوج ہوجائیں تو انتظام حکومت بھی چلانا ممکن نہ ہوگا بہتر ہوگا کہ فریقین اپنے اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں اور ملکی معاملات کو مروجہ طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھائیں۔

متعلقہ خبریں