Daily Mashriq

جو لوگ تیر ی بقا

جو لوگ تیر ی بقا

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج اور انتظامیہ نے مظاہروں کو روکنے کیلئے نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی عائدکر رکھی تھی ، بھارتی فوج اور پولیس نے لوگوں کو نماز جمعہ کے بعد سرینگر کے علاقے سونہ وار میں اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف مارچ سے روکنے کیلئے کرفیو اور دیگر پابندیاں مزید سخت کردی تھیں، مساجد جانے والے راستے بند کردیے، قابض انتظامیہ نے جن علاقوں میں کرفیو میں عارضی نرمی کی تھی وہاں بھی دوبارہ پابندیاں عائد کردیں، سری نگر کو جیل میں تبدیل کردیا گیا،جگہ جگہ خار دار تاریں اور رکاوٹیں کھڑی کردیں،عرب ٹی وی کے مطابق سرینگر میں ایمبولنسز اور بیمار افراد کو اسپتال جانے کی اجازت بھی نہ دی گئی،مقبوضہ وادی میں کرفیو کے 19ویں روز بھارتی فورسز کی بھاری نفری اور پابندیوں کے باوجود صورہ میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین نے پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے، مظاہرین اور فورسزمیں جھڑپیں ہوئیں، پیلٹ گن اور آنسو گیس کا شدید استعمال،برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے انڈین سکیورٹی فورسز کو پیلٹ گن اور آنسو گیس کے شیل فائر کرتے جبکہ مظاہرین کو سکیورٹی فورسز پر پتھرائو کرتے دیکھا گیا، جھڑپیں دو گھنٹے تک جاری رہیں جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے، سرینگر کی مرکزی جامع مسجد درگاہ حضرت بل میں آج یہاں نماز جمعہ کے کسی بڑے اجتماع کی اجازت نہیں دی گئی ، دوسری جانب مقبوضہ کشمیر بالخصوص سرینگر سے رات گئے گھروں پر بھارتی فورسز کے چھاپوں کا سلسلہ بھی جاری رہا، جمعرات اور جمعہ کی رات گئے سرینگر میں گھروںسے میں 10لڑکوں کو گرفتار کرلیا گیا، مقبوضہ کشمیر میں لوگوں نے ہندو توا کی باوردی اور سادہ لباس میں ملبوس فورسز کی طرف سے کشمیری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی تذلیل اور آبروریزی سے تحفظ کیلئے ہر گلی کوچے میں مقامی کمیٹیاں بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے، کشمیر میڈیاسرو س کے مطابق کمیٹیاں بنانے کا کام بھارتیہ جنتا پارٹی اور دیگر ہندو فرقہ پرست قوتوں کے ان توہین آمیزبیانات کے بعد شروع کیا گیا جن میں کہا گیا تھا کہ بھارتی ہندو مقبوضہ کشمیر جا کر آباد ہوں اور وہاں کشمیری خواتین کے ساتھ شادیاں کریں، قابض مقبوضہ علاقے میں ٹیلی ویژن، انٹر نیٹ اور مواصلات کے دیگر تمام ذرائع بھی مسلسل معطل ہیں جس کی وجہ سے مقبوضہ علاقے کا بیرونی دنیا سے رابطہ بالکل ختم ہے۔ ادھر سیّد علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق سمیت تمام حریت رہنما گھروں اور جیلوں میںنظر بند ہیں۔ سینکڑوں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں سمیت چھ ہزار سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں بھارت نواز رہنما فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی، غلام احمد میر، انجینئر عبدالرشیداور شاہ فیصل بھی شامل ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی جیلوں اور تھانوں میں اب مزید لوگوں کو رکھنے کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے لہٰذاحراست میں لیے گئے بیسیوں افراد کو عارضی حراستی مرکزوں میں رکھا گیا ہے۔ مسلسل محاصرے کے باعث مقبوضہ وادی کو اس وقت بچوں کی غذا اور زندگی بچانے والی ادویات سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی سخت قلت کا سامناہے۔یہ ایک سرسری سا جائزہ جو مختلف ذرائع سے حاصل ہو پا یا ہے ، یہ کہہ دیناآسا ن ہے کہ نوجو ان لڑکو ں کو رات گئے گھر میں گھس کر گرفتار کرلیا جا تا ہے لیکن بھارتی قابض فوج بعداز گرفتاری کیا کرتی ہے کیسی کیسی اذیت دیتی ہے دین کے حوالے جو جسما نی اور روحانی تشدد کیا جا تا ہے ان کو الفاظ میں بیا ن کر نا ممکن ہی نہیں ہے ۔اس کے باوجو د تما م دنیا خامو ش تما شائی بنی بیٹھی ہے ، حقوق انسانی کا علمبرداری کا دعوے دار امر یکا بھارت کی جا رحیت کا معاون ثابت ہو رہا ہے ،تاہم یہ یقینی صورت حال ہے کہ اس حقیقت سے کوئی بھی منہ نہیں مو ڑ سکتا کہ پاکستان کو مشرقی پا کستان جیسے سنگین حالا ت سے بھی سنگین ترین حالا ت و بدترین صورت کا سامنا ہے ، مشرقی پاکستان میں بھارت نے تو کھلی مداخلت کی تھی اور اپنی دہشت گرد تنظیم کے ذریعے مشرقی پا کستان میں شدائد اور جبر و قتل وغارت گری کا بازار گرم کیا تھامگر مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارت اپنی دہشت گر د فوج کے ذریعے بربریت کا مظاہر ہ کر رہا ہے ، ابھی تک کشمیری عوام کو اس ظلم وشدائد سے بچانے کے لیے کوئی اٹھ کھڑا نہیںہو ا ہے مگر حالا ت بتارہے ہیں کہ کشمیر کے عوام کی جو اب مکمل طور پر ایک حریت پسند قوم بن گئی ہے ان کے حوصلے بلند تر ہو تے جارہے ہیں اور اب بات بھارت کے حکمر انو ں کے بس کی نہیں رہی ہے ، بھارت نے اپنے لیے مقبوضہ کشمیر کو روس اورا مریکا کی طرح افغانستان بنا ڈالا ہے۔ اس وقت کشمیر کا ایک اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ بھارت نے کشمیر بندوق کی نوک پر غصب کیا ہے اوروہا ں جو ات مچارکھی ہے اس کا پوری دنیا کو احساس ہی نہیں انسانی حقوق کے نا تے عملی طور پر کچھ کر نا چاہیے ، کشمیر کی عوام نے پاکستان کو پکا ر تھا ، اب تک پاکستان نے اس آواز پر کیا کیا ، ظاہر اًاقوام متحدہ کی سلا متی کو نسل کا مشاورتی اجلا س بلوایا ہے جس سے یہ مسئلہ عالمی سطح پر ایک مرتبہ پھر اجا گر تو ہوا مگر بے وقعت اجلا س کی کوئی قدر نہیں ہو تی ماسوائے آمد، نشست و رفت کے کیا حاصل ہو ا جہا ں تک پی ٹی آئی کی حکومت کا تعلق ہے ان کے بیا نا ت سے صرف یہ ہی حاصل ہو رہا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے حملہ آور ہو نے ، جنگ کر نے کی توقع لیے بیٹھے ہیں اور ان کو منہ تو ڑ جواب دینے کا عوام کو حوصلہ دے رہے ہیں لیکن مقبوضہ علا قے میں بھارتی فوج جو غیر قانونی طور پر گھس بیٹھی ہے جس ظلم و بربریت کا ارتکا ب کر رہی ہے اس کے لیے اورمقبوضہ کشمیر کے عوام کو نجا ت دلا نے کے لیے عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانے اور بھارت پر دباؤ کے لیے بھی تگ ودو کی جوضرورت ہے اس پر بھی توجہ دینا اسی طرح ضروری ہے۔ پاکستان کے عوام تو دعا گو ہیں کہ

جو لو گ تیر ی بقا کے لیے ہیں سرگرداں

میر ی دعا ہے انہیں مری زندگی مل جائے

متعلقہ خبریں