Daily Mashriq

تبدیلی کا پہلاسال

تبدیلی کا پہلاسال

تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا سال مکمل ہوا، حکومت نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے پہلے سال کی کارکردگی رپورٹ پیش کی جس کے مطابق تحریک انصاف کے پہلے سال کو کامیاب ریاست کی بنیاد رکھنے سے تعبیر کیا گیا اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگلا سال ریاست کی مضبوطی کا ہوگا تاہم اس تناظر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریاست مدینہ کے قیام کا وعدہ کہاں تک پورا ہوا، یا اس کے لیے اب تک کیا کوشش کی گئی ہے؟اس ایک سال کے عرصہ میں ملک کی صورتحال یہ ہے کہ کاروبار بند ہورہے ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، میڈیا انڈسٹری سمیت بہت سی صنعتیں بند اور محدود ہوچکی ہیں لیکن حکومت کے حامی کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم بہت مقبول ہیں اور انہوں نے امریکہ میں جلسہ عام کیا۔ کیا امریکہ میں بڑا جلسہ کرنا مقبولیت کا پیمانہ ہے؟ اسی طرح زراعت، آب پاشی، صحت، تعلیم، تجارت جیسے شعبوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ پی آئی اے، پی ٹی سی ایل، واپڈا، اسٹیل ملز جیسے ادارے بھی نظرانداز نہیں کیے جاسکتے۔ جس طرح حکومت نے اپنے پہلے سال کی کارکردگی بتائی ہے اسی طرح اپوزیشن کو بھی ایک جائزہ رپورٹ جاری کرنی چاہیے، لیکن اپوزیشن کی کسی جماعت نے اس حوالے سے کوئی تیاری نہیں کی۔ تحریک انصاف کے دو بڑے دعوے تھے،ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر۔ ان دونوں دعوؤں کو پورا کرنے کے لیے ایک سال میں ایک اینٹ بھی نہیں رکھی جاسکی۔ نوجوانوں کو آسان شرائط پر قرضے دینے کا دعویٰ کیا گیا تھا، لیکن ابھی تک نوجوان سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ وزیراعظم نے ملک کے اندر اور باہر ہر جگہ احتساب کی بات کی، لیکن ایک سال مکمل ہوچکا ہے، سوائے بغلیں بجانے کے کوئی کام نہیں ہوا۔ ملک میں کاروباری سرگرمیوں کی صورتحال یہ ہے کہ جون 2019ء کے دوران استعمال شدہ کپڑوں کی درآمدات میں 9.86 فیصد کمی ہوئی ہے۔ یہ کپڑے ملک کے غریب لوگ اپنے استعمال میں لاتے ہیں۔ ان کی درآمد میں کمی کا مطلب یہ ہوا کہ ان کپڑوں کی طلب کم ہوگئی ہے۔حکمرانوں کا یہ المیہ بن چکا ہے کہ اپنی سیٹ بنائو اور پھر بچائو۔ ان کے مقاصد میں عام آدمی کہاں ہے؟ یہ زراعت کو ریڑھ کی ہڈی کا نام دے کر اسی کو توڑتے ہیں، یہ ڈیموں کے نام پر سیاست کرتے ہیں۔ پانی کی قلت کی دو بنیادی وجوہات ہیں، جن کی وجہ سے آج ہمارے ملک میں پانی جیسی نعمت سے لوگ محروم ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ایک ہے قدرتی تبدیلیاں، اور دوسری ہے ہماری کوتاہیاں۔ پانی کے مناسب استعمال کے بارے میں لوگوں کو رہنمائی دینا ضروری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان میں اسی طرح پانی کا ضیاع ہوتا رہا تو 2025ء تک پاکستان کوپانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔پاکستان میں تبدیلی نعروں کی گونج میں دب کر رہ گئی ہے اور یقین ہوچلا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور ان کی ٹیم ایک صفحے پر نہیں ہیں،اگر ہوتے تو تبدیلی کا سونامی تباہی کے بجائے زرخیزی لارہا ہوتا۔ دونوں میں سوچ کا فرق ہے یا دونوں ہی ایک صفحے پر بوجوہ اکٹھا نہیں ہو پارہے؟ انہیں علم ہے کہ ملک میں مہنگائی کا سونامی سب کچھ بہا کر لے جارہا ہے، اور اس مہنگائی کے پیچھے آئل انڈسٹری کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ آئل انڈسٹری ملک کی واحد قوت ہے جس کی مدد سے مہنگائی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ شاید اسی زعم میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے سمندر کی پانچ ہزار میٹر گہرائی کو ہی اپنی کامل توجہ کا مرکز بنا لیا تھا اور ساری خوشخبریاں اسی ایک کوزے میں بند کرلی تھیں۔ پاکستان میں تیل کی قیمتوں کو برقرار رکھنے اور انہیں مستقل کرنے کے لیے ایک جامع پالیسی کی ضرورت ہے، جب تک آئل اسٹوریج کا نظام درست نہیں ہوگا، آئل انڈسٹری سے ملک میں خوشحالی بھی نہیں لائی جاسکتی۔ ملک میں تیل کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش صرف سات سے دس دن تک ہے، جبکہ عالمی معیارات کے مطابق اس کو اکیس دنوں تک ہونا چاہیے۔ حکومت نجی سطح پر ایسے اداروں کی حوصلہ افزائی نہیں کررہی جو آئل ذخیرہ کرنے کے لیے گنجائش بڑھا سکیں۔ چند ٹرمینلز میں آئل اسٹورکرنا ناکافی ہے۔ آئل بردار جہازوں کو زیادہ دیر تک ساحلوں پر لنگرانداز کرکے ان کا کرایہ بھرنا پسند کرتے ہیں لیکن آئل ٹرمینلز تعمیر نہیں کیے جارہے۔ڈالر کی بلند پروازی سے غیر ملکی قرضوں میں 14ارب کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ایک دن میں ڈالر کی قیمت میں6روپے کا اضافہ لمحہ فکریہ سے کم نہیں ہے۔ دکان داروں، تاجروں اور صنعت کاروں میں پائی جانے والی بے چینی اور خوف وہراس میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے جو معیشت کی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ ہر طرف سے ایک ہی سوال کیا جارہا ہے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ ملک کس طرف جارہا ہے؟ مایوسیاں بڑھتی جارہی ہیں، چہروں پر تشویش کے سائے گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ کیا ملک کا غریب آدمی اتنے ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کرسکتا ہے؟ کبھی نہیں۔ جب وزیراعظم شوکت عزیز تھے تو ڈالر66 روپے کا تھا اور کئی برس اسی جگہ پر کھڑا رہا۔ حکومت کو پتا ہی نہیں کہ کیا ہورہا ہے۔ نئے گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق ڈالرکو حکمت عملی کے تحت کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ کب تک کھلا رہے گا اور کہاں جاکر ٹھہرے گا، اس بارے میں کوئی نوید نہیں سنائی گئی،معاشی ماہرین کی رائے میں حکومت جو اقدامات اٹھا رہی ہے وہ خود کشی کے برابر ہیں۔یہ ہے تبدیلی کے پہلے سال کی کارکردگی اوراصل حقائق جسے حکومت اپنی کامیابی گردان رہی ہے۔

متعلقہ خبریں