Daily Mashriq

ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

ستر برسوں سے وطن عزیز کے قیام کے ساتھ ہی اس کے خلاف غیروں اور بعض اپنوں کی جو سازشیں ہوتی رہی ہیں وہ اہل بصیرت سے پوشیدہ نہیں۔اپنوں میں سے بعض نے اقتدار ومفادات کے حصول میں اندھا ہو کر سازش کی اور بعض بے وقوفی،نالائقی اور بزدلی کے سبب سازش کا حصہ بن گئے۔یہی حال عالم اسلام کے ساتھ گزشتہ چودہ سو برسوں سے جاری ہے اور اس میں متذکرہ بالا اصول وروایت چلی آرہی ہے،اگرچہ ہمارے ہاں نابغائوں(انٹلیکچولز) کا ایک گروہ ایسا بھی موجود رہا ہے جو سازش کی تھیوری پر یقین نہیں رکھتا اور عالم اسلام کے زوال یا اس وقت پاکستان کے مسائل ومشکلات کا دوش سارے کا سارا ہمارے نالائق لوگوں پر ڈال رہے ہیں۔لیکن سازشی تھیوری کی تصدیق کیلئے پروفیسر ڈاکٹر شان الاحق حقیکی کتاب'ہوئے تم دوست جس کے''کے مطالعے کی درخواست کروں گا۔

بہرحال سازشوں اور نالائقیوں نے مل کر عالم اسلام اور پاکستان کا جو حلیہ بنا کر رکھا ہے وہ بھی اہل دانش وبصیرت سے کسی طور پر مخفی نہیں۔بنی امیہ،بنی عباس کے درمیان خون ریز لڑائیاں ہماری تاریخ کے سیاہ ابواب ہیں۔اندلس میں عربوں نے جس طرح آپس میں لڑ لڑ کر شاندار وتاریخی مسلم حکمرانی کا تیا پانچہ کرلیا تھا اور غرناطہ کے عبداللہ(باب ڈول) کو جس طرح وہاں سے روتے ہوئے نکلنا پڑا تھا وہ بھی ہماری تاریخ کے حادثات ناجعأت میں شامل ہے۔عظیم عثمانی سلطنت یا خلافت ،ایران کے صفوی بادشاہوں اور اندرونی سازشوں اور لارنس آف عربیا کی چالوں سے اتاترک کے ہاتھوں میں سمٹ کر برباد ہوئی وہ بھی کل کی بات ہے۔عظیم مملکت خداد پاکستان جس مضبوط اور ولولہ انگیز نظریے کے زور پر وجود میں آیا اور پھر چوبیس برس جس طرح ہندوستانی افواج جو مُکتی باہنی کی شکل میں آئی، کے ہاتھوں دولخت ہوا اور اسلامی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک بہادر فوج کے چالیس ہزار سپوت اور پچاس ہزار سویلین بھارت کی قید میں پہنچ گئے۔لیکن ہم پاکستانیوں بالخصوص ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے عبرت نہیں پکڑی اور اب بھی جو صورتحال ہے اور حکمران جماعت واپوزیشن کے درمیان گزشتہ ایک سال سے جو مقابلہ جاری ہے اُس نے پوری قوم کو کشمکش میں مبتلا کر رکھا ہے۔بھارت نے1971ء کے بعد جو حوصلہ پکڑا اُس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ وہ افغانستان میں ہمارے سر پر بیٹھ کر افغانستان کے اندر اوروہاں پر قائم کردہ اپنے مراکز سے بلوچستان اور پختونخوا میں مسلسل دہشت گردی کی وارداتیں کررہا ہے اور دوسری طرف نریندر مودی ہٹلر کے نازی ازم کے سبق از بر کر کے اپنے پیروکاروں راشٹریہ سیوک سوئم سنگھ اور بجرنگ دلیوں کو کشمیریوں پر چڑھ دوڑانے کے جو منصوبے بنا چکا ہے اس کا پہلا حصہ اس وقت کشمیرمیں دو ہفتے کے مسلسل کرفیو اور ہر قسم کی ناکہ بندی کی صورت میں روبعمل ہے۔اس وقت کشمیرمیں جابر، ظلم اور غاصب بھارتی افواج کے ہاتھوں ایک کروڑ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم وبربریت اور سفاکیت جاری ہے اس پر عالم اسلام کا خاموش تماشائی بنے رہنا اللہ تعالیٰ کے قہر وعذاب کو دعوت دینے کا اندیشہ پیدا کرتا ہے۔ہم اپنے اپنے گھروں دکانوں دفاتر اور دیگر مقامات پر آرام وآسائش سے بیٹھے ہوئے ٹی وی چینلز پر یا سوشل میڈیا کے ذریعے جب ان مظالم کی ایک جھلک دیکھتے ہیں تو دیکھنے کی تاب نہ رکھتے ہوئے آنکھیں بند کر کے پھیر لیتے ہیں اور چند ثانیوں کیلئے اُف اُف اور روئے وغیرہ کر لیتے ہیں اور پھر اپنے معمولات میں مشغول ہو کر اُنہیں بھول جاتے ہیں۔حالانکہ اس وقت پاکستان میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ضروری امور نمٹانے کے ساتھ ساتھ ہم کشمیر کشمیر کشمیر کا ورد ذکر اپنے وظائف میں شامل کرلیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگنے کے علاوہ استغفار کثرت سے کریں اور آپس میں اخوت اور اتحاد ویکجہتی کی طرف قدم بڑھائیں۔ یاد رکھیں کہ اس وقت وطن عزیز کے خلاف عالمی سطح پر زبردست کُھسرپُھسر جاری ہے۔ سعودی عرب سے بڑی اُمیدیں رہی ہیں لیکن اس وقت وہ اپنی تجارتی سر گرمیوں اور نیا ''سعودی عرب''بنانے کے چکر میں بھارت کا ''عاشق تیرا،رسوا تیرا، شاعر تیرا''بنا ہوا ہے۔عرب امارات نے تو حد کردی کہ مودی کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازا ۔۔۔غیر مسلم دنیا میں چین کی دوستی پر ناز تھا ،لیکن آج کل وہ اگرچہ اپنی مجبوریوں کے تحت تعاون اور بچائو تو کر رہا ہے لیکن ناراض ضرور دکھائی دے رہا ہے۔روس قریب آچکا ہے لیکن وہ ہم پر اعتبار اب بھی پوری طرح نہیں کر رہا۔ اس وقت پاکستان کیلئے دو باتیں ہیں ایک تو ملکی یکجہتی کو بڑھاوا دینا اور دوسرا اپنی خارجہ پالیسی کو نظر ثانی کے مراحل سے گزارنا خارجہ پالیسی میں چین روس اور ایران کو خصوصی مقام دینا ہوگا۔ ایران کے ساتھ اگر بعض معاملات مذاکرات کے ذریعے ذرا صاف کئے جائیں تو دوستی اور وفاداری میں ایران کی مثال نہیں یہی حال روس کا ہے اس وقت عربوں کو ذرا سائڈ لائن پہ رکھیں اور اُن کو آپس میں لڑنے دیں تاکہ ابابیل (اگرچہ یہ غلط العام ہے ،ابابیل کوئی پرندہ نہیں) جھنڈ کے جھنڈ اُن پر آجائیںپاکستان کی سلامتی وحفاظت اور کشمیریوں کی آزادی کیلئے ہمیں خود بدلنا ہوگا اور لڑنا ہوگا پاک افواج ایمان وتقویٰ جہاد فی سبیل اللہ کی حامل افواج ہیں اور پوری قوم لا الہ الااللہ کا ورد کرتے ہوئے ان کی پشت پر ہوگی۔ بھارتی سفاکیت جتنی بڑھے اُتنی ہی ان کے خلاف طاقتیں وجود میں آئینگی۔کیونکہ یہ فطرت کا اصول ہے۔

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

متعلقہ خبریں