Daily Mashriq

انسانیت کہاں جائے؟

انسانیت کہاں جائے؟

لبرل ازم اور سیکولر ازم رواداری، وسیع النظری، کشادہ دلی اور برداشت کی علامت ظاہر کیے جاتے ہیں۔ قوم، زبان، رنگ، نسل اور مذہب کے بجائے نوع انسانی کو انسا نیت کے تناظر میں دیکھنے کا دعویٰ۔ یہ فرد کی تکریم اور اصلاح پسندی کے ساتھ ساتھ انفرادی، سیاسی اور ملکیتی حقوق کی اہمیت کا نام بھی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور جمہوریت لبرل ازم کا فخر ہیں۔ مذہب کا دشمن یہ نظریہ عصر جدید میں عقیدے کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ لبرل ازم نے جان لاک اور آدم اسمتھ جیسے مفکرین سے استفادہ کیا۔ آزاد تجارت، سماجی تحفظ اور سب کی ترقی لبرل ازم کے وعدے بھی تھے اور دعوے بھی۔ لبرل ازم سے وابستہ اکثر باتیں بہت خوش کن تھیں۔ لیکن کمیونزم کی طرح آج یہ نظریہ بھی خود اپنے مسکن میں ناکامی اور نامرادی کی جانب تیز تیز قدم رواں ہے۔ ایک فریب جو رو بہ زوال ہے۔ آزاد منڈی اور آزاد معاشرے کے تصور سے لبرلز بتدریج فاصلہ اختیار کرتے جارہے ہیں۔ لبرل ازم کے دعووں کا تقاضا تھا کہ تارکین وطن کا خوش دلی سے استقبال کیا جاتا لیکن اس مسئلے نے یورپ میں ایسے جذبات، خیالات اور حکومتوں کی تشکیل کی ہے جو لبرل ازم کی ضد ہیں۔ آئے دن ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یورپ رنگ، نسل اور طبقاتی نفرتوںکی لپیٹ میں ہے۔ حکومتیں عوام کو دی جانے والی سہولتوں میں کمی کرتی جارہی ہیں۔ فلاحی ریاست کا ادارہ زوال پزیر ہے۔ دنیا کے167ممالک میں سے نصف غیر جمہوری بنتے جارہے ہیں۔ امریکا میں ڈونالڈ ٹرمپ ایک ایسے صدر ہیں جو جمہوریت پر آمریت کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج کے لبرل رواداری اور وسیع النظری کے بجائے نفرت اور تنگ دلی کی علامت ہیں۔ لبرل ازم کے ایک مفکر کا کہنا ہے ''لبرل ازم کے منکر معاشرے کے لیے بیماری کی حیثیت رکھتے ہیں اور انہیں اس طرح کچل دینا چا ہیے جس طرح مضر صحت کیڑے مکوڑوں کو کچلا جاتا ہے''۔ لبرل ازم نے ایک طرف دنیا کی ایک بہت بڑی آبادی سے ان کا خدا، رسول اور وحی پر مبنی تعلیمات چھین لی ہیں تو دوسری طرف انسانی تعلقات میں نفرتوں، دشمنیوں، عدم برداشت، انتقام اور قتل وغارت کو اس طرح پروان چڑھایا ہے کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی پرامن بقائے باہمی سے دور اور بہت دور چلی گئی ہے۔ ایشیا میں بھارت اس کی بدترین مثال ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے باب میں ہندوئوں کی تنگ نظری، بے رحمی اور قساوت کے ننگے مظاہرے آج دنیا دیکھ رہی ہے۔ ہندوستانی سیکولرازم مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا لیکن پھر بھی ایک سہار تھا۔ مودی نے اس باریک سے پردے کو بھی پھاڑ کر پھینک دیا ہے۔ مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے فسطائیت مضبوط ہوئی ہے۔ بھارت مکمل طور پر ایک ہندو راشٹر بن چکا ہے۔ ساری مصیبتوں نے مسلمانوں کا گھر دیکھ لیا ہے۔ پہلے ایک سوامی ادتیا ناتھ تھا اب بیش تر ہندو سوامی ادتیا ناتھ کا روپ دھار چکے ہیں۔ مودی بڑے منظم پیمانے سے مسلمانوں کو تنہا کرکے مار رہا ہے۔ لوک سبھا میں مسلمانوں کی کوئی آواز نہیں۔ وشوا ہندو پریشد کے چمپت رائے کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں اوریجنل مسلمان بہت کم ہیں۔ اکثریت ان کی ہے جن کے آبا واجداد ہندو تھے جنھیں جبراً مسلمان بنالیا گیا۔ وشوا ہندو پریشد اب تک نصف کروڑ سے زائد مسلمانوں کو ہندو بناچکی ہے۔ بی جے پی کے سبرا مینم سوامی کا کہنا ہے کہ مندروں کی طرح مساجد مقدس جگہیں نہیں ہیں۔ انہیں مسمار کیا جاسکتا ہے۔ مودی نے ہر ہندو کے دل میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور انتقام کی آگ اس طرح کوٹ کوٹ کر بھردی ہے کہ ہر ہندو مسلمانوں کو مارنے اور قتل کرنے کے درپے ہے۔ ہریانہ میں صورتحال یہ ہے کہ بڑے گوشت تو درکنار مرغی کے گوشت کی دکانیں بھی شاز ہی کھلی ملتی ہیں۔ لوگ جہاد والے گھروں میں گھس کر مسلمان لڑکے لڑکیوں کو سڑ کوں پر گھسیٹ کر بے حرمت کررہے ہیں۔ ہندوستان میں نہ مسلمانوں کی زندگی ان کے ہاتھ میں ہے اور نہ کھانا پینا۔ مسلمانوں کی آبادی کے بارے میں آئے دن اخبارات میں اس طرح کی رپورٹیں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ اگر مسلمانوں کی آبادی اسی طرح بڑھتی رہی تو فلاں سن تک ہندوستان میں مسلمان اکثریت اور ہندو اقلیت میں ہوجائیں گے۔ مسلمانوں سے خریدوفروخت نہ کرنے کی مہم بھی زوروں پر ہے۔ آٹھ دس ہندو اکٹھے ہوتے ہیں جہاں کسی مسلمان کو تنہا دیکھا مارنا پیٹنا شروع کردیتے ہیں۔ مودی کے ہندوستان میں مسلمانوں کی جو حالت ہے اتنی ابتر کبھی نہیں تھی۔ مسلمان ہندو اکثریت کے ہاتھوں قتل ہورہا ہے، ذلت میں مبتلا کیا جارہا ہے، سور اور گائے کا پیشاب پینے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ سسک رہا ہے۔ آئے دن کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا ہدف ہے۔ مسلمان زیادہ لیکن دیگر اقلیتوں کی حالت بھی اچھی نہیں ہے۔ الغرض انسانیت کی جائے پناہ نہ کمیونزم میں ہے، نہ سرمایہ داریت میں، نہ سیکولرازم میں نہ لبرل ازم میں اور نہ کسی اور نظام میں۔ ہر نظام اپنی جنم بھومی اور مسکن میں پناہ کی تلاش میں ہے۔ پناہ صرف اسلام کے پاس ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے بھی پناہ کا صرف ایک ہی راستہ ہے اسلامی نظام کی بحالی کا راستہ۔ خلافت راشدہ کا راستہ۔

متعلقہ خبریں