Daily Mashriq

مشرق

مشرق

ایک کتا باغ میں آیا ۔ جانے کب کا بھوکا تھا ۔ باغ کی رکھوالی ایک غلام کے سپرد تھی تو وہ کالا بھجنگ حبشی لیکن اس کا دل آئینے کی طرح شفاف تھا ایما ن نے اس کے جذبات اور بھی صیقل کر دیئے تھے اس نے دیکھا کتا بھوکا ہے اور بہت بھوکا تو خود بھی بے چین ہو گیا ۔ حضرت عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں کہ میں پاس کھڑا اسے دیکھ رہا تھا اتنے میں اس کی روٹی آئی کتا بو سونگھ کر غلام کے پاس آکھڑا ہوا ۔ غلام نے کام چھوڑ ا ایک روٹی کتے کے آگے ڈال دی کتا دیکھتے ہی دیکھتے چٹ کر گیا ۔ اس کی بھوک مٹی نہ تھی اس لئے امید بھری نظروں سے غلام کی طرف دیکھتا وہیں کھڑا رہا ۔ غلام سمجھ گیا کہ کیا بات ہے اس نے ایک اور روٹی کتے کے آگے ڈال دی ۔ عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں مجھے بڑا تعجب ہوا کہ اس نے اپنے لئے کچھ بھی نہ رکھا ۔ میں آہستہ سے اس کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس رو زکتنی روٹیاں آتی ہیں ؟ جوب ملا تین !میں نے پوچھا یہ بتائوکہ تم نے تینوں روٹیاں کیوں کتے کو دے دیں ؟ غلام نے کہا جناب ! یہاں کوئی آبادی تو ہے نہیں یہ کتا جانے کہاں سے آیا ہے ۔ مجھے اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ وہ بھوکا رہے اورمیرے پاس سے مایوس جائے تینوں روٹیاں کھا کر اب وہ بحال ہوا ہے آپ دیکھتے نہیں اس کی حالت بدل گئی ہے ! حضرت عبداللہ بن جعفر بڑے سخی اور فیاض بزرگ تھے ۔ غلام کا اس درجہ ایثار ان کے دل میں گھر کر گیا ۔ فیاضی اصل میں دولت سے نہیں ہوتی ہے !انہوںنے سوچا یہ غلام دل کا غنی ہے یہ سوچتے سوچتے وہ باغ سے نکلے اور بستی میں پہنچ گئے ۔ لوگوں سے پوچھا کہ فلاں باغ کس کا ہے ؟ کسی نے مالک کا نام اور پتہ بتایا حضرت عبداللہ فوراً اس شخص کے پاس گئے باغ کا سودا کیا ، غلام کو بھی خرید لیا اور پھر سیدھے باغ میں پہنچے غلام وہاں موجود تھا اس سے فرمایا کہ یہ باغ میں نے خرید لیا ، غلام نے کہا آپ کو مبارک ہو ! فرمایا میں نے تجھے بھی خرید لیا ہے ۔ جواب ملا بڑی خوشی کی بات ہے آپ کی خدمت بھی دل و جان سے کروں گا ۔ انہوں نے کہامیں تجھے آزاد کرتا ہوں جواب ملا اللہ کا شکر ہے اور آپ کی عنایت! حضرت عبداللہ نے کہا تو نے میری پوری تو سنی ہی نہیں ! حبشی غلام نے عرض کیا فرمایئے میرے آقا میںگو ش بر آواز ہوں ! حضرت عبداللہ نے فرمایا عزیز من ! یہ باغ میں نے تجھے بخش دیا ۔'' سورة النفال میں ارشاد ربانی ہے کہ اللہ کی راہ میں ایک تنکا بھی دو گے ۔ تو اللہ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور پورا پورا بدلہ دے گا اور اس بات میں ذرا کمی نہ ہوگی'' ۔ مگر غلام بھی اللہ والا تھا ۔ اس نے عرض کیا کہ حضور ! آپ کی عنایت کا شکریہ ادا کرنا میرا اخلاقی فرض ہے یہ باغ جو آپ نے مجھے دیا ہے میں آپکی خدمت میں واپس نذر کرتا ہوں اور آپ کی اجازت سے رخصت ہوتا ہوں ۔ حضرت عبداللہ نے پوچھا کیوں ؟ جواب ملا میرے عمل سے آپ کے دل میں میرے لئے بڑی عزت پیدا ہوگئی ہے ۔ یہ بات کہیں مجھ میں غرور نہ پیدا کر دے ۔ اب میرا یہاں رہنا مناسب نہیں آپ نے مجھے آزاد کیا ہے تو میں یہاں سے چلا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے ۔ فی امان اللہ ۔ ( روشنی)

متعلقہ خبریں