Daily Mashriq


انتخابی اصلاحات کمیٹی کی تجاویز

انتخابی اصلاحات کمیٹی کی تجاویز

انتخابی اصلاحات کمیٹی نے دوران انتخابات کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے انتخابی اخراجات کی حد 5کروڑ روپے مقرر کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اخراجات انتخابی شیڈول کے اعلان سے پولنگ کے روز تک کئے جاسکیں گے۔ انتخابی قانون 2017ء میں سیاسی جماعتوںکے حوالے سے شامل چیئرمین تجویز کیا گیا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے مقاصد اور سرگرمیوں کے حوالے سے باقاعدہ آئین تیار کرے گی۔ وفاقی ' صوبائی اور مقامی سطح پر تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا۔ وفاقی حکومت اگر کسی سیاسی جماعت کے بارے میں یہ ثبوت رکھتی ہو کہ وہ بیرونی امداد پر چلتی ہے یا پاکستان کی سا لمیت اور خود مختاری کے خلاف سر گرمیوں یا دہشت گردی میں ملوث ہے تو اس پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔ الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے سیاسی جماعتوں' انتخابی امیدواروں' میڈیا' پولنگ ایجنٹس' سیکورٹی پرسنل اور مبصرین کے لئے ایک ضابطہ اخلاق مرتب کرے گا۔ جہاں تک انتخابی اصلاحات کمیٹی کی تجاویز کا تعلق ہے ملکی سیاست میں غالباً پہلی بار سنجیدگی کے ساتھ انتخابی سیاست اور سیاسی جماعتوں کے لئے ایک ایسا مربوط لائحہ عمل تجویز کیاگیاہے اور اگر ان تجاویز پر خلوص نیت سے عمل درآمد پرجملہ سیاسی قیادت اتفاق رائے ظاہر کرے تو ملک کے اندر سیاسی جماعتوں کے مابین سیاسی چپقلش کے ساتھ ساتھ ان جماعتوں کے اندر بھی جمہوری کلچر کو فروغ مل سکتا ہے۔ بد قسمتی سے ہماری سیاسی جماعتوں میں ایک آدھ کو چھوڑ کر باقی کسی بھی پارٹی کے اندر سرے سے جمہوریت پر عمل ہی نہیں کیا جاتا اور جمہوری سیاسی جماعتوں سے زیادہ سیاسی کلب بن کر رہ گئی ہیں اور نامزدگیوں سے کام چلا کر سیاسی سر گرمیاں جاری رکھی جاتی ہیں۔ ان جماعتوں کے عام کارکن ان سیاسی خانوادوں کے ذاتی غلام بن کر رہ گئے ہیں بلکہ دیکھا جائے تو بعض جماعتوں کے انتہائی پڑھے لکھے رہنماء بھی سر جھکا کر ایسے مودبانہ کھڑے رہتے ہیں کہ شرم سی محسوس ہوتی ہے اس کی بنیادی وجہ ہی یہی ہے کہ یہ جماعتیں نام تو جمہوریت کا لیتی ہیں مگر خود جمہوری اقدار کے قرب تک نہیں پھٹکیں۔ بدیں وجہ اگر انتخابی اصلاحات کمیٹی نے سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابی اصلاحات کے حوالے سے تمام عہدوں اور مقامی' صوبائی کے ساتھ ساتھ وفاقی سطح پر انتخابات کو لازمی قرار دینے کی تجویز دی ہے تو اس سے ملک کے جسد سیاست میں جمہوری کلچر کے پروان چڑھنے کی امید روشن ہوگی۔ تاہم یہ سیاسی رہنما بھی اتنی کچی گولیاں نہیں کھیلے۔ یہ ان تجاویز کو پہلے تو قانون بننے ہی نہیں دیں گے اور اگر ایسا ہو بھی جائے تو یہ سیاسی رہنماء ان کا توڑ کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی چور راستہ تلاش کر ہی لیں گے۔ اس لئے ہماری تجویز ہے کہ جماعتوں کی سربراہی کے لئے دو یا تین ٹرم کے بعد کم ازکم دو ٹرم کا وقفہ لازمی قرار دیا جائے اسی طرح ملکی انتخابات کے لئے بھی پانچ سالہ مدت پر نظر ثانی کرتے ہوئے ہر چار سال بعد نئے انتخابات کرانے کی تجویز کے بارے میں سوچا جائے تو اس کے بھی ملکی سیاست پر مثبت اثرات مرتب ہونے کے امکانات خاصے روشن ہوسکتے ہیں کیونکہ دنیا کے کئی ممالک میں ہر چار سال بعد انتخابات عام سی بات ہے اور دوسرا یہ کہ خود ہمارے ہاں بھی ہارنے والی جماعتیں اتنی اتولی ہو جاتی ہیں کہ وہ ڈیڑھ دو سال بعد ہی حکومت کے خلاف میدان میں کود کر حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششیں شروع کردیتی ہیں۔ ان اقدامات سے محلاتی سازشیں جنم لیتی ہیں اور سیاسی افراتفری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگر چار سال بعد انتخابات کرائے جائیں گے تو دو ڈھائی سال تک حکومت کو عوام کی فلاح و بہبودکے کام کرنے میں آزادی ہوگی اور بعد کے ایک ڈیڑھ سال آنے والے انتخابات کی تیاریوں میں صرف ہوں گے۔ اس طرح سیاسی چپقلش کی بجائے ہر جماعت عوام کی صحیح خدمت کے لئے خلوص نیت سے کام کرنے پر مجبو ر ہوگی۔ انتخابی اخراجات کے لئے رقم کی حد مقرر کرنے کے بعد امیدواروں کے انفرادی اخراجات پر بھی یا تو پابندی لگائی جائے یا پھر کم سے کم اخراجات رکھ کر ان پر کڑی نظر رکھی جائے اور یہ جو امیدواروں کی جانب سے اپنے دوستوں رشتہ داروں کے نام پر اخراجات ظاہر کئے جاتے ہیں ان اخراجات کو بھی امیدواروں کے اخراجات کی مد میں شامل کیا جائے کیونکہ اس وقت الیکشن کمیشن کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا یہ آسان نسخہ ہے جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے امیدوار خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں جس کی وجہ سے انتخابات پیسے کا کھیل بن چکا ہے اور متوسط طبقے کے لوگ انتخابی سیاست میں حصہ لینے کی جرأت ہی نہیں کرسکتے۔ غیر ملکی ذرائع سے پیسہ وصول کرنے پاکستان کی سا لمیت کے خلاف کام کرنے یا دہشت گردی میں ملوث سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے کی تجویز کا خیر مقدم کیاجانا چاہئے اور ایسی کسی جماعت کے بارے میں یہ یقین کرنا بھی لازمی ہے کہ وہ کسی اور نام سے دوبارہ سیاسی سرگرمیاں شروع نہ کرسکے۔ امید ہے سیاسی جماعتیںان تجاویز کی مخالفت نہیں کریںگی اور ملک میں حقیقی جمہوریت کے فروغ میں اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوں گی۔

متعلقہ خبریں