Daily Mashriq


پاکستان کے پانی پر غاصبانہ قبضہ

پاکستان کے پانی پر غاصبانہ قبضہ

برطانوی نشر یاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے پاکستان کے خدشات کے باوجود مغربی دریائوں کا کے پانی زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں ۔ تین دریا سند ھ ، چناب اورجہلم مقبوضہ کشمیر میں سے گزر تے ہیں جبکہ ان کا زیادہ تر پانی سندھ طاس معاہدے کی روسے پاکستان کی ملکیت ہے ۔ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے پاکستان کو شدید خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے سندھ بیسن میں دو ہا ئیڈروپاور پراجیکٹ کی تعمیر پر انڈیا سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے ، پاکستان کا یہ کہنا ہے کہ یہ پریشان کن امر ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی رو سے تعین کردہ مقدار سے زیادہ پانی روک سکتا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جب سے مودی سرکار نے بھارت میں اقتدارسنبھالا ہے اس نے پاکستان دشمنی کے جذبات کو ابھارنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ، بھارتی سر زمین میں پٹاخہ بھی پھوٹتا ہے تو بھارتی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا آسمان سر پر اٹھا تے ہوئے بنا کسی ثبوت کے الزام پاکستان پر لگا نے میں ایک لمحہ ضائع نہیں کرتے ، حال ہی میں بھارتی پردھان منتری نریندر مودی نے دھمکی دی ہے کہ وہ سندھ ، چہلم اور چناب کے پانی کو روک کر پاکستان کو بوند بوند پانی سے محروم کردے گا ۔ کیونکہ بقول مودی کے اس پانی پر بھارتی کسانوں کا حق ہے ، حالانکہ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ ان دریائو ں کا پانی سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کا حق ہے جبکہ راوی ، ستلج اور بیاس کا پانی بھارت کی ملکیت قرار دیا جا چکا ہے اور وہ اپنے حصے کے دریائو ں کے پانی سے بھر پوراستفادہ کرتے ہوئے بھی پاکستان آنے والے دریائو ں کے پانی کو روکنے کی نہ صرف دھمکیاں دے رہاہے بلکہ سندھ بیسن پر دو ہائیڈروپاور پراجیکٹس تعمیر کر کے پانی ذخیرہ کرنے میں مصروف ہے اور اب وہ مزید پانی کو اپنے استعمال میں لانے کے لئے ان دریائوں کے پانی کا رخ تبدیل کرنے کے لئے نئی نہریں نکالنے کی کوشش کر رہا ہے جو سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی بلکہ آبی جارحیت کے سوا کچھ نہیں، پاکستان کو اپنے دریائوں سے محروم کرنے کے علاوہ وہ افغانستان میں بھی دریائے کابل پر ڈیم تعمیر کر کے صوبہ خیبر پختونخوا جبکہ قندھار کی جانب بلوچستان میں آنے والے پانی کو بھی بند باندھ کر پاکستان کو پانی کی جارحیت کا شکار کرنا چاہتا ہے ۔ جبکہ پاکستان میں متعلقہ وزارت اور ادارے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔ اس بارے میں عوام کے خدشات دور کرنے کے حوالے سے کوئی خبر سامنے نہیں آرہی ہے جو یقینا قابل تشویش امر ہے ۔

متعلقہ خبریں