Daily Mashriq


افغان حکومت اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے

افغان حکومت اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے

حزب اسلامی افغانستان کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر غیرت بھیر نے مشرق ٹیلی وژن کے پروگرام ''سولہ'' میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے دوران پاکستان نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ غیرت بھیر سے یہ سوال سابق افغان صدر حامد کرزئی کے بیانات کے تناظر میں کیا گیا تھا جو اکثر کہا کرتے تھے کہ افغان عمل میں شامل ہونے والے لوگوں کو پاکستان میں قتل' اغواء یا گرفتار کیا جاتا ہے۔ غیرت بھیر جو خود بھی امن مذاکرات میں مختلف مراحل میں شامل رہے ہیں ، نے کہا ہے کہ پاکستان نے مذاکرات نہ کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا بلکہ پاکستان نے ستمبر میں ہونے والے حزب اسلامی اور حکومت کے درمیان امن معاہدے کی حمایت کی ہے۔ پاکستان میں افغان سفارتی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ ''مذاکراتی عمل'' جو درحقیقت اسلام آباد میں شروع ہوا تھا' پاکستان نے کوئی مداخلت نہیں کی تھی۔ پاکستان سے افغانستان میں کافی گلے شکوے موجود ہیں اور اعتماد کی بحالی کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں تقریباً 36سال سے جاری لڑائی نے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان اور خطے کو متاثر کیا ہے۔ اگرچہ افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت طالبان سے مذاکرات کے لیے پاکستان سے درخواست نہیں کرتی' لیکن اس کے باوجود پاکستان کو طالبان کو امن عمل میں شامل کرنے کے لیے کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ پاکستان کی بنیادی ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل ہے کہ افغانستان میں تشدد کے خاتمے میں بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس کردار سے افغانستان کے ساتھ اعتماد کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے۔ اسلام آباد میں اس ہفتے ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ افغان سفیر ڈاکٹر عمر ذاخیلوال نے پاکستان کے پشتون سیاسی رہنماؤں سے مشوروں کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی ختم کرنا اور تعلقات کی بہتری میں ان سے مدد لینا ہے۔ ڈاکٹر ذاخیلوال نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر محمود خان اچکزئی ' سراج الحق' آفتاب شیر پاؤ' غلام احمد بلور' افراسیاب خٹک اور سینیٹر عثمان کاکڑ کو مدعوکیا تھا اور ان رہنماؤں سے ابتدائی مشورے لیے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لائے جا سکیں۔ کشیدگی کی وجہ سے حکومتی رابطوں میں کمی آئی ہے۔ بھارت کے شہر امرتسر میں صدر اشرف غنی کی تقریر اور 500ملین ڈالر کی پاکستان کی امداد بین الاقوامی کانفرنس میں مسترد کرنے سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اس سے پہلے افغانستان نے اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس کے بائیکاٹ کے بھارتی فیصلے کے فوراً بعد شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ جاری کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ افغانستان کے مسلسل الزامات کے بعد پاکستان نے شاید چپ کا روزہ توڑ دیا ہے اور الزامات کے جواب میں کہا گیا کہ افغانستان میں درجنوں مسلح گروپس سرگرم ہیں اور یہ کہ زیادہ شدت پسند رہنما افغانستان میں مارے گئے ہیں۔ اس سے پہلے پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے نرم اور الزامات در الزامات کی پالیسی سے گریز کیا تھا۔ لیکن شاید سرحد کے اُس پار سے مسلسل تلخ بیانات سے پاکستان نے اپنی صبر والی پالیسی تبدیل کی ہے۔ لیکن دونوں ممالک کے درمیان اس قسم کی پالیسی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں کیونکہ بداعتمادی کے بڑھنے سے سیکورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون کی کوششوں کو دھچکا لگتا ہے۔

افغان سفیر کی پشتون سیاسی رہنماؤں سے کشیدگی کم کرنے میں تعاون کی پالیسی درست ہے کیونکہ ان رہنماؤں کو افغانستان میں احترام سے دیکھا جاتا ہے اور پہلے بھی اس طرح کی کوششوں کی وجہ سے صدر اشرف غنی اور وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات اور اسلام آباد کا دورہ کر چکے ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ پشتون سیاسی رہنماؤں نے اس قسم کے مشورے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور جنوری میں آفتاب شیرپاؤ کے گھر میں دوسرا اجلاس ہوگا جس میں مولانا فضل الرحمان بھی شریک ہوں گے۔ حکومت پاکستان کو ان سیاسی رہنماؤں کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے تاکہ پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ ہو سکے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی کی پاکستان کا دورہ کرنے کی تجویز بھی خوش آئند ہے جس سے حکومتی سطح پر رابطے بحال ہونے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اچھی ہمسائیگی کو اپنی خارجہ پالیسی میں ترجیح دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم یہ مقصد اب تک پورا نہیں ہو سکا۔ لیکن ذمہ داری صرف پاکستان کی نہیں بلکہ افغان حکومت کو بھی اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا ان کے پاکستان سے متعلق فیصلے بھارت کی رضامندی سے مشروط ہوں گے یا آزاد۔ پاکستان میں اکثریت کو اب تک افغان حکومت کے اس فیصلے کی منطق سمجھ نہیں آ رہی کہ بھارت کی جانب سے سارک کانفرنس کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد کابل نے کیوں بھارتی فیصلے پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سفارتی عداوت کو ترجیح دی۔ افغانستان کو خطے کے ممالک اور بالخصوص پاکستان کے ساتھ قریب رہنے کی ضرورت ہے نہ کہ دوری اختیار کرنے کی۔ حالات خواہ کیسے بھی ہوں' پڑوسیوں نے ساتھ ہی رہنا ہے اور پڑوسی بھی ایسے جن کا مذہب اور ثقافت ایک ہی ہو۔

متعلقہ خبریں