Daily Mashriq


یہ اشارہ کس جانب ہے؟

یہ اشارہ کس جانب ہے؟

آصف علی زرداری کی واپسی کے حوالے سے کتنی ہی چہ میگوئیاں ہیں۔ کتنی باتیں' کتنے اشارے اور کیسے کیسے تجزئیے۔ کوئی کہتا ہے کہ آصف علی زرداری کی واپسی کا بالواسطہ اور بلا واسطہ تمام تر تعلق صرف نواز شریف کے مسائل کا شکار ہونے سے ہے۔ جب بھی میاں صاحب مسائل کاشکار ہوتے ہیں آصف علی زرداری ان کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔ اگر بات محض اتنی ہی ہو تو شاید یہ اتنی قابل اعتراض بات نہیں اور نہ ہی اس میں کوئی اچنبھے کی بات ہے کیونکہ دونوں ہی ایک دوسرے کے مفادات کی حفاظت کی قسم کھائے ہوئے ہیں۔ جس وقت آصف علی زرداری کو مدد کی ضرورت تھی اس وقت میاں صاحب ان کی مدد کو فوراً ہی پہنچتے رہے ہیں۔ جمہوریت جمہوریت کھیل کر ہی اس ملک کو اس کے عوام کو اور ان کے مستقبل کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔کبھی بھول کر بھی اس ملک کو فائدہ پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔ آصف علی زرداری تو کسی کام کا کریڈٹ بھی لینے کی کوشش نہ کرتے تھے کیونکہ ان کے دور حکومت میں ایسا کوئی کام ہی نہیں ہوا۔ بدعنوانی کی شرح میں اضافہ ہونے کے علاوہ کوئی قابل ذکر کارنامہ ایسا نہیں جس کا تمغہ ان کی حکومت کے سینے پر سجایا جاسکے۔ میاں نواز شریف کا تعلق چونکہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی سے ہے' سڑکیں بنانے کا شوق بھی ان کی پہچان ہے۔ سو سڑکیں تو مسلسل بن رہی ہیں' بنتی چلی جا رہی ہیں لیکن ان سڑکوں کا کیا جواز ہے اور اس جواز میں کتنا دم ہے۔ ایک ایسا ملک جس میں کئی سالوں سے ایک ٹرانسپورٹ پالیسی کو حتمی شکل نہیں دی جاسکی اس ملک میں یہ تعین کیسے کیا جاتا ہے کہ اور کتنی سڑکیں بننی چاہئیں اور ان کا حجم کیا ہو۔ کسی بھی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملک میں سڑکوں کے بنائے جانے کا تعین کرنے کے پیمانے بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہ پیمانے کیا کسی بھی سڑک کی فیزیبلٹی بناتے ہوئے مد نظر رکھے جاتے ہیں یا نہیں۔ یہ سوالات ایسے ہیں جن کے جوابات تلاش کرنے میں کئی زندگیاں صرف ہوسکتی ہیں اور پھر بھی ان کے جوابات ہمیں معلوم نہ ہوسکیں گے کیونکہ شاید ان کے جوابات ان حکمرانوں کو بھی معلوم نہیں جو ان سڑکوں کے بنائے جانے کے احکامات جاری کرتے ہیں۔ تکنیکی اور کاغذی تقاضے پورے کرنا تو ان سرکاری ا فسروں کا درد سر ہے جنہوں نے اپنی پسند کی سیٹوں سے ٹرانسفر نہ ہونے کی قسم کھا رکھی ہوتی ہے۔ ان میں نہ حمیت باقی رہتی ہے اور نہ ہی اپنی عزت نفس کا احساس۔ اس ملک سے محبت تو بہت دور کی بات ہے اس کی جانب تو کئی بار کوئی نگاہ بھی نہیں کرتا۔ بات چونکہ آصف علی زرداری کی وطن واپسی کے حوالے سے ہو رہی ہے' بلاول بھٹو کا نعرہ تو ہمارے ارد گرد ہی گونج رہا ہے کہ ا گلی باری پھر زرداری اس لئے شاید آصف علی زرداری کی واپسی کے حوالے سے مسلسل بات چیت ہو رہی ہے ورنہ سچ پوچھئے تو اپنے گزشتہ دور حکومت میں پیپلز پارٹی کا رویہ اپنے سیاسی کیرئیر کے حوالے سے تقریباً خود کش محسوس ہوتا تھا۔ یہ درست ہے کہ فی زمانہ پانامہ لیکس کا بہت شور ہے لیکن حکمرانوں کے خلاف کبھی جرم ثابت نہیں ہوا کرتے۔ سو اس کی امید بھی نہیں رکھنی چاہئے۔ پیپلز پارٹی کے سیاسی کیرئیر اور قدبت پر ابھی بھی ایسے دھبے ہیں کہ بلاول بھٹو جس قدر بھی اونچی آواز لگائیں اگلی باری تو کم از کم زرداری کی نہیں ہوسکتی۔ مسلم لیگ(ن) نے کئی اچھے کام بھی کئے ہیں سو اگلی باری بھی انہیں کی لگتی ہے۔

یہ درست ہے اور اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں کہ یہ لوگ میرٹ کی بے انتہا پامالی میں یقین رکھتے ہیں' خوشامد پسند ہیں اور کسی طور بھی کسی صاف گو آدمی کا ساتھ پسند نہیں کرتے۔ ہر وہ شخص جو ایک حد سے زیادہ سیاسی قدبڑھاتا محسوس ہو اس کے پائوں تلے سے زمین کھینچ لینا ان کا خاصا ہے لیکن یہ بھی طے ہے کہ بطور معاشرہ ہم انصاف پسند معاشرہ نہیں۔ ہم خود بھی میرٹ پامال کرنے والے اس پر خوش ہونے والے لوگ ہیں اور جس معاشرے میں انصاف نہیں ہوتا ان میں تباہی کالے دھوئیں کی طرح زمین پر پھیلتی چلی جاتی ہے۔ اس دھوئیں میں ہرایک لہلہاتی فصل گل سڑجاتی ہے۔

ہر زندہ شے پر مردنی طاری ہو جاتی ہے۔ ہمارے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ ہم خود اپنے آپ کو زہر دے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ٹی وی پروگراموں میں بیٹھ کر اپنے آپ کو ملک سے وفا نبھاتے ہوئے سمجھنے والے صحافی یہ کہہ سکتے ہیں کہ چیئر مین پی ٹی آئی نے ایک نئی روایت کی بنیاد ڈالی ہے کہ وہاں میرٹ پر تقرریاں ہوتی ہیں لیکن یہ وہی لوگ ہیں جو حکومت سے ملنے والی مراعات سے بھی بھرپور مستفیدہوتے ہیں اور اگر کہیں سے کوئی کام کروانا ہو تو انہی وزراء کے چہروںمیں نظر آتے ہیں۔ ایک خوفزدہ سی سوچ اس سارے منظر میں ایک اور ہی جانب دیکھ رہی ہے۔ جناب آصف علی زرداری ایک عرصے سے پاکستان واپس نہیں آئے تھے۔ راحیل شریف کے جانے کے بعد یہ واپسی کسی طوفان کا پیش خیمہ تو نہیں ۔ بس یہ خیال مسلسل دل کو دہلا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں