Daily Mashriq


تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

گوادار کے طلبہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ایسا سوال کیا جس نے ایک پرانی پاکستانی فلم سلمیٰ کی یاد دلا دی ہے ، فلم سلمیٰ جو ایک بھارتی فلم شاردا کی نقل تھی ، اور دونوں فلموں میں منشی کا کردار اے شاہ شکار پوری نے ادا کیا تھا ۔ منشی جی کی ڈیوٹی اس کی مالکن ایک سادہ لوح مگر ان پڑھ کردار (فلمسٹار علائو الدین ) کو پڑھانے پر لگا دیتی ہے ۔ مگر جب منشی جی اسے پڑھانے لگتے ہیں ، الف ، بے ، پے تو علائو الدین اسے کہتا ہے یہ تو مجھے آتا ہے ، یعنی الف سے ی تک مجھے آتا ہے ، الف سے پہلے اور ی کے بعد جو کچھ ہو پڑھائو ، منشی جی بے چارے حیران و پریشان ہو کر اسے دیکھتے ہیں ، مالکن اس سے پوچھتی ہے کہ اپنے شاگرد کو کتنا سبق پڑھا دیا ہے تو منشی جی کہتے ہیں ، بھلے مانس نے ایک ہی سوال ایسا کیا ہے کہ ان کا سرا بھی تک چکرا رہا ہے ۔ گوادر کے طلبہ نے خادم پنجاب سے ایسا ہی سوال کر کے ان کو بھی چکرا کر رکھ دیا ، انہوں نے سوال کا کیا جواب دیا ، اس کا تذکرہ تو خبر میںنہیں ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ خادم پنجاب نے جواب دیتے ہوئے جوش خطابت میں ڈائس پر اتنے زور سے ہاتھ مار دیا ہوگا کہ جس مائیکروفون کی وساطت سے ان کا جواب شرکاء محفل کو سنائی دینا چاہیئے تھا وہ ضرور نیچے گر گیا ہوگا اس لیے جواب کیا تھاکچھ پتہ نہیں چل سکا ، طلبہ نے کیا سوال کیا وہ اتنا پیچیدہ سوال بھی نہیں تھا بلکہ نہایت سادہ سا معصومانہ سوال تھاکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ گوادر میں بن رہا ہے اور ترقی لاہور میں ہو رہی ہے۔ طلبہ نے کہا کہ ہمارے پاس پینے کا صاف پانی میسر ہے نہ ہی کپڑے استری کرنے کے لئے بجلی لیکن جب سیاستدان گوادر کا دورہ کرتے ہیں تو لوڈ شیڈنگ ختم ہو جاتی ہے۔ طلبہ نے کہا کہ اورنج ٹرین منصوبہ لاہور میں بن رہا ہے اور چینی زبان سیکھنے کیلئے طالبعلموں کو لاہور سے چین بھیجا جاتا ہے ۔ بیخود دہلوی نے کہا تھا

جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں

تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

ایک وقت تھا جب پاکستانی عوام کو لیڈران کرام اپنی چکنی چپڑی باتوں سے ورغلا نے میں کامیاب ہو جاتے تھے مگر اب وہ دور ختم ہوگیا ۔ پلو ں کے نیچے سے اس قدر پانی گزر چکا ہے کہ اب لہجو ں میں بہت بدلائو آچکا ہے اور اب ہر بات پر ہزاروں سوال اٹھانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی جاتی ۔ اس لیے نہ تو کسی زبان میں کوئی جادو ہے نہ ہی طلسم جس کی وجہ سے جھوٹ پر اعتبار کیا جائے ۔ جہاں تک سی پیک کا تعلق ہے اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ نے جتنے وعدے کئے ، جتنی وضاحتیں کیں ، ان تمام کی حیثیت اس کہانی شیر آیا شیر آیا سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ سی پیک کی رقم لاہور کے اورنج ٹرین منصوبے پر خرچ کی جارہی ہے جس کا اس منصو بے سے درحقیقت کوئی تعلق ہے ہی نہیں اور یہ جو سوال اٹھا یا گیا ہے کہ چینی زبان سیکھنے کے لئے لاہور سے طلبہ کو بیجنگ بھیجا گیا ہے تو اس حوالے سے میں نے اپنے کالم مطبوعہ 5نومبر میں یہی سوال اپنے صوبے کی سیاسی لیڈر شپ کے سامنے رکھتے ہوئے گزارش کی تھی کہ وہ اس بارے میں وفاقی حکومت سے استفسار کریں کہ صرف پنجاب کے طالبعلموں کو ہی کیوں چینی زبان سیکھنے کیلئے چین بھیجا گیا ہے یا ان میں دوسرے صوبوں کے طلبہ بھی شامل ہیں ؟ مگر افسوس کہ آج تک صوبے کی سیاسی قیادت نے وفاقی حکومت سے کوئی استفسار نہیں کیا ۔ اس سے پہلے میں نے کئی بار یہ سوال بھی لیڈر شپ کے سامنے رکھا تھا کہ جب وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اعلیٰ پنجاب چین کے پے درپے دورے کر رہے تھے جن کے دوران سی پیک کے اوریجنل روٹ کو تبدیل کر کے پنجاب کے متبا دل روٹ کو اولیت دی گئی تو ان دوروں کی حقیقت سے انہوں نے آنکھیں کیو ں بند رکھیں اور جب محاورے کے مطابق چڑیاں کھیت چگ گئیں تو اس کے بعد پچھتا نے کا فائدہ کیونکر ہو سکتا تھا ۔

یہ جو گوادر کے طلبہ کو شکایت ہے کہ نہ انہیں پینے کا صاف پانی میسر ہے نہ ہی بجلی مہیا ہوتی ہے کہ وہ کپڑے استری کر سکیں ۔ تو اس پر مجھے پیپلز پارٹی کے ایک اہم رہنما مرحوم حنیف خان نے جب وہ صوبہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر تھے ، بتایا تھا کہ ہمارا علاقہ مالاکنڈ محرومیت کے حوالے سے حرف شکایت تک زبان پر نہیں لا سکتا تھا اور مالاکنڈ پن بجلی گھر سے حاصل ہونے والی بجلی دیگر علاقوں کو تو روشن کرتی تھی مگر بجلی گھر کے آس پاس کے گائوں کے لوگ راتو ں کوگھر وں سے نکل کر دورہی دور سے بجلی گھر کے اندر روشنیوں کی چکا چوند کو دیکھ کر دل ہی دل میں کڑھتے رہتے مگر ان کی زبانیں اپنا حق مانگنے کے لئے ہلنے کی جرات سے عاری تھیں۔ایسی ہی صورتحال خود بلوچستان کے عوام کو درپیش رہی ہے جب سوئی سے نکلنے والی گیس سے سب سے پہلے کراچی شہر اور وہاں کی صنعتیں تو چلائی جاتی تھیں ۔

بعد میں اسے پنجاب تک توسیع دے کر کالا شاکا کو اور فیصل آباد کے کارخانوں کو چلایا جانے لگا یہاں تک کہ جب پاکستان دولخت ہونے کے بعد جب حیات محمد خان شیر پائو شہید مرکز میں قدرتی وسائل کے وزیر مقرر ہوئے تو ان کی مساعی سے سوئی گیس اسلام آباد سے پشاور تک پہنچائی گئی مگر تب بھی بلوچستان کے کسی بھی شہر یہاں تک کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ تک کو سوئی گیس پہنچانے کی سوچ ابھر نہیں سکی تھی ۔گویا اس ملک کے جملہ وسائل پر حق صرف مراعات یافتہ طبقوں اور علاقوں کا ہی ہے اور چھوٹے صوبوں کے عوام کو ان کے وسائل پر حق جتانے کی کوئی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ خیبر پختونخوا کی بجلی کی رائیلٹی میں ابھی تک ایک پائی کی بڑھو تری ہوئی ہے نہ ہی گر گر ی گیس فیلڈ اور کوہاٹ سے ملنے والی گیس پر صوبہ کو تصرف لینے دیا جارہا ہے ۔

متعلقہ خبریں