Daily Mashriq


بھارت کا حاسدانہ رویہ

بھارت کا حاسدانہ رویہ

پاک فوج کے کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے بلوچستان میں فرنٹیئر ہیڈ کوارٹر میں ایوارڈ کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو سی پیک کے خلاف سازشیں ترک کرکے اس کے ثمرات میں شریک ہونے کی دعوت دی ہے ۔جنرل عامر ریاض نے کہا ہے کہ بھارت بھی ایران ،افغانستان ،چین اور وسط ایشیائی ریاستوں کی طرح سی پیک کے ثمرات میں شریک ہوسکتاہے۔جنرل عامر ریاض کا کہنا تھا کہ دوبئی ،لندن اور جنیوا میں بیٹھی ہوئی قیادت کو ملک کو نقصان پہنچانے کے لئے دشمن بھاری فنڈز فراہم کررہا ہے۔جنرل عامر ریاض کے اس بیان کو بھارتی ذرائع ابلاغ نے نمایاں اہمیت دی اور اسے گیم چینجر کے ایک اہم کھلاڑی کی طرف سے اہم اشارہ قرار دیا جارہا ہے ۔پاک فوج کے ایک ذمہ دار افسر کی طرف سے بھارت کو سی پیک میں شریک ہونے کی پیشکش نئی نہیں ۔یہ پیشکش اس وقت بھی موجود تھی جب سی پیک کا منصوبہ ابھی کاغذوں میں ہی تھا اور اس پر عمل درآمد کا آغاز نہیں ہوا تھا مگر بھارت نے اس عظیم منصوبے کی بُو سونگھتے ہی اس کے خلاف سازشوں کا آغاز کیا تھا ۔نوے کی دہائی ابھی شروع نہیں ہوئی تھی کہ کراچی ایک بے نام تشدد کی دلدل میں دھنسنے لگا تھا ۔پھر آٹھ دس سال بعد بلوچستان میں دہشت گرد اور زیر زمین گروہوں نے منظم ہونا شروع کیا تھا ۔وقت نے ثابت کیا کہ بلوچستان میں پرتشدد سرگرمیوں کو بھارت کی درپردہ حمایت حاصل تھی ۔اب ان سرگرمیوں اور تعلق اور تعاون کا اعتراف تشددپسند بلوچ لیڈروں اور بھارت دونوں کی طرف سے کیا جا رہا ہے ۔بھارت کو سی پیک کے منصوبے سے خدا واسطے کی چڑ تھی ۔یہ کوئی عسکری منصوبہ نہیں تھا نہ اس کے سٹریٹجک مقاصد تھے۔ یہ ایک بڑی اقتصادی سرگرمی تھی ۔بھارت نے اس منصوبے کو اپنی انا کا سوال بنالیااور اسے ناکام بنانے کے لئے اپنے پورے وسائل اور توانائی لگانا اور کھپانا شروع کر دی ۔اس کام میں بھارت کو کئی عالمی طاقتوں کی حمایت بھی حاصل ہوگئی جو اس منصوبے کو پاک چین سٹریٹجک تعلقات کے تناظر میں دیکھ رہے تھے ۔بدقسمتی سے ان طاقتوں کو سازشوں کو عملی شکل دینے کے لئے افغانستان کی صورت میں ایک کمیں گاہ میسر آگئی ۔بعد میں حالات کا پانسہ پلٹا اور سی پیک منصوبے کے معاہدے پر دستخط ہو گئے اور یوں گیم چینجر کہلانے والے اس منصوبے پر عمل درآمد کاآغاز ہوگیا ۔بھارت اور اس کے مغربی دوست اب بھی باز نہیں آئے اور وہ اس منصوبے کے خلاف سازشوںمیں مصروف ہیں۔سی پیک کی مخالفت سے بھارت امریکہ اور اسرائیل کو خوش تو کر رہا ہوگا مگر وہ علاقے میں تنہا ہو رہا ہے ۔بھارت سی پیک سے فائدہ اُٹھاسکتا ہے مگر اس کے لئے بھارت میں ایک صاحب بصیرت قیادت کی ضرورت ہے مگر وقت اور حالات نے بھارت کو مسلسل کوتاہ اندیش قیادت کی جانب لڑھکا دیا ہے ۔ بھارت کو خوف ہے کہ اگر وہ پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ بنے گا تو اس کے لئے اسے پاکستان کے ساتھ مفاہمت کو فروغ دینے کے کچھ اقدامات کرنے پڑیں گے جن میں مسئلہ کشمیر سر فہرست ہے ۔پانی سمیت کئی دوسرے معاملات کشمیر پر مفاہمت سے ہی جڑے ہوئے ہیں ۔شاید جنرل پرویز مشرف نے بھارت کو کشمیر پر قابل عمل بنیادوں کی طرف کھینچ لانے کے لئے چار نکاتی فارمولہ پیش کیا تھا ۔بھارت کا دوسر اخوف یہ ہے کہ جب وہ پاک چین اقتصادی راہداری پر انحصار کرتے ہوئے وسط ایشیا اور خلیج کے ساتھ تجارت کا حجم بڑھا لے گا اور بھارت کا پورا انحصار اس راہداری پر ہونے لگے گا تو پاکستان اور چین بھارت کی اس کمزوری کا فائدہ اُٹھانے کے لئے بھارت کو بلیک میل کرنا شروع کردیں گے اور بھارت کی تجارت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہونے لگیں گی ۔اس لئے بھارت کے پاس واحد راستہ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ ہی ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں بھارت کی حساسیت کا عالم یہ ہے کہ چنددن قبل اسلام آباد میں متعین روسی سفیر الیزی ڈیڈوونے ریڈیو پاکستان کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ روس پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ بننے کا خواہش مند ہے اور اس مقصد کے لئے مذاکرات کررہے ہیں۔ٹائمز آف انڈیا نے اسی خبر کو بنیاد بنا کر مضمون باندھا ۔جس کے بعد بھارت کی طرف سے اس قدر دبائو آیا کہ روسی سفیر کو اس خبرکی وضاحت کچھ اس انداز سے کرنا پڑی کہ جس کا مفہوم خبر سے چنداں مختلف نہیں تھا ۔روسی سفیر نے کہا کہ ان کے اصل الفاظ یہ تھے کہ روس یور یشیئن اکنامک یونین سلک روڈ کے چینی منصوبوں کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہے۔اس میں پاک چین اقتصادی راہداری کا ذکر نہیں تھا ،روسی سفیر کا کہنا تھا کہ روس خود بھی پاکستان کے ساتھ کراچی تا لاہور گیس پائپ لائن جیسے بڑے منصوبوں میں شریک کار ہے ۔روس کے سفیر کی وضاحت او ر ریڈیو پاکستان کی خبر میں کچھ زیادہ فرق نہیں، فرق اگر ہے تو وہ اقتصادی راہداری کے معاملے میں بھارت کی حساسیت اور حسد کا ہے ۔جس نے روسی سفیر کو وضاحت کے نام پر چند جملے ادا کرنے پر مجبور کیا ۔بھارت کے اس رویے کو دیکھیں تو وہ سی پیک کے بارے میں حاسدانہ اور معاندانہ رویہ بدلتا ہوا دکھائی نہیں دیتا مگر اس بات کا امکان موجود ہے کہ وقت اور اپنے سرمایہ داروں کا دبائو بھارت کو اس رویے میں تبدیلی لانے پر مجبور کرسکتا ہے ۔

متعلقہ خبریں