افغان استحکام ‘نئے علاقائی لائحہ عمل کی ضرورت

افغان استحکام ‘نئے علاقائی لائحہ عمل کی ضرورت

امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان میں استحکام پاکستان کی ذمہ داری نہیں البتہ افغانستان میں استحکام پاکستان اور امریکہ دونوں کا مقصد ہے۔ افغانستان میں استحکام امریکہ کا مقصد ہے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔ تاہم افغانستان میں استحکام پاکستان کے لیے ضروری ہے۔ افغانستان کی جنگ پاکستان پر مسلط کی گئی ہے جس کی قیمت پاکستان آج بھی چکا رہا ہے ۔ امریکہ نے افغانستان میں سوویت یونین کی شکست کے بعد وہاں استحکام لانے کی کوشش کرنے کی بجائے واپسی اختیار کی جس کی وجہ سے پاکستان میں بھاری پیمانے پر دہشت گردی آئی۔ جو یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ پاکستان نے گوریلا دہشت گردوں کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی جنگ لڑی اور جیتی۔ اس دوران افغانستان میں امریکی فوجیں موجود تھیں اور افغان فوج بھی افغانستان میں امریکہ نواز حکومت بھی تھی اس کے باوجود دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے آپریشن ضرب عضب سے فرار ہو کر افغانستان جانے والوں کے خلاف افغانستان اور امریکہ نے نہ صرف کوئی کارروائی کی بلکہ افغان سرزمین پر انہیں اپنی کمین گاہیں بنانے کی سہولت بھی دی۔ اگر افغانستان کی فوج اور افغانستان میں امریکہ کی فوج کی موجودگی کے باوجود پاکستان سے فرار ہونے والے ہزاروں شدت پسند افغانستان میں موجود ہیں تو یہ ان کو اپنے اڈے قائم کرنے کی سہولت دینا نہیں تو اور کیا ہے؟ افغانستان کی سرزمین سے یہ شدت پسند پاکستان آ کر دہشت گرد حملے کرتے ہیں اور امریکی اور افغان فوجیں انہیں روکنے کی کوشش نہیںکرتیں اُلٹا امریکہ اور افغانستان کا حلیف بھارت کو افغانستان میں بھرپورسہولت ہے کہ وہ ان شدت پسندوں کو اسلحہ ‘ گولہ بارود ‘ سرمایہ اور تربیت فراہم کرے۔ اس کے لیے افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے قریب بھارت کے 16قونصل خانے ہیں شاید دنیا کے کسی اور ملک میں کسی ملک کے اتنے قونصل خانے نہیں ہیں۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے پاکستان مخالف شدت پسندوں کی اعانت اور رہنمائی کرتی ہے۔ افغانستان سے جب افغان سرزمین میں پاکستان مخالف عناصر کے اڈوں کی شکایت کی گئی تو افغان حکمرانوں نے جواب دیا کہ اس علاقے پر افغانستان کا کنٹرول نہیں ہے۔ کیا افغانستان میں مقیم امریکی فوج ان علاقوں پر افغانستان کی عملداری قائم کرنے میں مدد نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہوتا جب امریکہ کا ایجنڈا افغانستان میں استحکام پیدا کرنے کا ہوتا۔ آج افغانستان کے وزیر داخلہ وئیس برمک کہتے ہیں کہ افغانستان میں پاکستان مخالف دہشت گردوں کے کوئی اڈے نہیں ہیں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا افغان وزیر داخلہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ افغانستان کی ساری سرزمین پر افغان حکومت کی رٹ ہے۔ کیا اس طرح وہ اپنے ہی صدر کے بیان کی نفی نہیں کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں امریکہ کے نائب صدر کابل کے قریب بگرام کے ہوائی اڈے پر امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں اور پاکستان ان کو ختم کرے اور اس کے باوجود کہتے ہیں جب پاکستان کی طرف سے یہ پیش کش موجود ہے کہ امریکہ پاکستان میں دہشت گردوں کے اڈوں کی نشاندہی کرے تو پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔ لیکن امریکہ نے آج تک کسی اڈے کی نشاندہی نہیں کی۔ نہ کوئی انٹیلی جنس فراہم کی ہے کیونکہ پاکستان میں دہشت گردوں کے اڈے ختم کیے جا چکے ہیں۔ لیکن افغان وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ افغان حکومت نے پاکستان کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کی ہیں جو افغانستان میں حملہ آور ہوتے رہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو پاکستان ان اڈوں کے خلاف کارروائی کر چکا ہوتا۔سوال یہ ہے کہ آیا افغانستان ایسی پیش کش کر سکتا ہے کہ اگر پاکستان افغان سرزمین میں پاکستان مخالف دہشت گردوں کے اڈوں کی نشاندہی کرے تو وہ ان کے خلاف کارروائی کرے گا؟ کیا امریکہ ایسی پیش کش کرسکتا ہے کہ وہ افغانستان میں جہاں اس کی فوج موجود ہے پاکستان مخالف دہشت گردوں کے اڈوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ ایسے اڈوں بلکہ اس وسیع علاقے کی نشاندہی جہاں پاکستان مخالف عناصر موجود ہیں پاکستان کر چکا ہے اور افغانستان یہ جواب دے چکا ہے کہ وہ ان اڈوں کے خلاف کارروائی سے قاصر ہے کیونکہ اس علاقے میں اس کا کنٹرول نہیں ہے حالانکہ افغانستان میں امریکی افواج بھی موجود ہیں۔ افغانستان کی حالیہ تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ امریکہ کی دلچسپی افغانستان میں استحکام لانے کی نہیں بلکہ اس کے برعکس ہے۔ حقائق سے یہ ثابت ہے کہ امریکہ بھارت کو ساتھ ملا کر افغانستان میں عدم استحکام میں شدت لانے کی طرف بڑھ رہا ہے اور افغانستان کی کمزور حکومت ان کے ساتھ کشاں کشاں چلنے پر مجبور ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان اور ایشیاء کے ممالک کے لیے پالیسی کا مقصد بھی ان ممالک خاص طور پر پاکستان کو دباؤ میں رکھناہے۔ اس پالیسی کے مقاصد عیاں ہونے کے بعد خطے کے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ افغانستان میں عدم استحکام کی صورت حال سے پیدا ہونے والے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے اپنے طور پر لائحہ عمل تیار کریں۔ اسلام آباد میں افغانستان‘ ایران ‘ ترکی‘ چین اور روس کے منتخب ایوانوں کے سپیکروں کی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ یہ کانفرنس موقع فراہم کرتی ہے کہ خطے کے یہ ممالک اپنے طور پر افغانستان اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مربوط لائحہ عمل تیار کریں تاکہ افغانستان میں ایسا امن قائم ہو جو افغان عوام کا قائم کردہ امن ہو۔ افغانستان میں افغانوں کا قائم کیا ہوا امن ہی افغانستان میں استحکام لا سکتا ہے اور اسی صورت میں خطے کے ممالک افغانستان کے موجودہ عدم استحکام سے ابھرنے والے خطرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

اداریہ