Daily Mashriq

کلبھوشن یادیو کی ملاقات

کلبھوشن یادیو کی ملاقات

آج پاکستان میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش منایا جا رہا ہے جو جمہوریت اور انسانی حقوق کے عظیم علم بردار تھے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسیحی آج حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یومِ پیدائش منا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارت کے گرفتار جاسوس اور تخریب کار کی ملاقات اس کی اہلیہ اور والدہ سے کرائی جا رہی ہے۔ اس ملاقات کا مطالبہ بھارت کی طرف سے آیا تھا جس پر پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنا پر اجازت دے دی لیکن اس کے بعد بھارت کی طرف سے لیت و لعل شروع ہو گئی تھی۔ پہلے مطالبہ صرف اہلیہ سے ملاقات کا تھا پھر والدہ سے ملاقات کامطالبہ بھی کیا گیا۔ یہ مطالبہ بھی پاکستان نے منظور کر لیا تو آخری وقت تک بھارت سے اس کی توثیق نہ آئی۔ آخر گزشتہ شب بھارت کی طرف سے کہا گیا کہ کلبھوشن کی والدہ ‘ اہلیہ اور بھارتی دفتر خارجہ کا ایک افسر کلبھوشن یادیو سے ملاقات کے لیے آج صبح اسلام آباد پہنچیں گے۔ کلبھوشن یادیو کئی سال تک پاکستان میں جاسوسی ‘ دہشت گردی اور تخریب کاری کی کاروائیاں منظم کرتا رہا ہے جن کا اس نے اعتراف کیا ہے۔ یہ اعتراف اس نے جنیوا کنونشن کے تحت جان بچانے کے لیے کیے تاکہ اسے مقدمہ لڑنے کی مہلت مل جائے۔ کلبھوشن کی سرگرمیوں کا مرکز بلوچستان اور سندھ کی ساحلی پٹی تھی۔ وہ بھارتی بحریہ کا ایک سینئر افسر تھا اس کے بیانات جب سامنے آئیں گے تو یہ اندازہ کرنا مشکل نہ ہو گا کہ پاکستان بحریہ کے جدید ترین آلاتِ نگرانی سے لیس طیاروں کو نشانہ بنانے کی وارداتوں میں بھی اس کا ساتھ تھا۔ اربوں روپے مالیت کے یہ طیارے زیرِ آب آبدوزوں کی نشاندہی اور انہیں ہدف بنانے کی صلاحیت سے لیس تھے۔ ان مقاصد کے لیے اس نے ایران کو اپنا مستقر بنایا اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان بھی آتا جاتارہا اور پاکستان میں علیحدگی پسندوں کی تنظیم قائم کرنے اور ایسے عناصر کو اسلحہ اور سرمایہ پہنچانے کا کام کرتا رہا۔ اس پس منظر کے ساتھ لازمی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے شخص کو اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کی سہولت کیوں دی جا رہی ہے۔ لیکن یہ ملاقات انسانی بنیادوں پر کرائی جا رہی ہے ۔ اس ملاقات کے باعث بھارت کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ تاہم بھارت کا یہ پروپیگنڈا باطل ہو جاتا ہے پاکستان ایک انسان کو جسے موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اپنی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دے رہا۔ دوسرے بھارتی میڈیا کے یہ الزامات غلط ثابت ہو جاتے ہیں کہ پاکستان میں گرفتار بھارتی نیوی کا افسر کلبھوشن نہیں کوئی اور ہے۔ بھارتی میڈیا میں ہی یہ الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ پاکستان میں کلبھوشن یادیو پر جسمانی تشدد ہوا ہے اور بعض بھارتی اخبارات کے مطابق کلبھوشن یادیو محض پروپیگنڈا ہے، پاکستان کے پاس اس نام کا کوئی جاسوس نہیں ہے۔ اس ملاقات سے کلبھوشن کا زندہ وجود ثابت ہو جائے گا اور پاکستان کی اخلاقی برتری ثابت ہوگی کیونکہ جب بھارت میں ممبئی واردات کے بعد بھارت نے اجمل قصاب کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ پاکستانی ہے تو بھارت نے پاکستان کی درخواست پر اجمل قصاب تک پاکستان کے دفتر خارجہ کو رسائی دینے سے انکار کردیا تھا۔ بھارت نے بند کمرے میں اجمل قصاب کے مقدمے کی سماعت کی ‘ اسے وکیل کرنے کی اجازت بھی نہیں دی۔ بھارتی وکیل صفائی بھارتی وکیل استغاثہ اور بھارتی عدالت نے اس کو موت کی سزا دی اور اس پر عمل درآمد بھی کیا۔ اب جب کلبھوشن یادیو کی ملاقات اس کی اہلیہ اور والدہ سے کروائی جا رہی ہے اور بھارت کے دفتر خارجہ کے ایک افسر کو بھی اس تک رسائی دی جا رہی ہے تو دنیا کے سامنے اجمل قصاب کے حوالے سے بھارت کا رویہ بھی اجاگر کیا جانا چاہیے۔ اور دہشت گردوں سے اس کے رابطوںپر سے بھی پردہ اٹھایا جانا چاہیے جن کی کارروائیوں سے سینکڑوں بے گناہ جاں بحق ہوئے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اسلام آباد کے دفتر خارجہ میں کلبھوشن کی جو اس کے اہل خانہ اور بھارتی سفارتی افسر سے ملاقات کرائی جا رہی ہے اس میں یہ یقینی بنایا جائے گا کہ اس کی زندگی کے لیے خطرے کا باعث کوئی کام نہ ہو سکے۔

اداریہ