جمہوریت صاحب

جمہوریت صاحب

میںنہیں جانتی تھی کہ جمہوریت کی کوئی مجسم صورت بھی ہوتی ہے ۔ ہمیں تو یہی معلوم تھا کہ لوگ اپنی پسند کے نمائندوں کوووٹ دیتے ہیں۔ انہی نمائندوں میں سے اکثریت حکومت بناتی ہے ۔ ان کے فیصلے عوام کی پسند نا پسند پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اور انکے اپنے مستقبل پر بھی۔ جمہوریت کی بس اتنی ہی کہانی ہے لیکن پاکستان میں ہر بات ہمیشہ ہی نرالی ہوتی ہے ۔ اسی لیے ہماری جمہوریت بھی نرالی ہے ۔ ایک صاحب ہیں جنہیں انکی بد عنوانی کے نشان ملنے کے نتیجے میں نااہل کیا گیا ہے ۔ وہ صاحب اس ملک کے گزشتہ وزیر اعظم ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ جمہوریت شاید انہی کا دوسرا نام ہے ۔ اگر کوئی اور جمہوریت ہو سکتا ہوتا تو بھلا ان کا نام جمہوریت کیوں ہوتا ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا اقتدار میں ہونا دراصل پاکستان میں جمہوری حکومت ہونا ہے ۔ انہیں اقتدار سے فارغ کر دیا گیا ہے تو جمہوریت فارغ ہوگئی ہے ۔ وہ بذات خود جمہوریت ہیں اسی لیے وہ جو بھی کچھ کرتے رہے ہیں وہی جمہوریت ہے اور وہ جمہوریت کے تقاضے تھے ۔ بد عنوانی کے نام پر جمہوریت کو جو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے پاکستان کی جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان ہورہا ہے ۔ وہ حیران ہیں کہ عدالتیں اور اپوزیشن جماعتیں ایسی نا قص العقل کیسے ہو سکتی ہیں کہ جمہوریت کو پہچان ہی نہ سکیں ۔ انہیں یہ بھی حیرت ہے کہ اپوزیشن کو یہ بھی اندازہ نہیں ہے کہ ’’وہ یعنی جمہوریت نہ ہوئی تو اپوزیشن کی کوئی پوزیشن نہ ہوگی ۔

جمہوریت صاحب کے چہرے کی حیرت دیدنی ہے ۔ وہ بیچارے چیخ چیخ کر پاکستان کے مفاد کے لیے پوچھتے ہیں کہ ’’مجھے کیوں نکالا ‘‘۔ توکم فہم لوگ اور مخالفین ہنستے ہیں ۔ مذاق اڑاتے ہیں ۔ جمہوریت صاحب ہمیں اس خواب غفلت سے جگانا چاہتے ہیں ۔ لیکن ہم ایسے ناہنجار ہیں کہ کچھ سمجھتے ہی نہیں ۔ وہ ہمیں بار بار جھنجوڑ تے ہیں لیکن ہم کچھ سمجھتے ہی نہیں ہم ایسے ہی نادان ہیں ۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ جمہوریت صاحب نے اس ملک و قوم کو بچانے کا ٹھکیہ بھی لے رکھا ہے ۔ اس لیے انہوں نے ایک نیا فیصلہ کیا ہے ۔ اگر چہ یہ فیصلہ انہوں نے بادل نخواستہ کیا ہے لیکن ملک و قوم کے لیے کئی بار مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں ، کئی بار ایک قدم پیچھے بھی اٹھانا پڑتا ہے یہ بھی حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے ۔ سو انہوں نے بھی اس ملک و قوم کی بھلائی کے لیے ایسا ہی اقدام کیا ہے۔ وہ خود جمہوریت ہیں اس لئے انہیں معلوم ہے کہ ان کے علاوہ ان کا چھوٹا بھائی ہی کسی قدر جمہوریت ثابت ہوسکتا ہے۔اس لئے اب وہ ملک کا اقتدار اپنے چھوٹے بھائی کو سونپنا چاہتے ہیں۔وہ جمہوریت ہیں تو چھوٹا بھائی چھوٹی جمہوریت تو ہوگا۔
بیٹی ان کا تخت لاہور سنبھالنے کی کوشش کرے گی اور بھتیجا راولپنڈی میں شیخ رشید کے مقابلے میں اتارا جائے گا۔ امکان یہی ہے کہ بھتیجے کو بری طرح شکست کا سامنا ہوگا اور چھوٹی جمہوریت اگر ماڈل ٹائون کیس سے بچ گئی تو شاید امکانات میں کچھ بہتری محسوس ہو۔ پیپلز پارٹی جلسے تو کر رہی ہے لیکن ابھی ان میں ققنس بن سکنے کی کوئی کیفیت دکھائی نہیں دیتی۔ سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ بڑی اور چھوٹی جمہوریت میں اقتدار کا یہ تبادلہ کس حد تک کامیاب ہوگا اور کیا یہ تبادلہ ممکن بھی ہوگا یا نہیں۔ معاملات میں جس بگاڑ کی طرف بڑی جمہوریت صاحب نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کے بارے میں انہیں بہت متفکر اور مشوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کاخیال ہے کہ انہیں چھیڑا جا رہا ہے تو ملک میں جمہوریت کو چھیڑا جا رہا ہے۔ جانے وہ کس ذہنی پریشانی اور بیماری کا شکار ہیں۔ شاید وہ حقیقتاً اسی وہم کو سچ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ کسی مغل بادشاہ جیسے ہیں۔ تبھی تو ملک میں تعلیم‘ ٹرانسپورٹ پالیسی جیسے چھوٹے کاموں کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ وہ بڑے بڑے تعمیراتی کام کرواتے ہیں۔ پہلے موٹر وے بنوا رہے تھے ‘ کمیشن کھا رہے تھے۔ اب میٹرو کے پیچھے لگے ہیں۔ پنجاب میں ان کے حواری زمینوں سے اپنی زندگیاں بنا ر ہے ہیں اور ان کے یہ حواری سیاسی بھی ہیں‘ بیوروکریسی میں بھی۔ کمال یہ ہے کہ اس ماڈرن مغل بادشاہ نے اپنی صورت میں اس ملک کو ایک بہترین مستقبل دینے کی کوشش کی ہے لیکن ہم لوگ ہی بے وقوف ہیں۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ ملکی وسائل پر بادشاہ کا حق ہوتا ہے۔ اگر وہ ملک میں کام کرواتا ہے تو دراصل اپنی رعایا پر احسان کر رہا ہوتا ہے۔ ہم نے بادشاہ جمہوریت صاحب کے احسانات کی تو پرواہ نہیں کی الٹا انہیں بد عنوانی کا مجرم قرار دے دیا۔ اب اس بے وقوف قوم کو وہ کیسے سمجھائیں کہ اپنے ہی وسائل سے کوئی بد عنوانی کیسے کرسکتا ہے۔ اب وہ اپنے چھوٹے بھائی‘ چھوٹی جمہوریت کو اپنا والی وارث بنا رہے ہیں تو ہمیں اپنی عقل کو حاضر رکھنا چاہئے اور یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہم جمہوریت صاحبان کے شکر گزار ہوں۔ اپنی قسمت پر نازاں ہوں۔ انہیں بطور وزیر اعظم قبول کریں۔ جمہوریت صاحب کی جو صاحبزادی ہیں انہیں ننھی جمہوریت کے طور پر تہہ دل سے قبول کریں۔ ان کے مشکور ہوں اگر ہمارے بادشاہ نہ ہوتے تو یہ سب کیسے ہوتا۔ جمہوریت پوری دنیا میں کہیں مجسم صورت میں موجود نہیں، صرف ہمارے ہاں ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے اور اس اعزاز کو ہمیں اپنے سر آنکھوں پر سجانا چاہئے۔ ہمیں اپنی قسمت پر رشک کرنا چاہئے کہ ایسی نادر جمہوریت صرف ہمارے ہاں ہے کہیں اور نہیں۔ ایسی جمہوریت تو کتابوں میں بھی پڑھنے کو نہیں ملتی جس جمہوریت کی داغ بیل ہمارے ان شہ دماغ حکمرانوں نے ڈالی ہے۔ اس کی حفاظت ہمیں جان و دل سے کرنی چاہئے کہ کہیں یہ ہم سے روٹھ نہ جائے اور پھر ہمیں نصیب نہ ہو۔ خدا تعالیٰ کے سامنے اپنا سر جھکائیے ہمیں نوازا گیا ہے۔

اداریہ